
تحریر: پروفیسر تنویر حیدر نقوی
آج ایک خبر نے مجھے چونکا دیا۔ خبر یہ تھی کہ ترکیہ دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر ایک "فلوٹنگ پل” بنا رہا ہے۔ اس خبر پر چونک اٹھنے کا سبب یہ ہے کہ میں نے امام زمانہ کے ظہور سے قبل پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں ایک یہ روایت بھی پڑھی تھی، جس کے مطابق ترکیہ کی افواج دریائے فرات پر اتریں گی۔ روایت کچھ اس طرح سے تھی کہ "ترک فوج جزیرہ میں اترے گی اور اس کے گھوڑے فرات سے پانی پئیں گے۔” آج کی اس خبر کا اس روایت سے استنباط کرنا، ضروری نہیں کہ درست ہو۔ البتہ اس کو کسی خاص زاویے سے دیکھا ضرور جا سکتا ہے۔ بعض محققین روسیوں کو بھی ترک نسل سے جوڑتے ہیں۔ جب تک مشرق وسطیٰ کے حوالے سے موجودہ ترکیہ کا کردار زیادہ نمایاں ہو کر سامنے نہیں آیا تھا، ہم بھی ترکوں کے حوالے سے روایات میں بیان کردہ کردار کو زیادہ سمجھ نہ پائے تھے۔ لیکن اب موجود ترکیہ کے حوالے سے بہت سی چیزیں نمایاں ہیں۔
چنانچہ اس سے قبل کہ ترکوں کے گھوڑے دریائے فرات کا پانی پیتے، ہمارے خیالی گھوڑے اس سے قبل اس دریا کے کنارے تک پہنچ گئے۔ اپنے اس تحقیقی سفر میں ہمیں جو کچھ معلوم ہوا، اس کے مطابق دریائے فرات صدیوں سے شام کی تہذیب، معیشت اور سیاست کا حصہ رہا ہے، مگر آج یہ دریا ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کی بڑی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس مرتبہ فرات کے پانی پر صرف کشتیوں کی آمدورفت نہیں، فوجی امکانات کے سائے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ ترکیہ کے فوجی انجینئرنگ یونٹس کی جانب سے فرات پر فلوٹنگ پلوں کی تعمیر نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ آخر انقرہ اس قدر اہم جغرافیائی مقام پر اپنی انجینئرنگ صلاحیت کیوں استعمال کر رہا ہے۔؟ کیا یہ صرف جنگ سے تباہ شدہ علاقوں کو دوبارہ ملانے کی کوشش ہے یا اس کے پیچھے شام کے بدلتے ہوئے عسکری نقشے کے مطابق کوئی طویل المدت حکمتِ عملی بھی موجود ہے۔؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ فرات اب اس شام کا فرات نہیں رہا، جو چند برس پہلے تھا۔ شام میں طاقت کا پورا توازن تبدیل ہو رہا ہے، کرد قیادت والی SDF دمشق کے ساتھ انضمام کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور ترکیہ نئی شامی حکومت کے ساتھ غیر معمولی قربت اختیار کرچکا ہے۔ ایسے وقت میں فرات پر پل بننا محض ایک تعمیراتی سرگرمی نہیں رہتا۔ یہ ایک ایسے راستے کی تعمیر بھی ہوسکتا ہے، جس کے ذریعے مستقبل میں فوج، رسد، تجارت اور ریاستی اختیار مشرقی شام تک پہنچ سکے۔ موجودہ پل کی تعمیر سے قبل بھی جولائی 2026ء میں "دیرالزور” کے مقام پر ترک اور شامی فوجی انجینئرنگ یونٹس نے فرات پر ایک فلوٹنگ پل تعمیر کیا۔ اسے سرکاری طور پر شہریوں، تجارت اور تعمیرِ نو کے لیے رابطہ بحال کرنے کا منصوبہ قرار دیا گیا۔ اب "میادین” کے علاقے میں ایک دوسرے فلوٹنگ پل کی تعمیر کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بظاہر دونوں منصوبوں کا مقصد فرات کے دونوں کناروں کو ملانا ہے، لیکن فوجی نقطۂ نظر سے فلوٹنگ پل ایک غیر معمولی اہمیت رکھنے والا انفراسٹرکچر ہے۔ یہ مستقل پل کی طرح برسوں میں تعمیر ہونے والا منصوبہ نہیں ہوتا۔ ضرورت پڑنے پر اسے نسبتاً تیزی سے قائم کیا جاسکتا ہے اور اس کے ذریعے گاڑیاں، ٹرک اور بھاری سازوسامان دریا کے دوسری طرف منتقل کیا جاسکتا ہے۔ اسی لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترکیہ صرف پل بنا رہا ہے یا مستقبل کے راستے بھی بنا رہا ہے۔؟ ترکیہ کی شام سے متعلق پالیسی کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس کی بنیادی تشویش کو سمجھنا ضروری ہے۔ انقرہ برسوں سے شام میں کرد عسکری قوت کے ایک مستقل اور طاقتور ڈھانچے کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا رہا ہے۔ شمالی شام میں SDF/YPG کی موجودگی اور امریکی حمایت ترکیہ اور امریکہ کے درمیان بھی ایک پیچیدہ مسئلہ رہی ہے۔
لیکن 2026ء میں منظرنامہ بدل گیا۔ "ایس ڈی ایف” نے دمشق کے ساتھ انضمام کا راستہ اختیار کیا ہے اور اس کی علیحدہ عسکری حیثیت ختم ہونے کی سمت بڑھ رہی ہے۔ ترکیہ کے لیے یہ تبدیلی ایک بڑی کامیابی ہے۔ کیونکہ جس قوت کو انقرہ اپنی جنوبی سرحد کے لیے خطرہ سمجھتا تھا، اب اس کے سامنے اس کا امکان پیدا ہوا ہے کہ وہ کرد عسکری ڈھانچے کی بجائے شام کی مرکزی حکومت کے ذریعے مشرقی شام کو کنٹرول کرے۔ یہاں ترکیہ اور دمشق کے مفادات ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ترکیہ خود جائے گا یا شامی فوج کو آگے کرے گا۔؟ یہ وہ سوال ہے، جس پر مستقبل کی پوری حکمتِ عملی کا انحصار ہوسکتا ہے۔ ترکیہ کے سامنے اب دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ براہِ راست ہر علاقے میں اپنی فوج داخل کرے اور دوسرا راستہ یہ کہ وہ اپنی فوج داخل کرنے کی بجائے شامی فوج کو مضبوط کرے، اسے جدید سازوسامان اور تربیت فراہم کرے اور ضرورت پڑنے پر اسے اپنی انٹیلی جنس، ڈرون، فضائی یا لاجسٹک مدد فراہم کرے۔
لیکن بگڑتے حالات کے تناظر میں ترکیہ پہلے والے آپشن پر عمل کرسکتا ہے اور فرات پر پل اس حکمتِ عملی کے لیے ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ اگر ترک فوج کو فرات کے مشرقی علاقوں میں پہنچنا ہے تو اسے مضبوط زمینی رابطے درکار ہوں گے۔ جن کے لیے مختلف مقامات پر پلوں کی تعمیر اس کے ارادوں کو زیادہ قابل عمل بنا سکتی ہے۔ مشرقی شام کی اہمیت صرف جغرافیائی نہیں۔ یہ علاقہ شام کے اہم تیل اور گیس کے ذخائر کا مرکز بھی ہے۔ دیرالزور اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں توانائی کے ذخائر نے شام کی خانہ جنگی کے دوران ہمیشہ بڑی طاقتوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ فرات پر پل صرف فوجی گاڑیوں کے لیے نہیں، مستقبل کی تجارت کے لیے بھی راستہ ہوسکتا ہے۔ یہ معاملہ واشنگٹن کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، گذشتہ برسوں میں امریکہ نے SDF کو داعش کے خلاف جنگ میں اپنا اہم زمینی اتحادی بنایا اور شمال مشرقی شام میں اس کے ساتھ مل کر ایک مضبوط اثر قائم کیا۔
لیکن اگر SDF دمشق کے ساتھ ضم ہو جاتی ہے تو امریکہ کے پاس شمال مشرقی شام میں اپنا پرانا زمینی شراکت دار نہیں رہے گا۔ اس کے برعکس ترکیہ، جو طویل عرصے سے SDF کا مخالف رہا ہے، دمشق کا اہم اتحادی بن کر سامنے آسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی اثر کے مقابلے میں ترکیہ کا اثر شام کے اندر بڑھ سکتا ہے۔ یوں فرات پر نئے پل اس بدلتے ہوئے توازن کی علامت بھی بن سکتے ہیں۔ شام میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے کردار کا ایک اور اہم فریق اسرائیل ہے۔ اسرائیل شام کے اندر کسی ایسی طاقت کے مضبوط ہونے کو پسند نہیں کرے گا، جسے وہ اپنی شمالی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہو۔ اگر ترکی شام کی فوجی تعمیرِ نو میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے اور دمشق کے ساتھ ایک مضبوط دفاعی شراکت قائم کرتا ہے تو اسرائیل کو شام کے حوالے سے اپنی حکمتِ عملی پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
یوں شام ایک نئے علاقائی مقابلے کا میدان بن سکتا ہے۔ یہ مقابلہ لازماً فوری طور براہِ راست جنگ کی شکل اختیار کرے، فی الحال ایسا کہنا قبل از وقت ہوگا، مگر دونوں ممالک کے مفادات کا ٹکراؤ کسی وقت کوئی بھی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ نئی دمشق حکومت کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات جس تیزی سے مضبوط ہوئے ہیں، اس سے شام کے اندر انقرہ کا اثر نمایاں طور پر بڑھ رہا ہے۔ یہ ایران کے لیے بھی ایک اہم جغرافیائی تبدیلی ہے، مشرقی شام کا ایک اور مسئلہ "داعش” ہے۔ شام کے وسیع صحرائی علاقوں میں داعش کی باقیات اب بھی مختلف اوقات میں حملے اور گوریلا کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ترکیہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کو شام میں اپنے کردار کے لیے ایک اہم جواز کے طور پر پیش کرسکتا ہے۔ لیکن یہاں بھی اصل سوال یہی ہے کہ کیا داعش کے خلاف کارروائی کے نام پر فوجی ڈھانچہ مستقل بنایا جائے گا۔؟ اگر ایسا ہوا تو پلوں کی اہمیت کئی گنا بڑھ جائے گی۔
پل دراصل ایک "فوجی آپشن” ہے۔ جنگی منصوبہ بندی میں کسی راستے کا موجود ہونا خود ایک طاقت ہے۔ ضروری نہیں کہ فوج آج اس راستے سے گزرے۔ اہم بات یہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر گزر سکتی ہے۔ فرات پر متعدد پل ترکیہ کو یہی صلاحیت دے سکتے ہیں۔ آج جو شہریوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، کل وہ فوجی رسد کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔ اور اگر حالات قابو سے باہر ہوں تو پھر یہی راستے فوجی دستوں اور بھاری سازوسامان کی نقل و حرکت کے لیے بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت صرف میزائلوں، ٹینکوں اور جنگی طیاروں سے نہیں بنتی۔ کبھی کبھی طاقت پلوں سے بھی بنتی ہے۔ جو طاقت دریا پار کرسکتی ہے، وہ اپنی سیاسی اور فوجی رسائی بھی دریا کے پار لے جاسکتی ہے۔ شام میں اب وہ پرانا نقشہ موجود نہیں، جس میں فرات ایک واضح سیاسی اور عسکری حدِ فاصل تھا۔


































