
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
دنیا بھر میں ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے حکمت عملی تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ممالک کے تعلقات میں مستقل دوستی اور دشمنی نہیں ہوتی بلکہ جب مفادات بدل جاتے ہیں تو دوست دشمن اور دشمن دوست بن جاتے ہیں۔سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں تیز رفتار تبدیلی کے بارے میں دنیا کے مختلف تھنک ٹینکس اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں اور اس پر آنے والے دنوں میں بہت زیادہ کام ہوگا۔ سعودی عرب بظاہر آج سے فقط ایک ڈیڑھ سال پہلے کی خارجہ پالیسی کے برعکس پالیسی اختیار کرچکا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ مغربی چینلز اور اسرائیلی میڈیا سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو چند دنوں کی بات بتا رہے تھے اور دنیا کے تجزیہ نگار اس پر تجزیہ کر رہے تھے کہ سعودی عرب امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر حملے کے لیے دباو میں لا رہا ہے، یہاں تک خبریں تھیں کہ آل سعود نے جنگ کے تمام اخرجات اٹھانے کی ذمہ داری بھی لی ہے۔
صرف ایران نہیں، یمن کے خلاف باقاعدہ کثیر ملکی جنگی اتحاد تشکیل دے کر حملے کیے جا رہے تھے، شام میں پچھلی تقریباً ایک دہائی سے ہر اس دہشتگرد گروہ کا ساتھ دیا گیا، جو بشار کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔ اسی طرح لبنان میں پورا زور لگایا جا رہا تھا کہ مقاومت کو کمزور کیا جائے اور ایسی فورسز کو آگے لایا جائے، جو لبنان کو اسرائیل کا دوست ملک بنا دیں، عراق میں اپنا پورا وزن ان قوتوں کے ساتھ رکھا گیا، جو مرکز گریز تھیں۔ ہم اکثر ترکی کو نظر انداز کر دیتے ہیں، سعودی عرب اور ترکی میں بھی سفارتی تعلقات بڑے تناو کا شکار ہوگئے تھے، جمال خاشقچی کے قتل کو ترکی نے بڑے طریقے سے محمد بن سلمان کے خلاف استعمال کیا۔ سعودی عرب کی یہ پالیسی طاقت کے بے جا اور غیر ضروری اظہار پر مبنی تھی، اس میں دوسروں کے لیے حقارت اور قبول نہ کرنے کی سوچ تھی۔
اس میں مغربی اتحادیوں بالخصوص امریکہ پر حد سے بڑھا اعتماد تھا، اس میں یہ زعم تھا کہ ہم ایران اور خطے کے دیگر ممالک کو، جو ہمارے خلاف ہیں، ان کو تنہا کر دیں گے اور ان کو اتنا مالی نقصان پہنچائیں گے کہ وہ ہمارے ساتھ آنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ قارئیں کو یاد ہوگا کہ قطر کے راتوں رات ہونے والے اقتصادی اور عملی بائیکاٹ کے پیچھے یہی سوچ کارفرما تھی۔ یہ ساری پالیسیاں اور فیصلے ایک نوجوان شہزادے کے جذبات کی عمر میں ناتجربہ کاری میں کیے گئے تھے، جن کی قیمت سعودی عرب اور پورے خطے کو ادا کرنا پڑی۔ وقت کی بدلتی رفتار نے یہ ثابت کیا کہ وہ قوتیں جو بیرونی مداخلت کے خلاف اپنے ممالک اور اقوام کے تحفظ کے لیے تھیں، انہیں کامیابی ملی، مگر اس کی قیمت ان ممالک اور اقوام کو بڑی تباہی کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔
