Fri Oct 09, 2026

مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی

روزانہ کی خبریں

بلتستان، روحِ انسانی کی معراج اور عشقِ اہلبیتؑ کی سر زمین

تحریر: غلام مرتضی حلیمی

بلتستان کی وادیاں جس طرح برفانی چوٹیوں کے سائے میں سانس لیتی ہیں، وہاں کے باشندے بھی اپنی رگوں میں کربلا کے تاجداروں کا لہو دوڑاتے ہیں۔ یہاں کا بچہ جب بولنا سیکھتا ہے تو اس کے لب پر پہلا کلمہ یا علیؑ ہوتا ہے۔ جب کوئی معصوم بچہ مداح اہلبیت خاکِ عدم میں سمٹ جاتا ہے، تو اس کے جنازے پر آے ہوے لوگوں کا سمندر عشق کی لازوالیت کا اعلان کرتا ہے۔ یہ محض ایک سوگ نہیں، بلکہ اجتماعی روح کی بالیدگی کا منظر ہے جو علم نفسیات کی رو سے تکاملِ جمعی (Collective Self-Actualization) کی علامت ہے۔

اسلامی نفسیات کی روشنی میں عشقِ اہلبیتؑ، اضطراب سے نجات کا نسخہ:
جدید انسان جس وجودی خلا (Existential Void) میں گھرا ہے، بلتستان کے لوگ اُسے عشقِ حسینیؑ کے ذریعے پر کرتے ہیں۔ اسلامی نفسیات کے مطابق جب انسان اپنی ذات کو کسی مثالی وجود (Ideal Self) سے وابستہ کر لے، تو اس کی شخصیت میں تزکیہ کا عمل خودبخود جنم لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلتستان میں ایک چھوٹے بچے (ثناخوان اہلبیت) کی موت پر بھی لاکھوں افراد کا ہجوم، فردیت کے بت کو توڑ کر اجتماعی روح (Collective Consciousness) کی عکاسی کرتا ہے۔ امام حسینؑ کی قربانی یہاں کے لوگوں کو سکھاتی ہے۔

قرآنی نفسیات اور بلتستان کی سماجی ہم آہنگی:
قرآن پاک کا فرمان "وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ” (اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کا ساتھ دو) یہاں کی گلیوں میں سانس لیتا ہے۔ شیعہ، سنی اور اسماعیلی اکٹھے ہو کر ماتمِ حسینؑ میں اشک بہاتے ہیں۔ یہ وہ نفسیاتی یکجہتی ہے جو فرائیڈ کے تصورِ اجتماعی لاشعور (Collective Unconscious) کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ یہاں کے مرثیے محض شعری مجموعے نہیں، بلکہ قلبی ارتعاش (Emotional Resonance) کے ذریعے سماج کو متحد کرنے کا ذریعہ ہیں۔ بلتستان کا کوئی فرد جب سوزخوانی کرتا ہے، تو درحقیقت وہ روحانی کایا کلپ (Spiritual Catharsis) کے ذریعے اپنے اندر کے سائیکی کے عفریتوں (Psychological Demons) کو باہر نکالتا ہے۔ جدید سائیکالوجی کی اصطلاح میں یہ جذباتی اخراج (Emotional Release) کا عمل ہے جو ڈپریشن (depression) اور اینزائٹی( anxiety) کو جڑ سے ختم کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کے چہروں پر ایک عجیب اطمینانِ باطنی (Inner Serenity) نظر آتا ہے، جیسے کربلا کے میدان میں امام حسینؑ کے جاں نثاروں نے موت کو گلے لگاتے ہوئے پایا جاتا تھا۔

بلتستان کی عورتیں جب اپنے بچے کو گود میں لے کر بے قرار یا زہراؑ کی صدا لگاتی ہے، تو درحقیقت وہ نسلوں کو فیمینسٹ رول ماڈل کی تربیت دنے کی بجاے فاطمی رول ماڈل کی تربیت دے رہی ہوتیں ہیں۔ اسی طرح یہاں کے نوجوان جب حرِ ریاحی کی طرح توبہ کی داستانیں سناتے ہیں، تو وہ نفسیاتی توبہ (Psychological Repentance) کے ذریعے اپنے اخلاقی وجود کو نئے سرے سے سدھارتے ہیں۔ یہ وہ تعلیمات ہیں جو اسلامی نفسیات میں اخلاقی ارتقا (Moral Development) کی بنیاد ہیں۔ بلتستان کی سرزمین پر قدم رکھیں تو لگتا ہے جیسے وقت نے سانس روک لیا ہو—یہاں ہر پتھر، ہر ندیاں، ہر آہٹ اہلبیتؑ کی محبت میں ڈوبی ہوئی ہے۔ یہاں کی ماں اپنے بچے کو سلانے کے لیے لوری کی بجائے مرثیہ،نعت ،اور منقبتں سناتی ہے، یہاں کا کسان فصل کاٹتے وقت بسم اللهِ وَاللَّهُ أَكْبر کے نعرے لگاتا ہے، اور یہاں کا بوڑھا اپنی آخری سانسوں میں لا الہ الا الله پکارتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہی تو عشق کی حقیقت ہے۔

موت کو زندگی میں بدل دینے والا جذبہ:
خدایا! تُو نے بلتستان کو پہاڑوں کا تاج پہنایا، اِسی طرح عشقِ اہلبیتؑ کا ایسا گہوارہ بناے رکھ، آمین! بلتستان سے اٹھنے والا یہ سوز، صرف ایک خطے کی داستان نہیں۔ یہ تو انسانی روح کی عالمگیر فتح کا اعلان ہے۔ جیسے دریائے سندھ کا پانی کبھی رُکتا نہیں، ویسے ہی یہ عشق بھی بلتستان والوں کے سینے میں ہمیشہ دھڑکتا رہے گا۔ کیونکہ یہاں کے لوگوں نے سیکھ لیا ہے کہ زندگی جینے کا فن، دراصل عشقِ حسینؑ میں ڈوب جانے کا نام ہے!

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular