
ترتیب و تنظیم: علی واحدی
یوں تو برسوں کی افراتفری اور عدم استحکام کے بعد عراق نسبتاً امن کی جانب گامزن ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ امریکہ نے ایک بار پھر اس ملک کے لیے پریشان کن خواب دیکھنے شروع کر دیئے ہیں۔ مزاحمتی گروہ، سیاسی رہنماء اور عراقی عوام کا ایک بڑا حصہ امریکی قبضے کا خاتمہ چاہتے ہیں، لیکن وائٹ ہاؤس کے اہلکار ان انتباہات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے قدم مضبوط کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں، بدھ (21 جون) کو امریکی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی نے ریپبلکن قانون ساز ڈان بیکن کی ایک ترمیم کی منظوری دی، جس میں عراقی کردستان کی پیشمرگہ فورس کو فضائی دفاعی نظام منتقل کرنے کی حمایت کی گئی ہے۔ بیکن نے "مڈل ایسٹ آئی” ویب سائٹ کو بتایا کہ مذکورہ ترمیم کو حکمران اور اپوزیشن دونوں کی حمایت حاصل ہے اور اس ترمیم کی روشنی میں امریکی حکومت کو ایرانی میزائل، راکٹ اور ڈرون حملوں کے خلاف پیشمرگہ فورسز کو تربیت اور مسلح کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہوگی۔
سینٹر فار اے نیو امریکن سکیورٹی میں مشرق وسطیٰ کے امور کے تجزیہ کار جوناتھن لارڈ کے مطابق، کرد پیشمرگہ اس وقت پینٹاگون سے ماہانہ 20 ملین ڈالر وصول کرتے ہیں، تاہم پیشمرگہ کو فضائی دفاعی نظام سے لیس کرنے سے ہتھیاروں کی سپلائی محدود ہوسکتی ہے، کیونکہ واشنگٹن کے دوسرے اتحادی بھی ہتھیاروں کی تلاش میں ہیں۔ ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے تجویز کردہ منصوبے کے مطابق مالی سال 2024ء کے بجٹ میں 866 بلین ڈالر امریکی فوجی اخراجات کے لیے مختص ہوں گے۔ اس منصوبے کو ایوان نمائندگان کی مسلح افواج کی کمیٹی نے ایک ووٹ کے مقابلے میں 58 ووٹوں سے منظور کیا اور اگلے مرحلے میں اسے کانگریس کے فلور پر جانا ہوگا۔
عراقی کردستان کے علاقے میں امریکہ کے نئے اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب گذشتہ ماہ امریکی حکام نے شامی کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہمارس میزائل دفاعی نظام کی منتقلی کی تصدیق کی تھی۔ عراق کے شمالی علاقے میں ان نظاموں کی منتقلی مختلف اہداف کے ساتھ کی گئی ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب امریکی فوجی حکام نے بارہا خبردار کیا ہے کہ یہ ملک حالیہ برسوں میں مزاحمت کے بلاک کے خلاف اپنی ماضی کی فضائی برتری کھو چکا ہے۔
عراقی پارلیمنٹ اور کابینہ میں مزاحمتی گروہوں کی موجودگی اور کردار کے مضبوط ہونے کی وجہ سے بغداد میں امریکہ کے منصوبوں اور مداخلتوں کے بارے میں مایوسی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، چنانچہ جب واشنگٹن کا نیا منصوبہ سامنے آیا تو بغداد کے بہت سے سیاست دانوں نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
