
تحریر: تصور حسین شہزاد
پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ درحقیقت پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے۔ بھارت راتوں رات پاکستان کے دریاؤں کا پانی بند نہیں کرسکتا۔ اگرچہ طویل مدت میں سندھ طاس معاہدہ ختم ہونے کے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے، لیکن فی الحال یہ ایک نفسیاتی دباؤ کی حکمت عملی زیادہ ہے۔ سب سے پہلے ہمیں سندھ طاس معاہدہ اور اس میں شامل دریاؤں کی تقسیم کو سمجھنا ہوگا۔ یہ معاہدہ ستمبر 1960ء میں طویل مذاکرات کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دریاؤں کے پانی کے انتظام کیلئے کیا گیا تھا۔ دونوں ممالک زرعی معیشت ہونے کی وجہ سے ان دریاؤں پر سیرابی اور زراعت کیلئے شدید انحصار کرتے ہیں۔
معاہدے کے تحت، بھارت کو سندھ طاس نظام کے "مشرقی دریاؤں” ستلج، بیاس اور راوی کے تمام پانی کو بلا روک ٹوک استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ پاکستان کو "مغربی دریاؤں” سندھ، جہلم اور چناب کا پانی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ پاکستان چونکہ ڈاؤن ریپیرین (نیچے کی جانب بہنے والا) ملک ہے، اس لیے یہ دریا پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ پاکستان سندھ، جہلم اور چناب کے تقریباً 80 فیصد پانی کو استعمال کرتا ہے۔ یہ پانی پاکستان کے پنجاب اور سندھ کے صوبوں میں زراعت اور سیرابی کیلئے انتہائی اہم ہے۔ درحقیقت پنجاب پاکستان کی 85 فیصد خوراک پیدا کرتا ہے۔ مزید برآں زرعی معیشت ہونے کی وجہ سے پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی کا 25 فیصد زراعت سے آتا ہے، جبکہ دیہاتی آبادی کا 70 فیصد اسی پر انحصار کرتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت فوری طور پر پانی بند کرسکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بھارت کا معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ پاکستان کو پانی کی فراہمی یک لخت روکنے کے قابل نہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت کے پاس فی الحال سندھ، جہلم اور چناب کا پانی روکنے یا اپنے استعمال میں لانے کیلئے کوئی بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں۔ زیادہ سے زیادہ بھارت پانی کے بہاؤ میں پانچ سے 10 فیصد کمی کرسکتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ بھارت کو سندھ، جہلم اور چناب پر پانی ذخیرہ کرنیوالے بڑے بند بنانے سے روکتا ہے۔ البتہ بھارت "رن آف دی ریور” ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے بنا سکتا ہے، جو پانی کے بہاؤ کو نہ تو روکتے ہیں اور نہ ہی اس میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ معاہدہ معطل کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ بھارت ان پابندیوں کی پاسداری نہیں کرے گا اور پانی کے بہاؤ کو روکنے کیلئے ذخیرہ کرنیوالے بند تعمیر کرنا شروع کر دے گا۔ تاہم ان دریاؤں پر بڑے ڈیم بنانے میں سالوں نہیں تو ایک دہائی کا وقت پھر بھی لگ جائے گا۔ اس کیلئے وسیع سروے اور فنڈز درکار ہوں گے جبکہ ماحولیاتی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ فی الحال بھارت کا یہ اقدام پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی سے زیادہ کچھ نہیں۔
اگرچہ طویل مدت میں یہ پاکستان کیلئے سنگین مسائل پیدا کرسکتا ہے، لیکن اس کے فوری اثرات محدود ہیں۔ یاد رہے کہ منگل کے روز مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ایک حملے کے نتیجے میں 26 بھارتی شہری مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ بھارتی حکومت نے اپنی سابقہ روش برقرار رکھتے ہوئے اس کا الزام پاکستان پر دھر دیا اور پاکستان کیخلاف متعدد اقدامات کا اعلان کیا۔ بھارت نے پاکستان کیساتھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق تاریخی "سندھ طاس معاہدے” کو معطل کر دیا۔ واہگہ اٹاری بارڈر کو بند کر دیا۔ پاکستانی شہریوں کیلئے تمام ویزہ سروسز معطل کردی گئیں۔ دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں تعینات فوجی مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ایک ہفتے کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا۔ یکم مئی سے بھارت میں پاکستانی سفارتکاروں کی تعداد 55 سے کم کرکے 30 کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے جواب میں پاکستان نے بھی بھارت کے خلاف تقریباً ویسے ہی جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
بھارت کی طرف سے پانی کے معاہدے کی معطلی کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کی تو اسے "جنگی اقدام” تصور کیا جائیگا۔ پاکستان بھارت کیساتھ شملہ معاہدے سمیت اس وقت تک دوطرفہ معاہدے معطل کرنے کا حق رکھتا ہے، جب تک بھارت پاکستان میں دہشتگردی سے باز نہیں آجاتا اور کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کرتا۔ بھارتی شہریوں کو خصوصی سکیم کے تحت جاری کردہ تمام ویزے فوری طور پر معطل کر دیئے گئے ہیں۔ تاہم سکھوں کی مذہبی یاترا کو اس سے استثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات سفارتکاروں کی تعداد 55 سے کم کرکے 30 کر دی جائیگی۔ واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی فضائی حدود بھارتی ملکیت یا بھارتی آپریٹڈ تمام پروازوں کیلئے بند کردی گئی ہیں۔ بھارت کیساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں بھی معطل کردی گئی ہیں۔


































