
میرے پیارے بچے: میری بات غور سے سنو!
جب آپ کا استاد آپ سے کہتا ہے اپنا ہوم ورک یا اپنا سبق یاد کر کے آنا تو ایسا کیوں ہے؟
یقینا آپ کا یہی جواب ہوگا تاکہ میں تعلیم یافتہ اور پڑھا لکھا انسان بن سکوں۔
جب والدین اپنے بچوں سے کہتے ہیں کہ پیٹ بھر کر کھانا کھاؤ تو اس کا کیا مطلب ہے؟
تو آپ کہیں گے: تاکہ ہم طاقتور انسان بن سکیں۔
اگر میں آپ سے پوچھوں کہ پارک یا سڑک پر جو درخت اور پودے ہوتے ہیں ان کو کیوں مالی پانی اور کھاد وغیرہ دے رہا ہوتا ہے؟ وہ تو بابا اس لیے تاکہ پودے نشوونما کر سکیں اور مرجھائیں نہیں۔
دیکھو میرے بچے! اگر خدا نےہمیں نماز پڑھنے کا کہا ہے تو اس کا فائدہ ہمیں ہی ہے۔
نماز دل کی نورانیت اور روح کی پاکیزگی کا باعث بنتی ہے۔ نماز ہی باعث بنتی ہے کہ ہم زندگی میں اچھے انسان، مہربان اور خوش اخلاق بن سکیں۔
حضرت محمدؐ نے نماز کو ایک دریا سے تعبیر کیا ہے تاکہ ہم روزانہ 5بار اپنے آپ کو اس میں اپنی غلاظتوں اور گندگی کو صاف کرسکیں۔
لہذا جو نماز پڑھتا ہے وہ ہر روز پانچ بار دن میں خدا سے بات چیت کرتا ہے وہ کم ہی جھوٹ بولتا، دوسروں کو اذیت دیتا اور وہ کم ہی گالیاں نکالتا ہے۔ خدا ہی ہے جو نمازی کی اچھے اور نیک کام انجام دینے میں مدد کرتاہے۔
🔹 خداوند قرآن میں فرماتا ہے:
اگر نمازی کوئی گناہ انجام دیتا ہے تو اسی نماز کی برکت سے آہستہ آہستہ برے کاموں کو چھوڑ دیتا ہے اور توبہ کر لیتا ہے۔
رسول اکرمؐ کے دور میں ایک جوان تھا جو رسولٌ کی اقتدا میں نماز پڑھتا تھا لیکن بعض اوقات برے کام بھی کرتا تھا۔ کچھ لوگ رسولؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے:
یا رسول اللہؐ! یہ جوان بعض اوقات برے کام کرتا ہے۔
رسول اللہؐ نے جواب دیا: ایک دن نماز ہی اس کے برے کاموں کو چھوڑنے کا باعث بنے گی اور اسی طرح ہوا۔ اس جوان نے کچھ عرصے بعد توبہ کی اور ان برے کاموں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
میرے پیارے بچے! خدا کو ہماری نماز کی ضرورت نہیں بلکہ یہ ہم جنہیں خوشبختی اور سعادت تک پہنچنے کےلیے نماز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر سارے لوگ کافر ہو جائیں تب بھی خدا کی خدائی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جس طرح پھول کو پانی اور روشنی وغیرہ نہ ملے تو وہ مرجھا جاتا ہے اسی طرح ہم بھی اگر نماز نہ پڑھیں تو ہمارا دل مردہ اور ہماری روح سیاہ ہو جائے گی اور ہم خدا کی دوستی اور اس کے ساتھ گفتگو سے محروم ہو جائیں گے۔


































