Fri Oct 09, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

برطانیہ کا اربوں پاؤنڈ کے سرکاری ٹھیکے اسرائیلی غیرقانونی بستیوں سے منسلک کمپنیوں کو دینے کا انکشاف

عرب میڈیا کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی غیر قانونی بستیوں سے منسلک کم از کم 17 کمپنیوں اور ان کی ذیلی اداروں کو برطانیہ کے سرکاری شعبے کے 125 ٹھیکے مل چکے ہیں جن کی مجموعی مالیت 2.129 ارب پاؤنڈ ہے۔ عرب میڈیا کی تحقیقات کے مطابق ان کمپنیوں میں وہ کاروباری ادارے بھی شامل ہیں جنہیں اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی بستیوں سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا ہے۔ ان کمپنیوں کو سڑکوں کی تعمیر و مرمت، ٹرانسپورٹ، ہنگامی خدمات اور ڈرائیونگ لائسنسنگ سمیت مختلف شعبوں میں سرکاری معاہدے دیے گئے سب سے زیادہ رقم امریکی ٹیکنالوجی اور مواصلاتی کمپنی سے منسلک اداروں کو ملی جن کے 91 سرکاری معاہدوں کی مجموعی مالیت 1.726 ارب پاؤنڈ ہے، ان ایک اور کمپنی کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے پولیس، فائر بریگیڈ اور ایمبولینس سروسز کے محفوظ مواصلاتی نظام کے لیے 1.562 ارب پاؤنڈ کا معاہدہ بھی شامل ہے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ سرکاری ادارے ہر معاہدے کے لیے کمپنیوں کو خارج کرنے کا فیصلہ الگ الگ کرتے ہیں اور جب تک باضابطہ پابندیاں، تجارتی پابندی یا دیگر حکومتی پابندیاں نافذ نہ ہوں، سرکاری خریداری کے ذریعے کسی دوسرے ملک سے منسلک کمپنیوں کا بائیکاٹ نہیں کیا جا سکتا۔ سابق برطانوی لیبر پارٹی رہنما جیریمی کوربن نے عرب میڈیا کی تحقیقات پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی حکومت کے مؤقف اور اس کے معاشی تعلقات میں واضح تضاد موجود ہے اور برطانیہ اسرائیل کے قبضے کے نظام میں اپنی شمولیت مزید گہری کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق امریکی مواصلاتی کمپنی اسرائیلی غیر قانونی بستیوں میں سیکیورٹی، نگرانی اور مواصلاتی نظام کی فراہمی سے منسلک رہی ہے۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سرکاری دستاویز کے مطابق مئی 2026ء میں اس کمپنی کے اسرائیلی ادارے کو اسرائیلی پولیس کے تقریباً 19,000 ریڈیوز کی دیکھ بھال اور انکرپشن لائسنسز کے لیے 25.5 ملین شیکل کا معاہدہ بھی دیا گیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کئی ٹھیکوں اور منصوبوں کا ڈیٹا شیئر اور سرمایہ کاری سے متعلق انکشافات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2024ء میں عالمی عدالتِ انصاف نے قرار دیا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی غیر قانونی ہے اور دیگر ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ اس غیر قانونی صورتِ حال کو برقرار رکھنے میں مدد یا معاونت نہ کریں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular