
"خوف و رجا(امید) بیلنس ہو”
آیت اللہ حائری شیرازی:
ہر کھانے کی چیز کی کچھ تاثیر ہوتی ہے۔ اگر ہم مسلسل صرف گرم تاثیر والی چیزیں کھاتے رہیں تو بدن کا نظام درہم ہو جائے گا۔ اس کے لئے سائیڈ میں ٹھنڈی تاثیر والی چیزیں بھی کھائیں تو بدن معتدل ہوگا۔
جس طرح آپ اپنے کھانے کو منظم کرتے ہیں، اسی طرح آپ کو اپنی روح کو بھی منظم کرنا چاہیے۔ جس طرح جب آپ بہت زیادہ کھجور کھاتے ہیں تو آپ کا دل کھٹی غذا کو ترستا ہے یا جب آپ بہت زیادہ کھٹی چیزیں کھائیں تو آپ کا دل میٹھی چیز کو ترستا ہے۔
اسی طرح انسان جو باتیں سنتا ہے ان میں سے کچھ میٹھی ہوتی ہیں، کچھ کھٹی ہوتی ہیں اور کچھ چکنی۔ تعریفیں جو انسان کو ملتی ہیں وہ میٹھی ہوتی ہیں اور مصائب اور آفتیں کھٹی ہوتی ہیں۔ یہ سب ضروری ہیں۔ ہر ایک اپنے اپنے انداز میں۔ اس لیے اگر کوئی آپ کو بہت زیادہ مٹھاس پیش کرے تو اپنے آپ کو کھٹاس کھلائیں یعنی خود کو وعظ و نصیحت کریں۔
اللہ آپ کی تربیت کرتا ہے۔ جب دیکھتا ہے کہ بندے کے وجود میں امید کا وٹامن کم ہو گیا ہے تو اس کی امید کو بڑھاتا ہے یا جب دیکھتا ہے کہ امید بہت زیادہ ہوگئی ہے تو ناکامی کی کھٹاس چکھاتا ہے تاکہ خوف و رجا کو تنظیم کیا جاسکے۔ جیسے ایسا مریض جو سی سی یو میں ایڈمٹ ہو تو اس کی ہر چیز کو بہت دھیان کے ساتھ بیلنس کیا جاتا ہے۔
اسی طرح خدا بھی ہر چیز کا فکس حساب کتاب کرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ خوف و رجا بیلنس ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو اس حساب سے مٹھاس(رجا) یا کھٹاس (بلا/مشکل) کا ڈوز دیتا ہے۔


































