
تحریر: احسان احمدی
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امریکی سینیٹ میں اجلاس کے دوران شام میں ابو محمد الجولانی کی عبوری حکومت کے خاتمے کے امکان کے بارے میں خبردار کیا۔ روبیو، جنہوں نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی، کہا کہ امریکہ کا اندازہ یہ ہے کہ شام کی موجودہ حکومت ممکنہ خاتمے سے "ہفتے، مہینے نہیں” دور رہ سکتی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اس سے شام کے اندر ’’مکمل پیمانے پر خانہ جنگی‘‘ شروع ہوسکتی ہے۔ روبیو نے اس تشخیص کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ سینیئر امریکی سفارت کار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب شام بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد علوی اور دروز اقلیتوں پر خونریز حملوں کا منظر پیش کر رہا ہے۔
مارکو روبیو نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں کہا کہ شام میں اس وقت "گہرا اندرونی عدم اعتماد” موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب شام غیر مستحکم ہو جاتا ہے تو مشرق وسطیٰ کا پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا یہ بیان ٹرمپ اور جولانی کی اس ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں صدر ٹرمپ نے شامی صدر الشرع سے اپنی ملاقات کو "بہت اچھی” قرار دیا اور شامی ہم منصب کو "طاقتور شخصیت” کہا۔ ٹرمپ کے مطابق "الشرع کے پاس بہت صلاحیتیں ہیں۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے صدر الشرع سے ملاقات میں امریکہ سے ان کی مدد کی اپیل کو قبول کیا، تاکہ داعش کی واپسی کو روکا جا سکے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے شامی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام غیر ملکی جنگجوؤں کو شام چھوڑنے کا حکم جاری کریں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق، ٹرمپ نے احمد الشراع پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائیں۔ اگرچہ امریکی انتظامیہ کے کچھ حلقوں کو احمد الشرع کے القاعدہ سے ماضی کے روابط پر تحفظات تھے، تاہم ٹرمپ نے ریاض میں ایک خطاب کے دوران کہا کہ شام پر عائد تمام پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ ایک بڑی پالیسی تبدیلی ہے۔
واضح رہے کہ احمد الشرع ماضی میں شام میں القاعدہ کے مرکزی دھڑے کے رہنماء رہ چکے ہیں اور عراق میں پانچ سال امریکی قید میں بھی گزار چکے ہیں۔ امریکہ نے دسمبر 2024ء میں ان کے سر کی ایک کروڑ ڈالر کی انعامی رقم واپس لے لی تھی۔ اگر امریکہ شام کا معاملہ بہتر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تو شام پر بمباری کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ سب شامی عوام کے وسائل کو لوٹنے کے کھیل سے زیادہ کچھ نہیں۔ شام کی تقسیم اب نوشتہ دیوار ہے۔ اسرائیل دمشق سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ گیا ہے۔ اب اگر شام 2011ء میں واپس آنا چاہتا ہے تو اسے 70 سال لگیں گے۔
صیہونی حکومت کے حکام نے دمشق میں سیاسی اقتدار کی تبدیلی کے بعد کھل کر کہا کہ صیہونی حکومت شام کے شمال مشرق اور جنوب میں کرد اور دروز اقلیتوں کی اسلام پسند گروہوں کے خلاف حمایت کرتی ہے۔ شام کے جنوب میں صیہونی جنگی مشین کی نقل و حرکت اور ان علاقوں میں بعض مشتبہ سیاسی پروپیگنڈے اس عرب ملک کو تقسیم کرنے کے لیے تل ابیب کے منصوبے کو ظاہر کرتے ہیں۔ صیہونی سکیورٹی پلان کے مطابق السویدہ اور قنیطرہ کے صوبوں میں دروز اقلیت کو مشتعل کیا جائے اور ان دونوں صوبوں کی شام سے علیحدگی کے لیے میدان تیار کیا جائے۔ بہرحال امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا یہ بیان ایک انتباہ سے کم نہیں، وہ اس طرح کے بیانات سے رائے عامہ کے اذہان کو تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ مستقبل میں جب شام کی تقسیم کا امریکی اسرائیلی دیرینہ منصوبہ عملی جامہ پہنے تو اس کا ذمہ دار امریکہ کو نہ ٹھہرایا جائے۔


































