
تحریر: حنیف غفاری
امریکی وزیر خارجہ اینتھونی بلینکن نے حال ہی میں شام سے متعلق بڑا اعلان کیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ امریکہ شام اور عراق میں دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد ہونے والے علاقوں میں تعمیر نو کا منصوبہ بنا رہا ہے اور اس کام کیلئے 150 ملین ڈالر کا بجٹ مخصوص کر چکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بات ریاض میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے دوران کی ہے۔ اینتھونی بلینکن نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا: "خوش قسمتی سے داعش اب دنیا کے کسی علاقے پر قابض نہیں رہی اگرچہ اس نے افریقہ، ایشیا اور مشرق وسطی میں اپنی طاقت بدستور باقی رکھی ہوئی ہے۔” امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان مختلف پہلووں سے قابل غور ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی صدر جو بائیڈن حکومت کا یہ اعلان بہت معنی خیز ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرق وسطی خطے میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی تشکیل اور مختصر مدت میں شام اور عراق کے وسیع علاقوں تک پھیل جانے میں امریکہ نے خود بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ لہذا اب اسلامی مزاحمتی بلاک کی جانب سے اس دہشت گرد گروہ کے مکمل خاتمے کے بعد امریکی حکومت کی جانب سے ان علاقوں میں تعمیر نو پراجیکٹ کے نام پر کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کا اعلان خطے میں امریکہ کی ایک نئی خطرناک سازش کی نشاندہی کر رہا ہے۔ امریکہ نے 2011ء میں داعش کی بنیاد رکھ کر خطے میں ایک خطرناک کھیل کا آغاز کیا تھا۔ تکفیری دہشت گروہ داعش امریکہ اور اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے اہداف کی تکمیل کیلئے کوشاں تھا جسے اسلامی مزاحمتی بلاک کے مجاہدین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے پوری طرح ناکام بنا دیا تھا۔
اب امریکہ ایک بار پھر ماضی میں داعش کے زیر قبضہ رہنے والے علاقوں کی تعمیر نو کا بہانہ بنا کر اس تکفیری دہشت گرد گروہ کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے۔ یوں داعش کو دوبارہ زندہ کرنے کی امریکی سازش جو پہلے پشت پردہ چل رہی تھی اب کھلم کھلا انجام پائے گی۔ اس بارے میں چند اہم نکات پائے جاتے ہیں جو درج ذیل ہیں:
1)۔ توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ کی مذکورہ بالا مالی امداد اقوام متحدہ کے ذریعے شام کے ان کرد گروہوں کو فراہم کی جائے گی جو صدر بشار اسد کی حکومت کے مخالف تصور کئے جاتے ہیں۔ یہ مالی امداد نہ صرف داعش کے خلاف جنگ اور شام میں تعمیر نو کی مد میں خرچ نہیں ہو گی بلکہ الٹا شام میں نیا سکیورٹی بحران پیدا کرنے کیلئے بروئے کار لائی جائے گی۔
اگر امریکہ داعش کی نام نہاد خلافت کے خاتمے کے پانچ سال بعد شام اور عراق میں جنگ زدہ علاقوں کی تعمیر نو کے بارے میں سوچنے لگا ہے تو یہ بلاوجہ نہیں ہے بلکہ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ واشنگٹن کا مقصد خطے میں شام حکومت کے مخالف گروہوں کو نئی مالی امداد فراہم کرنا ہے تاکہ یوں ایک نئے سکیورٹی بحران اور نئی جنگ کا زمینہ فراہم کر سکے۔
2)۔ دوسرا نکتہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ڈیموکریٹس کی جانب سے مشرق وسطی خطے میں طویل المیعاد بدامنی برقرار رکھنے پر مبنی مین پالیسی سے متعلق ہے۔ 2006ء میں جب جرج بش کی سربراہی میں امریکی حکومت کی جانب سے عراق پر فوجی قبضے کو تین سال کا عرصہ بیت چکا تھا، جو بائیڈن امریکہ کے سینیٹر تھے۔ اس وقت انہوں نے عراق سے متعلق ایک انتہائی خطرناک منصوبہ پیش کیا تھا۔
اس وقت کے سینیٹر جو بائیڈن کا یہ منصوبہ "عراق کی تقسیم” پر مبنی تھا جس کی راہ ہموار کرنے کیلئے عراق میں فیڈرل نظام حکومت نافذ کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ جو بائیڈن کا خیال تھا کہ عراق کو قومی اور مذہبی بنیادوں پر تین چھوٹے ممالک میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ کرد، شیعہ اور سنی ریاستیں۔ اس کے علاوہ جو بائیڈن یہ بھی سمجھتے تھے کہ عراق کی تقسیم، خطے کی تقسیم اور اس کے بعد پوری اسلامی دنیا کی تقسیم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے خیال میں یہ بہت مطلوب عمل تھا اور اس کے نتیجے میں امریکہ قوم اور مذہب کی بنیاد پر خطے میں اپنے مطلوبہ جیوپولیٹیکل اہداف بہت اچھی طرح حاصل کر سکتا تھا۔ اس وقت جو بائیڈن امریکہ کے صدر ہیں اور اب بھی ان کا یہی خیال ہے کہ مشرق وسطی میں طویل المیعاد سیاسی اور سکیورٹی بحران پیدا کر کے عراق اور شام کو بھی عدم استحکام کا شکار کیا جا سکتا ہے۔ لہذا وہ داعش کو دوبارہ زندہ کرنے کی پوری کوشش میں مصروف ہیں۔
3)۔ آخری نکتہ خطے میں امریکی اہداف کی راہ میں اسلامی مزاحمتی بلاک نامی مضبوط رکاوٹ سے متعلق ہے۔ اگرچہ امریکہ نے مشرق وسطی خطے میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے لیکن اسلامی مزاحمتی بلاک اس کے عزائم کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے۔ اسلامی مزاحمت نے خطے میں امریکی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور ہر لمحہ مناسب ردعمل کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ اسلامی مزاحمتی قوتیں خطے میں کسی بھی ممکنہ امریکی یا اسرائیلی شرارت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح ماضی میں امریکہ صیہونی رژیم اور ان کے یورپی اتحادی جیسے برطانیہ، جرمنی اور فرانس داعش کو دوبارہ زندہ کرنے میں ناکام رہے تھے اسی طرح اس بار بھی امریکہ اس مقصد میں ناکامی کا شکار ہو گا۔


































