
لندن: برطانیہ میں خیراتی ادارے ہیومین ایڈ اینڈ ایڈوکیسی نے اسرائیلی فوج میں شامل برطانوی شہریوں پر مقدمہ چلانے کیلئے مہم شروع کردی ہے۔ ادارے نے اپنی مہم کے سلسلے میں لندن اور دیگر شہروں میں مصروف مقامات پر بینرز اور اشتہارات آویزاں کردئے ہیں۔برطانوی حکومت اسرائیلی فوج میں بھرتی ہونے والے برطانوی شہریوں اور دوہری شہریت کے حامل افراد کی تعداد چھپانے پر بضد ہے۔ گذشتہ سال ستمبر میں ڈی کلاسیفائیڈ یوکے کو بتایا گیا تھا ہے کہ 80 برطانوی شہری اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن ممکنہ طور پر یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔ شمالی لندن کے ایک اسرائیلی ریزروسٹ سام سانک نے برطانوی اخبار دی ٹائمز کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ ہزاروں نہیں تو سینکڑوں برطانوی اسرائیل کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ہیومین ایڈ اینڈ ایڈوکیسی نے پراسیکیوٹ جینوسائڈ کے عنوان سے مہم شروع کی ہے جس کا مقصد میٹروپولیٹن پولیس پر تحقیقات شروع کرنے اور اسرائیلی فوج میں شامل ہونے کے لیے اسرائیل جانے والے برطانوی شہریوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔


































