
تل ابیب : صیہونی حکومت نے ایک اور فاشسٹ قانون بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اسرائیلی شریک حیات رکھنے والے فلسطینی اسرائیل میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکیں گے۔ نیا شہریتی قانون کا یہ بل وزارت کمیٹی برائے قانون میں پیش ہوا ہے جس کے بعد اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اکثریتی ووٹ کے بعد اسے قانون کی شکل دے دی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے یہ بِل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل میں یہودیوں کی تعداد کو خطرہ ہے اور اگر فلسطینیوں کو رہنے کی اجازت دی گئی تو اسرائیلیوں پر حملوں میں بھی مزید اضافہ ہوجائے گا۔ اس سے قبل 2003 میں بھی یہ بل پیش ہوا تھا لیکن اکثریتی ووٹس کی کمی کی بنا پر جولائی میں اسے منسوخ کردیا گیا تھا تاہم بغیر کسی قانونی دفعات میں شامل کیے اسے فلسطینیوں کیخلاف قانون بنائے رکھا۔


































