Fri Oct 09, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

صرف دباؤ کے ذریعے ایران کو جھکانا ایک غلط مفروضہ ثابت ہوا، فارن پالیسی

امریکی جریدے فارن پالیسی میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ صرف دباؤ اور طاقت کے ذریعے ایران کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرنے کا تصور کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ تجزیے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کو ان بنیادی مفروضوں پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے جن کی بنیاد پر ایران کے خلاف سخت اور مہنگی حکمتِ عملی اختیار کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بارہا ڈوبی ہوئی لاگت کے مغالطے کا شکار ہوئی، یعنی پہلے سے کیے گئے بڑے اخراجات اور کوششوں کے باعث ایسی پالیسی پر قائم رہی جس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے تھے۔ تجزیے کے مطابق ٹرمپ اکثر یہ سمجھتے رہے کہ مسئلہ حکمتِ عملی میں نہیں بلکہ جنگ کے حجم یا دورانیے میں ہے۔ فارن پالیسی کے مطابق، جیسے جیسے تنازع آگے بڑھا، امریکہ کے سفارتی اور تزویراتی اثر و رسوخ میں کمی آئی، جبکہ جنگی وسائل کے استعمال اور داخلی سیاسی دباؤ میں اضافے نے واشنگٹن کی پوزیشن کو مزید کمزور کیا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular