
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم نے دعویٰ کیا ہے کہ دمشق پر حکمرانی کرنے والے باغیوں کے رہنماء اور خود کو ملک کا عبوری صدر قرار دینے والے ابو محمد الجولانی کسی بھی لمحے اپنی جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں اور ان کے علاوہ لبنان کے صدر جوزف عون کی پوزیشن بھی غیر مستحکم تصور کی جا رہی ہے۔ یہ دو مسائل ایسے ہیں، جنہوں نے اخبار کے مطابق اسرائیل کے لیے سنگین سکیورٹی چیلنجز پیدا کر دیئے ہیں۔ اسرائیل ہیوم نے شام کے ساتھ نئے سکیورٹی معاہدے کے مسودے میں امریکہ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد صرف اسرائیل کے مفادات کو محفوظ بنانا نہیں ہے، بلکہ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاہدہ جولانی حکومت کے مفادات کے مطابق بھی ہے۔ "ایک ایسا نظام جو اپنی قانونی حیثیت کو دوبارہ مستحکم کرنے اور مالی وسائل کو محفوظ بنانا چاہتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ ان اہداف کے حصول کا اہم راستہ واشنگٹن اور تل ابیب کے ساتھ تعاون میں ہی ہے۔”
عبرانی زبان کے میڈیا نے اس بات پر زور دیا کہ جولانی حکومت اسرائیل کی سلامتی کے مطالبات ماننے کے لیے تیار ہے۔ جس میں جہادی گروپوں کو سرحدوں سے دور رکھنا، دروز اقلیت کی حمایت کرنا اور کسی بھی ایسی فوجی تشکیل سے پرہیز کرنا، جو اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ صیہونی میڈیا کے اس آؤٹ لیٹ نے شام اور ترکیہ کے درمیان میل جول پر خبردار کیا اور تجزیہ کیا کہ یہ عمل الجولانی کے ترک صدر رجب طیب اردوگان کے ساتھ ساتھ قطر کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ بن سکتا ہے، جس سے اسرائیل کے خلاف خطرات بڑھ سکتے ہیں، جو ایرانی شیعہ محور کی جگہ ایک بنیاد پرست سنی محور کو متبادل کے طور پر لا سکتا ہے، جو لامحالہ اسرائیل کے لئے اہم خطرہ بن سکتا ہے۔ ان خطرات کے باوجود اسرائیل ہیوم کا خیال ہے کہ شام اور لبنان میں حالیہ معاہدوں کے سکیورٹی فوائد اس عمل کو قابل قبول بناتے ہیں۔
لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ "اگر سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو ان دونوں ممالک کی خونی تاریخ دہرائی جا سکتی ہے۔” اخبار نے حکومتوں اور اداروں کے ساتھ معاہدے کرنے کی ضرورت پر زور دیا، نہ کہ افراد کے ساتھ۔ اخبار نے سیاسی اور سکیورٹی تعاون کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ، فرانس اور بعض عرب ممالک سے ثالثی کا مطالبہ کیا۔ آخر میں، اسرائیل ہیوم نے دعویٰ کیا کہ شام اور لبنان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے محتاط سفارت کاری کے ساتھ ممکن ہیں۔ گولانی اس وقت پورے شام پر اپنی حاکمیت قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ تل ابیب ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تل ابیب کی شرائط کو قبول کرنے کے لیے شامی حکومت کو یہ قبول کرنے کی ضرورت ہے کہ جنوبی شام، فلسطینی اور اردن کی سرحدوں سے لے کر الکسواح کے علاقے تک، خصوصی حفاظتی انتظامات کے تحت رکھا جائے اور شام کے فوجی طیاروں کو علاقے پر پرواز کرنے سے منع کیا جائے۔
اس کے بدلے میں صیہونی حکومت کو اپنے طیاروں کی نقل و حرکت کی مکمل آزادی رہے، نہ صرف جنوب میں، بلکہ کسی بھی علاقے میں وہ اپنی حفاظت کی بنیاد پر جہاں چاہیں پرواز کرسکیں۔ اگرچہ دمشق نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی امریکی اور صیہونی درخواستوں کا مثبت جواب دیا ہے، لیکن وہ اور اس کے حامیوں کو یہ احساس نہیں ہے کہ ان کے پاس شامی ریاست کا مکمل اختیار نہیں ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے میں ایک کلیدی شق ہے، جسے نہ تو گولانی اور نہ ہی اسرائیل یا امریکی منظر عام پر لائیں گے اور وہ یہ ہے کہ جولانی اور ان کی ٹیم جنوبی شام میں صیہونی حکومت کے خلاف لڑنے والے گروہوں کی تشکیل کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے "جو بھی ضروری ہو” کرنے کا عہد کرچکی ہے۔
