
تحریر: ابوالفضل وند
زیپروجیا خطے میں عوامی تحریک کے سربراہ ولادیمیر روگوف نے یوکرین جنگ سے متعلق امریکی پالیسیوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: "امریکہ نے یوکرین حکومت کو جولائی کے وسط میں نیٹو اجلاس منعقد ہونے سے پہلے پہلے روس کے خلاف جوابی حملوں میں کامیابی حاصل کرنے کا ٹاسک دے رکھا ہے۔” ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے حال ہی میں روس کے خصوصی آپریشن کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے: "یوکرین کی جنگ کیف حکومت کی وساطت سے مغربی ممالک کی مالی امداد کے ذریعے شروع ہوئی اور یوکرین متعدد جوابی حملے انجام دینے کے باوجود اب تک کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر پایا۔ کیف اب تک 186 ٹینک اور 418 بکتر بند گاڑیاں گنوا چکا ہے اور اس کے جانی نقصان میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔”
دوسری طرف یوکرین اپنے ابتدائی جوابی حملوں میں شدید شکست کے بعد نئے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس وقت زیپروژیا کے علاقے میں شدید جنگ جاری ہے جبکہ فوجی ماہرین کی نظر میں یوکرین کو کامیابی حاصل ہونے کا کوئی امکان نہیں پایا جاتا۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اپنے اقدامات کے ذریعے نازی سوچ کی حامل قوتوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: "یوکرین ہماری دفاعی لائنز کو توڑنے کیلئے جوابی حملوں میں اپنے اسٹریٹجک ذخائر استعمال کر رہا ہے۔” یوکرین جنگ میں امریکہ کا کردار بھی بہت دلچسپ ہے۔ ایک طرف امریکہ نے اپنے مغربی اتحادیوں کی مدد سے یوکرین کو اس جنگ میں دھکیلا ہے جبکہ دوسری طرف جنگ میں پھنسے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو بلیک میل کرنے میں مصروف ہے۔
امریکہ نے یوکرین کو ایک تھکا دینے والی جنگ میں دھکیل دینے کے بعد اب اسے فوجی مدد فراہم کرنے کیلئے متعدد شرائط کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی حکمرانوں نے کہا ہے کہ وہ یوکرین کی صرف اور صرف اس صورت میں مدد کریں گے جب وہ روس کے خلاف جوابی حملوں میں کامیابی حاصل کر پائیں گے۔ امریکہ کا یہ اقدام دنیا کی تمام حکومتوں کیلئے درس عبرت ہے کہ وہ ہر گز اس پر اعتماد نہ کریں۔ امریکی حکمرانوں کی جانب سے ولادیمیر زیلنسکی کے سامنے یہ شرط رکھنے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ان کی نظر میں اس جنگ کے آغاز سے ہی یوکرینی عوام کے مفادات کی ذرہ برابر اہمیت نہیں تھی۔ کیونکہ اگر انہیں یوکرینی عوام کے تحفظ کی فکر ہوتی تو وہ کسی شرط کے بغیر یوکرین کی فوجی امداد جاری رکھتے اور اس راستے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے۔
امریکی حکمرانوں کی جانب سے یہ اعلان کہ وہ صرف روس کے خلاف یوکرین کے جوابی حملوں کے موثر واقع ہونے کی صورت میں اس کی فوجی مدد کریں گے درحقیقت ولادیمیر زیلنسکی کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔ یہ یوکرین کے ساتھ امریکہ کی واضح بے وفائی اور دغابازی ہے۔ امریکہ نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کیلئے یوکرین اصل مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کی کوئی اہمیت ہے۔ یوکرین کو مظلوم ظاہر کر کے وہ صرف روس کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ اس وقت امریکہ عالمی سطح پر روس، ایران اور چین کو اپنے تین اہم حریف تصور کرتا ہے۔ امریکہ نے ابتدا سے ہی ولادیمیر زیلنسکی اور نازی سوچ کے حامل گروہوں کو جنگ کی بھرپور ترغیب دلائی اور یوکرین کو گہری دلدل میں پھنسا دیا۔
اگر ولادیمیر زیلنسکی مذاکرات کی میز پر جا کر روس سے معاہدہ کر لیں تب بھی وہ اس دلدل سے نہیں نکل پائیں گے جس میں انہیں امریکہ نے پھنسا دیا ہے۔ کیونکہ یوکرین کے مغربی حصے میں واقع علاقے بھی متنازعہ ہیں اور پولینڈ گذشتہ طویل عرصے سے ان پر مالکیت کا دعوی کرتا چلا آیا ہے۔ لہذا روس سے معاہدے کے بعد بھی ولادیمیر زیلنسکی شدید دباو کا شکار رہیں گے اور یوکرین بھی بدستور بحران زدہ رہے گا۔ حال ہی میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹالن برگ نے امریکی حکام سے ملتا جلتا موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کی جانب سے نیٹو میں رکنیت کی درخواست کے باوجود جب تک روس کے خلاف جوابی حملوں میں کامیابی حاصل نہیں ہو جاتی اس پر غور نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف یوکرین کی مکمل شکست کی صورت میں یورپ شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
اسی خطرے کے پیش نظر امریکہ اور نیٹو ایک حد تک یوکرین کی مدد کرنے پر مجبور ہیں۔ مزید برآں، یوکرین کی دھڑا دھڑ فوجی مدد کرنے سے بھی کامیابی کی توقع رکھنا بے جا ہے۔ کیونکہ جنگ میں کامیابی صرف اسلحہ اور فوجی سازوسامان پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ افرادی قوت بھی اس میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگرچہ یوکرین جنگ سے یورپ کو انتہائی شدید نقصان پہنچ رہا ہے لیکن امریکہ بدستور اس جنگ کو شعلہ ور رکھنے پر مصر ہے۔ اگر امریکہ ابتدا سے یوکرین کو نیٹو میں رکنیت کا لالچ نہ دیتا اور اسے فوجی امداد فراہم کرنے کا اعلان نہ کرتا تو یوکرین بھی روس کے خلاف جنگ کی حد تک آگے نہ جاتا۔ لیکن دوسروں کو دھوکہ دینا امریکہ کی پرانی ریت ہے اور اسے صرف اور صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔


































