
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
چینی میڈیا کے مطابق 100 سالہ سابق امریکی وزیر خارجہ سے چینی صدر نے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ملاقات کی، ہنری کسنجر چین کے دوروں کی سنچری مکمل کرچکے ہیں۔ ملاقات میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے، تاہم غیر ملکی میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ ان کا یہ دورہ امریکا اور چین کے درمیان جاری تناؤ میں کمی کے لیے ہے۔ اس سے قبل ہنری کسنجر نے چینی وزیر دفاع لی چانگ فو سے بھی ملاقات کی تھی، چینی میڈیا کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات اور دو طرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چینی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لی چانگ فو سے ملاقات میں ہنری کسنجر کا کہنا تھا کہ وہ یہاں چین کے دوست کی حیثیت سے موجود ہیں، دونوں ممالک کو چاہیئے کہ وہ غلط فہیموں کا خاتمہ کریں اور تصادم سے گریز کرتے ہوئے ایک ساتھ چلنے کو ترجیح دیں۔
ہنری کسنجر کون ہیں؟
خیال رہے کہ نوبیل امن انعام یافتہ ہنری کسنجر 1970ء کی دہائی میں سابق امریکی صدور نکسن اور جیرالڈ فورڈ کے دور میں وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر رہ چکے ہیں۔ ہنری کسنجر نے ہی 1970ء کی دہائی میں چین اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یاد رہے کہ ہنری کسنجر کے دورہ چین کے حوالے سے واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اسے اس دورے کا علم ہے، تاہم وہ امریکی حکومت کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں۔ ہنری کسنجر نے اپنے دورہ چین کے دوران، جو بظاہر وائٹ ہاؤس سے مربوط نہیں تھا، تیسری جنگ عظیم کے ہونے کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ چین اقتصادی میدان میں امریکہ سے مقابلے کے لئے تیار ہے، جبکہ امریکہ کے پاس چین کے خلاف موثر لڑائی کے لیے کافی بنیاد نہیں ہے، ادھر چین پوری طاقت کے ساتھ امریکہ کے خلاف کھڑا ہے۔
معروف تجزیہ نگار ہادی محمدی نے ایک تجزیہ میں لکھا ہے کہ برسوں پہلے جب میں نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے ایک اعلیٰ عہدے دار سے ملاقات کی تھی تو میں نے یہ حقیقت بتانے کی بہت کوشش کی تھی کہ امریکہ شام و عراق اور خطے میں پراکسی دہشت گردی (داعش) کے منصوبے کو استعمال مین لا کر چین اور روس کو شکست دینے کے لئے اپنی صلاحیتیں بڑھا رہا ہے۔ ہادی محمدی کے بقول اس چینی اہلکار نے بڑے پرسکون انداز میں چین کے پرامن انداز اور قومی اقتصادی منصوبوں کو آگئے بڑھانے اور بااختیار بنانے پر اصرار کیا اور دو گھنٹے کی گفتگو کے بعد اعلان کیا کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ چین کی جانب سے امریکہ کو پہلے سے تیار کردہ حکمت عملی کے تحت سکیورٹی ردعمل دیا جائے، لیکن جب وہ وقت آئے گا تو چینی ناکام نہیں ہوں گے۔
یوکرین میں ہونے والی پیش رفت نے عالمی اور حتی علاقائی میدان میں تمام حسابات کو درہم برہم کر دیا اور روس کو تنازع میں لا کر، امریکہ نے فوجی واقعات کو تیز کرکے کثیر قطبی نظام میں روس اور چین کے اہداف کو مخصوص حکمت عملی سے نشانہ پر لے لیا ہے۔ یوکرین میں گذشتہ ڈیڑھ سال کی جنگ میں امریکہ کی تمام کوششیں بعض نظریہ پردازوں کے برعکس چین اور روس کے درمیان ہم آہنگی، اتحاد اور تزویراتی تعاون کو روکنے کے لیے رہی ہیں۔ درحقیقت امریکہ نے اس طرح منصوبہ بندی کی ہے کہ چین اور روس کے اسٹریٹجک اور بین الاقوامی اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی اتحاد کو روک کر بین الاقوامی نظام میں اپنے وجودی امکانات کو بڑھا دے۔
اس منصوبے کے مطابق امریکہ نے منصوبہ بند اور ٹارگٹڈ انداز میں ایران، چین اور روس کو ایک دوسرے کے قریب آنے سے روکنے کی مکمل کوشش کی کہ وہ ایک دوسرے کے قریب نہ جائیں اور کسی بھی اتحاد کو اپنے تزویراتی اہداف کا دشمن سمجھیں۔بعض افراد کے نزدیک عالمی نظام میں حالیہ پیش رفت کے اشارے میں سے ایک اتحاد اور ہم آہنگی میں کمی ہے، جو کہ عالمی میدان میں امریکہ کی اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ یہ نظریہ ایران، چین اور روس کے جوالے سے صحیح نہیں ہے۔ اگر ہم اس الٹ پھیر کو ایک سفارتی کوشش کا اشارہ سمجھیں تو کسنجر کے دورہ چین کے دوران، جو بظاہر وائٹ ہاؤس سے مربوط نہیں تھا، اس نے تیسری جنگ عظیم شروع ہونے کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا، کیونکہ چین کی طرف سے اقتصادی مقابلے کے میدان میں، امریکہ کے پاس چین کے خلاف موثر لڑائی کی خاطر خواہ بنیاد نہیں ہے اور چین بھی امریکہ کے خلاف اقتصادی میدان میں مضبوطی سے کھڑا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر خزانہ نے اپنے دورہ چین کے دوران چینی حکام سے اقتصادی کشیدکی کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ دوسری طرف امریکہ سکیورٹی کے میدان میں جین کے خلاف تیزی سے آگئے بڑھ رہا ہے جبکہ کسنجر جیسے افراد اس کشیدگی کو کم کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ البتہ ایک حلقہ قومی سطح پر روس و چین اور اسکے دیگر اتحادیوں کے خلاف خود کو تیار کرنے پر یقین رکھتا ہے، درحقیقت کسنجر کی تشویش یہ ہے کہ چین کا امریکہ کے ساتھ براہ راست تنازعہ غیر متنازعہ سپرپاور اور امریکہ کی سلطنت کے زوال کی رفتار کو بڑھا سکتا ہے اور ان کے نقطہ نظر سے دونوں طاقتوں کے درمیان سکیورٹی تناؤ کو کم کرنا امریکہ کے لیے بہت ضروری ہے۔
کسنجر کی واپسی اس بات پر زور دے گی کہ اگر وہ کامیاب بھی ہو جاتا ہے تو اس نے چین کے ساتھ مقابلے میں ایک طرح کی تذلیل قبول کی ہے، تاہم کشیدکی کو کم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی وزیر خزانہ نے چین سے ٹریژری بانڈز کی واپسی کی مخالفت کرکے امریکہ میں نئے اقتصادی بحران کی رفتار کو روکنے میں کامیاب رہا اور کسنجر نے سکیورٹی کی جہت میں ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ چینی یقینی طور پر کشیدگی میں کمی کا خیرمقدم کریں گے اور اس نقطہ نظر میں اپنے مفادات کو دیکھیں گے، گویا ابتدائی کشیدگی کا پہلا دور چین کے حق میں ختم ہوگا۔


