میں اس خبر کو دیکھ کر بالکل بھی حیران نہیں ہوا کہ شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد جدہ لینڈ کر گئے ہیں اور ان کی سعودی ہم منصب سے ملاقات ہوئی ہے۔ کہاں وہ دن؟ جب عرب لیگ سمیت ہر فورم سے شام کو باہر کر دیا گیا تھا اور کہاں یہ وقت؟ کہ شامی وزیر خارجہ کا جدہ میں استقبال کیا جا رہا ہے۔ جس میں سفارتی تعلقات بحال کرنے، براہ راست پروازیں چلانے اور تجارت کی بحالی کے اقدامات شروع کرنے کے اعلانات کیے گئے۔ یقیناً شام کے غیور عوام حق رکھتے ہیں کہ وہ اسے یوم فتح کے طور پر دیکھیں۔ شام کو تعمیر نو کی ضرورت ہے، جس میں دنیا ان کے وسائل کو چوری نہ کرے بلکہ ان کے وسائل ان پر خرچ ہوں اور ریاست دنیا بھر میں کسمپرسی کے حالت میں رہنے والے مہاجرین کو واپس لائے۔
اسی طرح صنعا اور حدیدہ میں قیدیوں کی رہائی کے مناظر بھی دل موہ لینے والے ہیں کہ بچھڑے مل رہے ہیں، جنگ بندی میں توسیع ہو رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان عید سے پہلے معاہدہ ہوسکتا ہے۔ معاہدہ آج نہیں تو کل ہو جائے گا، ایک بات طے ہوگئی کہ اب جنگ نہیں ہے۔ ننگے پاوں، آدھے ڈھکے جسم اور خالی پیٹ والوں نے برابری کی بنیاد پر بات چیت کی ہے۔ اہل یمن کی طرف سے تین شرائط سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، ایک یمن سے تمام حملہ آوروں کا انخلاء بشمول سوکوترا جزیرے سے، دوم قرآنی قانون "خون کا بدلہ خون” کے نظریئے کے مطابق دیت کی تلافی اور تین تمام شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی از سر تعمیر نو کی جائے۔ یمن سے سب کو نکلنا تو پڑے گا، باقی جب امن ہوگا تو شہروں کی تعمیر بھی ہو جائے گی اور اپنی وطن کے لیے جان دینے والے ہر قوم میں معزز ہوتے ہیں۔
پہلے اختیار کی خارجہ پالیسی میں ایران کو تنہاء اور کمزور کرنے کی بات تھی اور اس پر زور تھا، مگر ایران پہلے سے طاقتور بن گیا اور ایران کی اسلحہ سازی سمیت دیگر میدانوں میں حیران کن ترقی نے بہت سے لوگوں کو فیصلے بدلنے پر مجبور کر دیا۔ عراق نے داعش نامی ناسور کو ایک فتویٰ کے ساتھ شکست دے دی۔ عملی طور پر یمن سے لے کر پاکستان کے بارڈر تک وہ لوگ طاقت پکڑ گئے، جنہیں سعودی عرب اپنا دشمن سمجھتا ہے اور سعودی اپنی خارجہ پالیسی میں جس پر اعتماد کرتا تھا، وہ امریکہ افغانستان سمیت خطے سے بوریا بستر سمیٹ کر روانہ ہوگیا اور اس نے اپنے خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی کرتے ہوئے چین کے گرد گھیرا ڈالنے کی پالیسی اختیار کی۔
اس ساری صورتحال میں سعودی عرب کے پاس اپنی سفارتی حکمت عملی تبدیل کرنا ہی بہترین آپشن تھا، ورنہ خطہ آگ میں جلتا رہتا اور جلد ہی اس کی آگ سعودی عرب میں داخل ہو جاتی، جس سے سعودی عرب میں آل سعود کی حکومت بڑے خطرات سے دوچار ہو جاتی۔ اس تمام صورتحال کے ساتھ ساتھ دنیا میں جاتا امریکہ اور آتا چین سب کو نظر آ رہا ہے، یہ بھی وجہ بنا کہ سعودی عرب نے اپنے پتے کھلے انداز میں کھیلنے کے لیے امریکی اثر سے باہر آنے کی میری خیال میں ایک شعوری کوشش کی ہے، جس کو سراہنا چاہیئے، یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ وہ کس حد تک باہر آتا ہے یہ وقت بتائے گا۔


































