
تحریر: پروفیسر تنویر حسین نقوی
امریکہ کا لغوی معنی کیا ہے؟ "امریکہ” کا لغوی معنی متعین نہیں ہے۔ کیونکہ "امریکہ” کوئی لغوی لفظ نہیں بلکہ یہ ایک براعظم اور ملک کا نام ہے۔ اس نام کی اصل، اطالوی مہم جو اور نقشہ ساز Amerigo Vespucci کے نام Amerigo سے ہے۔ سولہویں صدی میں ایک جرمن نقشہ ساز نے نئے دریافت شدہ براعظم کو لاطینی شکل America سے موسوم کیا اور یہی نام بعد میں رائج ہوگیا۔ اگر لفظ کو اجزاء میں توڑ کر کوئی معنی نکالنے کی کوشش کی جائے تو یہ لسانی اعتبار سے درست نہیں، کیونکہ America کسی دو الفاظ کا مرکب نہیں بلکہ ایک شخص کے نام سے ماخوذ ہے۔ کولمبس کون تھا۔؟ "کرسٹوفر کولمبس” ایک اطالوی ملاح، مہم جو اور جہاز ران تھا، جو ہسپانوی بادشاہ اور ملکہ کی سرپرستی میں سمندری سفر پر نکلا۔
1492ء میں وہ مغرب کی طرف سمندر کے راستے ہندوستان پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن اس کے بجائے وہ بحرِ اوقیانوس کے پار ان جزائر تک پہنچا، جو آج امریکہ کے براعظم کا حصہ سمجھے جاتے ہیں (خصوصاً کیریبین کے جزائر)۔ کولمبس کو آخرِ عمر تک یہی گمان رہا کہ وہ ایشیاء کے قریب پہنچا ہے، اس لیے اسے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ ایک "نئی دنیا” ہے۔ بعد میں اطالوی مہم جو Amerigo Vespucci نے یہ واضح کیا کہ یہ علاقے ایشیاء نہیں بلکہ ایک نیا براعظم ہیں۔ اس طرح کولمبس نے 1492ء میں یورپ اور امریکہ کے درمیان مستقل بحری رابطے کی بنیاد رکھی۔ آج تاریخ میں کولمبس کے بارے میں آراء مختلف ہیں۔ ایک طرف اسے عظیم مہم جو سمجھا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف مقامی امریکی باشندوں پر یورپی نوآبادیات کے آغاز اور اس کے منفی اثرات کے باعث اس پر تنقید کی جاتی ہے۔
چار جولائی امریکہ کی تاریخ میں اس لیے انتہائی اہم ہے کہ 4 جولائی 1776ء کو برطانیہ سے آزادی کے اعلان کی منظوری دی گئی۔ اس دن شمالی امریکہ کی تیرہ برطانوی نوآبادیات نے اعلان کیا کہ وہ اب برطانوی سلطنت کا حصہ نہیں رہیں گی بلکہ وہ آزاد اور خودمختار ریاستیں ہیں۔ اس اعلان کا بنیادی مسودہ Thomas Jefferson نے تیار کیا تھا، جبکہ John Adams، Benjamin Franklin اور دیگر رہنماؤں نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔ اس اعلان کے بعد برطانیہ اور امریکی نوآبادیات کے درمیان جاری American Revolutionary War آخرکار امریکہ کی آزادی پر منتج ہوئی، جسے برطانیہ نے 1783ء میں تسلیم کیا۔ 4 جولائی کو امریکہ میں یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔
