
حزب اللہ کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ لبنان کے خلاف کسی قسم کی حماقت کی صورت میں دندان شکن جواب دیا جائے گا۔ مہرنیوز کو انٹرویو میں شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل کی تشکیل کا بنیادی مقصد خطے میں صیہونیوں کو مسلط کرنا تھا تاکہ عالمی استکبار اپنے مفادات کی بہتر نگرانی کرسکے۔ طوفان الاقصی گذشتہ 75 سالوں کے دوران ہونے والے اسرائیلی مظالم کا ایک جواب تھا۔ اسرائیل نے فلسطینی شہروں اور قصبوں پر قبضہ کررکھا تھا۔ کسی کے اندر اس کو جواب دینے کی ہمت نہ تھی۔ طوفان الاقصی نے خطے کے عوام کے ذہنوں پر گہرے اثرات چھوڑے۔ انہوں نے کہاکہ غاصب صیہونی حکومت کا دعوی یہ ہے کہ وہ خطے کی واحد طاقت ہے جو کسی بھی ملک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتی ہے۔ اسرائیل کسی دوسرے کو سر اٹھانے نہیں دیتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں کیا صیہونی حکومت مقاومتی تنظیموں کو برداشت کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ اگر امریکہ مدد نہ کرتا تو طوفان الاقصی کے بعد اسرائیل چند دن بھی مقابلہ نہ کرپاتا۔ امریکی وسیع حمایت کے باوجود صیہونی حکومت دفاعی اور اقتصادی لحاظ سے نہایت کمزور ہوچکی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جنگ کے بعد صیہونی حکومت کے لئے بنیادی خطرات ایجاد ہوں گے۔ صیہونی حکومت کے لئے مقاومتی تنظیموں کے ساتھ صلح کے ساتھ رہنے کا آپشن باقی نہیں رہے گا کیونکہ مقاومت ایک طاقت بن چکی ہے جس کو شکست دینا صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔


































