
استاد کی صفات
ہمارے اسکولز اور یونیورسٹیز میں ایک محنتی اور کامیاب استاد کو کن صفات کا حامل ہونا چاہیے؟*
1 دل سوزی
اگر کسی کے دل میں معاشرے کی اصلاح اور تبدیلی کی تڑپ نہ ہو تو ایسا شخص معاشرے کی بہتری کے لیے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔ انبیائے الٰہی کی نمایاں صفات میں سے ایک ان کا انسانوں کی ہدایت اور سعادت کے لیے دل سوز ہونا تھا۔
تعلیم و تربیت میں جو اوصاف کارآمد ہو سکتے ہیں ان میں سے ایک خوبی دل سوزی ہے۔ استاد کو چاہیے کہ ہر Student کو اپنی اولاد کی طرح سمجھے، اس کی تعلیم میں حریص اور اس کی سستی، لا پرواہی اور بے توجہی پر بے چین ہو اور اس کی اصلاح کے لیے تگ و دو کرے۔
2️ وسعت قلبی
تربیت میں وسعت قلبی اور تحمل بہت ضروری ہے۔ استاد کو چاہیے کہ Students کی ضد اور بے رُخی کو برداشت کرے۔
پیغمبر اسلام(ص) کو خدا نے جو نعمتیں عطا کیں ان میں سے ایک وسعت قلبی تھی۔ أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ: کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ کشادہ نہیں کیا؟ (سورہ شرح، آیت1)
انسان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو، تحمل مزاجی جیسی صفت ہر جگہ کام آتی ہے۔ امام علی (ع) نے فرمایا: ریاست کا وسیلہ وسعت صدر ہے۔
3️ بے تکلفی
استاد بناوٹی رفتار و گفتار سے گریز کرے۔ اپنے لیے خاص مقام اور پروٹوکول کا قائل نہ ہو۔ استاد کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو غیر معقول اور غیر معمولی مطالبات سے پریشان نہ کرے۔ استاد کا بناوٹی کردار بچوں میں دوغلاپَن پیدا کرتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم لوگوں سے فرمایا کرتے تھے: میں اہل تکلف میں سے نہیں ہوں۔
4 خلوص
استاد کا شاگرد کے لیے مخلص ہونا بہت ضروری ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : جس نے اس لیے علم حاصل کیا کہ علما پر فخر و مباہات کرے، جاہلوں سے بحث کرے یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے پس اس نے اپنی منزل کو آتش جہنم قرار دیا۔
اخلاص ایک ایسی یونیورسٹی ہے جو چالیس دن میں فارغ التحصیل کر دیتی ہے۔ ہم روایات میں پڑھتے ہیں: جس نے چالیس دن تک اپنے اعمال کو خلوص نیت سے انجام دیا، اللہ تعالیٰ حکمت کے چشمے اس کی زبان پر جاری کر دے گا۔ یعنی اخلاص انسان کی علمی رشد میں بھی حصہ ڈالتا ہے۔
استاد محسن قرائتی


































