
سری نگر: مقبوضہ کشمیر کے نام نہاد الیکشن میں ہندو انتہا پسند پارٹی بی جے پی تمام تر سرکاری وسائل استعمال کرنے کے باوجود اکثریت حاصل نہیں کرسکی۔ کانگریس اور نیشنل کانفرنس مل کر حکومت بنائیں گے۔ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ ایک بار پر وزیراعلیٰ بنیں گے انہوں نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کانگریس حکومت پہلے کابینہ اجلاس میں ہی جموں و کشمیر کی حیثیت کی بحالی کے مطالبہ پر مبنی قرارداد پاس کرے گی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کابینہ کا پہلا کام ہونا چاہئے کہ وہ ایک قرارداد پاس کرے جس میں مرکز سے جموں و کشمیر کی حیثیت بحال کرنے کا کہا جائے۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ کو قرارداد کے ساتھ دہلی کا سفر کرنا چاہئے اور حکومت سے حیثیت بحال کرنے کے لئے کہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی حیثیت کی بحالی کا وعدہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور دیگر نے کیا تھا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ کشمیر کا درجہ صرف اسی وقت بحال کیا جائے گا جب کشمیر میں بی جے پی کی حکومت بنے گی۔ نشینل کانفرنس کے نائب صدر نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی آرٹیکل تین سو ستر کی بحالی کے اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوگی۔ اس پر ہمارا موقف کبھی نہیں بدلے گا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ نئی دہلی کے ساتھ مقابلہ آرائی سے کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے حکومت بننیں دیں یہ سوال وزیر اعلیٰ سے پوچھا جانا چاہئے۔ دلی کے ساتھ اچھے تعلقات سے جموں وکشمیر کے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔


