صہیونی، جولانی کو شام میں کسی بھی سرگرمی کو روکنے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے اس سے کہا ہے کہ وہ پورے شام میں اپنی سکیورٹی فورسز کو تعینات کریں اور ہر ایسے شخص کو گرفتار کریں، جس سے اسرائیل کو معمولی سا بھی خطرہ ہو۔ اسرائیل کا حکم ہے کہ شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کی صورت حال کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ حماس اور اسلامی جہاد جیسی تحریکوں کے کسی بھی عنصر کو دمشق میں سیاسی، میڈیا یا فوجی سرگرمی کرنے کی اجازت نہ ہو۔ انہی اقدامات کی وجہ سے جولانی حکومت نے گذشتہ چھ ماہ کے دوران اپنے حامیوں کے درمیان اپنی ساکھ کو کھو دیا ہے۔ جولانی کے اقتدار کے دن گنے جاچکے ہیں، وہ اپنوں یا غیروں کے ہاتھوں کسی بھی وقت منظر عام سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی میڈیا اس کے مارے جانے کے امکانات کے بارے میں تبصرے کر رہا ہے۔
دوسری طرف لبنانی صدر کے بارے میں بھی اسی طرف کے تبصرے جاری ہیں۔ ایسے وقت میں جب "حزب الله” کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے امریکہ کی جانب سے لبنان پر بہت زیادہ دباو ہے، آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد اور شہریوں کے بے گناہ خون بہنے کے خطرے کے پیش نظر لبنانی آرمی چیف نے اپنا عہدہ چھوڑنے کی دھمکی دے دی۔ اسی سلسلے میں روزنامہ الاخبار نے رپورٹ دی کہ لبنانی آرمی چیف جنرل "روڈولف هیکل” نے امریكی وفد سے ملاقات اور دباو كی پالیسی كے بعد اپنے قریبی حلقوں میں كہا كہ حزب الله كو زبردستی غیر مسلح كرنے كے منصوبے اور بے گناہ عوام كا خون بہنے كے خطرے كی وجہ سے وہ استعفٰے دینے كو ترجیح دیں گے۔ اسی دوران چیف آف سٹاف، كور كمانڈرز اور سكیورٹی و انٹیلجنس سربراہان نے حزب الله كو غیر مسلح كرنے كے منصوبے كی مخالفت كر دی۔ وہ سمجھتے ہیں كہ فوج، اس منصوبے پر عملدرآمد كروانے كے لئے ضروری صلاحیت نہیں رکھتی اور اس سلسلے میں کسی بھی جلد بازی کے ملک پر خطرناک اثرات پڑیں گے۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینے میں امریکہ نے حزب الله کو غیر مسلح کرنے کے لئے شدید دباو ڈالا ہوا ہے اور اس کام کی انجام دہی کے بعد لبنان کی اقتصادی و بین الاقوامی امداد کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم اس امریکی دباو کے خلاف، امل تحریک سمیت حزب الله کے علاقائی اتحادیوں نے شدید ردعمل دیا ہے۔ امل تحریک سمیت حزب الله کے اتحادی لبنان کے دفاع اور سالمیت پر زور دیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ و اسرائیل سمیت کوئی بھی ملک لبنان کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ ہم اپنے فیصلے آزادنہ طور پر کرنا چاہتے ہیں۔ شاید اس طرح کی ممکنہ صورتحال کے تناظر میں عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم نے دعویٰ کیا ہے کہ دمشق پر حکمرانی کرنے والے باغیوں کے رہنماء اور خود کو ملک کا عبوری صدر قرار دینے والے ابو محمد الجولانی کسی بھی لمحے اپنی جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ لبنان کے صدر جوزف عون کی پوزیشن بھی غیر مستحکم تصور کی جا رہی ہے۔


