آج کا امریکہ، کینیڈا اور بقیہ امریکی براعظم، یورپیوں کی آمد سے بہت پہلے مقامی باشندوں کا مسکن تھا، جنہیں ماضی میں "ریڈ انڈینز” کہا جاتا تھا۔ آج یہ اصطلاح کم استعمال کی جاتی ہے، کیونکہ بہت سے لوگ اسے مناسب نہیں سمجھتے۔ زیادہ مناسب اصطلاحات Native Americans، American Indians یا Indigenous Peoples ہیں۔ یورپی مہم جو کولمبس جب 1492ء میں وہاں پہنچا تو اسے گمان ہوا کہ وہ ہندوستان پہنچ گیا ہے۔ اسی غلط فہمی کی وجہ سے اس نے مقامی باشندوں کو "Indians” کہنا شروع کیا اور یہ نام رائج ہوگیا۔ یورپیوں کی آمد سے پہلے امریکہ میں کروڑوں مقامی باشندے آباد تھے۔ ان کی سینکڑوں الگ الگ قومیں، زبانیں اور تہذیبیں تھیں۔ بعض نے عظیم شہر اور منظم ریاستیں قائم کیں جبکہ بہت سی قبائلی معاشروں کی صورت میں رہتی تھیں۔
بعد میں یورپی آبادکاری کے نتیجے میں جنگوں، بیماریوں اور زمینوں پر قبضے کے باعث مقامی آبادی کو شدید نقصان پہنچا اور ان کی تعداد میں بہت بڑی کمی واقع ہوئی۔ لہٰذا یہ کہنا درست ہے کہ یورپیوں کی آمد سے پہلے موجودہ امریکہ بنیادی طور پر مقامی امریکی اقوام (جنہیں ماضی میں ریڈ انڈینز کہا جاتا تھا) کی سرزمین تھی۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ کی بنیاد ریڈ انڈینز کے خون پر رکھی گئی۔؟ مختصر جواب یہ ہے کہ تاریخی شواہد کی روشنی میں اس بات میں کافی حقیقت پائی جاتی ہے۔ اس جملے کو تاریخی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ یورپی آبادکاروں کی آمد کے بعد مقامی امریکی اقوام جنہیں ماضی میں "ریڈ انڈینز” کہا جاتا تھا، کی زمینوں پر بتدریج قبضہ کیا گیا۔ مختلف ادوار میں متعدد جنگیں ہوئیں، جن میں ہزاروں مقامی باشندے مارے گئے۔
یورپ سے آنے والی بیماریوں، خصوصاً چیچک نے مقامی آبادی کو تباہ کن نقصان پہنچایا، کیونکہ ان میں ان بیماریوں کے خلاف قدرتی مدافعت نہیں تھی۔ بہت سی مقامی قوموں کو زبردستی ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کیا گیا۔ مثال کے طور پر Trail of Tears میں ہزاروں افراد نقل مکانی کے دوران ہلاک ہوئے۔ اس لیے بہت سے مؤرخ یہ کہتے ہیں کہ جدید ریاستہائے متحدہ کی توسیع اور تعمیر میں مقامی باشندوں کی بے دخلی، ان کے حقوق کی پامالی اور ان کی بڑے پیمانے پر خونریزی شامل تھی۔ لہٰذا یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ امریکہ کی تشکیل اور توسیع کے عمل میں مقامی امریکی اقوام نے بہت بھاری قیمت چکائی۔ یہ بات آج امریکی تاریخ کے سنجیدہ مطالعے میں بھی تسلیم کی جاتی ہے۔ اگرچہ اس کے اسباب کے بارے میں مختلف مؤرخین کے درمیان اختلافِ رائے موجود ہے۔
ریڈ انڈینز یا زیادہ مناسب اصطلاح میں مقامی امریکی اقوام پر یورپی آبادکاری کے بعد کئی صدیوں تک مختلف نوعیت کے مظالم ہوئے۔ یہ واقعات مختلف ادوار، مختلف نوآبادیاتی طاقتوں (ہسپانوی، برطانوی، فرانسیسی وغیرہ) اور بعد میں امریکی حکومت کے تحت مختلف انداز میں پیش آئے۔ یورپی آبادکاروں نے بتدریج مقامی اقوام کی لاکھوں ایکڑ زمین پر قبضہ کیا۔ بہت سے معاہدے کیے گئے لیکن ان میں سے متعدد بعد میں توڑ دیئے گئے۔ سترہویں سے انیسویں صدی تک متعدد جنگیں ہوئیں، جن میں ہزاروں مقامی باشندے مارے گئے۔ بعض مقامات پر اجتماعی قتلِ عام بھی ہوا، جیسے Sand Creek massacre اور Wounded Knee Massacre۔ چیچک، خسرہ اور دیگر یورپی بیماریوں نے مقامی آبادی کو شدید نقصان پہنچایا۔ مؤرخین کے مطابق امریکہ کی مقامی آبادی میں ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ یہی بیماریاں تھیں، اگرچہ بعض مواقع پر ان بیماریوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات بھی تاریخ میں ملتے ہیں۔
انیسویں صدی میں امریکی حکومت نے بہت سی مقامی اقوام کو ان کی آبائی زمینوں سے زبردستی نکال کر دور دراز علاقوں میں منتقل کیا۔ Trail of Tears اس کی نمایاں مثال ہے، جس میں ہزاروں افراد بھوک، بیماری اور سخت سفر کے دوران جان سے گئے۔ مقامی زبانوں، رسوم اور مذاہب کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ بہت سے بچوں کو خاندانوں سے الگ کرکے بورڈنگ اسکولوں میں رکھا گیا، جہاں انہیں اپنی زبان بولنے اور اپنی ثقافت پر عمل کرنے سے روکا جاتا تھا۔ بہت سی مقامی اقوام کو محدود علاقوں (Reservations) میں آباد کر دیا گیا، جس سے ان کی روایتی زندگی، معیشت اور معاشرتی ڈھانچہ متاثر ہوا۔ آج امریکہ میں ان تاریخی مظالم کا اعتراف بڑھ رہا ہے۔ بہت سی جامعات اور سرکاری ادارے ان واقعات پر تحقیق کررہے ہیں اور متعدد قبائل اپنے حقوق، زمینوں اور ثقافتی ورثے کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
اگر مقامی امریکی اقوام (Native Americans) کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو بہت سے لوگ اس دن کو جشن کے بجائے ایک ایسے تاریخی عمل کی علامت سمجھتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی زمینیں چھینی گئیں، انہیں بے دخل کیا گیا، ان کی ثقافت کو نقصان پہنچا اور ان پر شدید مظالم ہوئے۔ اسی وجہ سے امریکہ کے بعض مقامی قبائل اور کچھ مورخین و سماجی کارکن 4 جولائی کی تقریبات پر تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دن ان کے لیے آزادی کا نہیں بلکہ ان کی سرزمین پر قائم ہونے والی ریاست کی یاد دلاتا ہے۔ لہٰذا اگر آپ پوچھیں کہ کیا امریکہ کا یومِ آزادی دراصل اس کے جبری تسلط کا دن ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مقامی امریکی اقوام کے ایک حصے کے نقطۂ نظر سے اس بیان میں ایک تاریخی اور اخلاقی حقیقت کی جھلک ضرور موجود ہے، کیونکہ ریاست کی توسیع کے دوران ان پر بڑے پیمانے پر ظلم ہوا۔
یہ تاریخ نہایت پیچیدہ اور دردناک ہے اور اس کا مطالعہ مختلف معتبر تاریخی ذرائع کی روشنی میں کرنا زیادہ مفید ہوگا۔ آج امریکہ کو جنم لیے ہوئے اڑھائی سو سال بیت چکے ہیں۔ ان 250 سال میں امریکہ کو بالآخر جو پہچان ملی، اس کے تحت وہ دنیا کا سب سے بڑا مستکبر اور طاغوت ہے اور اس کا سربراہ شیطان بزرگ ہے۔ آج اپنے جنم کے اڑھائی سو سال بعد امریکہ بھی اپنے اسی انجام کی طرف بڑھتے ہوئے نظر آرہا ہے، جس قسم کے منطقی انجام تک ایران کی شہنشاہیت اڑھائی ہزار سال بعد پہنچی تھی۔


































