
جدہ : اسلامی تعاون تنظیم نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں اذان پر پابندی سے متعلق بل کی ابتدائی منظوری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی اور عبادت کے بنیادی حق پر حملہ قرار دیا ہے. اسلامی تعاون تنظیم کے جنرل سیکریٹریٹ نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے اذان پر پابندی سے متعلق مجوزہ بل کی ابتدائی منظوری کو امتیازی اور نسل پرستانہ اقدام قرار دیا ہے۔ او آئی سی کا کہنا ہے کہ یہ بل مذہبی آزادی، عبادت کے حق اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی صریح خلاف ورزی اور اسلامی شعائر اور مقدس مقامات پر براہِ راست حملہ ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو یہ مجوزہ قانون واپس لینے پر مجبور کرے، عبادت کی آزادی اور اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔


































