
امریکی جریدے فارن پالیسی میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ صرف دباؤ اور طاقت کے ذریعے ایران کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرنے کا تصور کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ تجزیے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کو ان بنیادی مفروضوں پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے جن کی بنیاد پر ایران کے خلاف سخت اور مہنگی حکمتِ عملی اختیار کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بارہا ڈوبی ہوئی لاگت کے مغالطے کا شکار ہوئی، یعنی پہلے سے کیے گئے بڑے اخراجات اور کوششوں کے باعث ایسی پالیسی پر قائم رہی جس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے تھے۔ تجزیے کے مطابق ٹرمپ اکثر یہ سمجھتے رہے کہ مسئلہ حکمتِ عملی میں نہیں بلکہ جنگ کے حجم یا دورانیے میں ہے۔ فارن پالیسی کے مطابق، جیسے جیسے تنازع آگے بڑھا، امریکہ کے سفارتی اور تزویراتی اثر و رسوخ میں کمی آئی، جبکہ جنگی وسائل کے استعمال اور داخلی سیاسی دباؤ میں اضافے نے واشنگٹن کی پوزیشن کو مزید کمزور کیا۔


