عراقی پارلیمنٹ کے نمائندوں میں سے ایک جاسم الموسوی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ "پیشمرگہ فورسز کو مسلح کرنے اور انہیں فضائی دفاعی ہتھیار فروخت کرنے کا امریکی فیصلہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور کسی بھی داخلی گروہ کو براہ راست اور اس کا حق حاصل نہیں ہے کہ براہ راست کسی دوسرے ممالک کے ساتھ اس طرح کے معاملات آگئے بڑھائے۔ مرکزی حکومت کے علم اور موجودگی کے بغیر خلاف قانون ہے۔ اس عراقی نمائندے نے تاکید کی ہے کہ عراقی حکومت کو چاہیئے کہ وہ سفارتی ذرائع سے اس امریکی اقدام کو روکنے کے لیے اقدام کرے، کیونکہ کردستان کے علاقے کو مسلح کرنا امریکہ کی طرف سے عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ الموسوی نے اس بات پر زور دیا کہ ہم اس مسئلے کو متعلقہ سیاسی اداروں میں اٹھانے کے لیے کام کر رہے ہیں، تاکہ امریکہ اور کردستان کے علاقے کے درمیان اس معاہدے کے خلاف ایک متفقہ پوزیشن حاصل کی جاسکے۔
عراقی جماعت "قانون” کے اتحاد کے رکن عباس المالکی نے بھی ایک تقریر میں کہا ہے کہ عراق کی مرکزی حکومت کے بغیر اربیل کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اس ملک میں اندرونی تقسیم کو بڑھانے کا باعث بنیں گے۔ امریکہ نے اربیل کو فضائی دفاعی ہتھیار فروخت کرنے پر اتفاق کرکے عراق کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔ مرکزی حکومت سے قطع نظر اس طرح کی کارروائی ملک کے استحکام کو تباہ کر دے گی اور واشنگٹن عراق کی آزادی اور اس ملک کی داخلی سلامتی کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ المالکی نے کہا: "مرکزی حکومت کو بتائے بغیر مقامی داخلی گروہوں کے ساتھ امریکی تعاون عراق کے اندرونی حالات کو مزید تقسیم اور اختلافات کی طرف لے جانے کا سبب بنے گا۔ اگر عراق مختلف ہتھیاروں سے امریکہ کے اندرونی گروہوں کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو کیا واشنگٹن اس مسئلے کو قبول کرے گا۔؟ انہوں نے کہا، "امریکہ کو بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر اقوام اور ممالک کی خود مختاری کا احترام کرنا چاہیئے اور عراق کی مرکزی حکومت کے ذریعے داخلی گروہوں کے ساتھ تعامل میں کام کرنا چاہیئے۔”
عراق کے سکیورٹی اور عسکری ماہر عقیل الطائی نے بھی اس حوالے سے کہا: "امریکہ مرکزی حکومت کے خلاف کارروائی کے لیے فضائی دفاعی ہتھیار فراہم کرکے پیشمرگہ فورسز کو مضبوط کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ کیسا ہے کہ امریکہ عراق کو تو ہتھیار نہیں دیتا لیکن اس کے برعکس ایسی حرکت کرتا ہے۔ یہ امریکی اقدام عراق کے لیے بہت خطرناک ہے اور عراقی حکومت اور پارلیمنٹ کو واشنگٹن کے اس اقدام کے خلاف سخت موقف اختیار کرنا چاہیئے۔ عراقی کردوں کو فضائی دفاعی نظام سے لیس کیا جا رہا ہے، لیکن واشنگٹن نے عراق میں داعش کے قبضے کے عروج پر مختلف وجوہات کی بنا پر بغداد کو ہتھیار دینے سے انکار کر دیا تھا اور اسی تاخیر نے تکفیری قبضے کا راستہ کھول دیا۔ امریکہ نے اس وقت جب داعش کو شکست دی جا رہی تھی، یعنی 2015ء کے آخر میں عراقی حکومت کو کچھ ناکارہ F-16 لڑاکا طیارے فراہم کیے تھے، لیکن یہ جنگی طیارے شروع سے ہی گراؤنڈ کیے گئے اور عراقیوں کے کسی کام نہیں آئے۔ عراقی سکیورٹی ذرائع کے مطابق F-16 لڑاکا طیارے پرزوں کی مناسب سپلائی نہ ہونے اور ماہرین کی کمی کی وجہ سے تقریباً ناکارہ ہوچکے ہیں، جس سے یہ بات واضح ہے کہ امریکی فوج نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی کہ عراقی فضائیہ ان کی اجازت کے بغیر انہیں اپنے کام میں نہ لاسکے۔
عراق کی مرکزی حکومت کے ساتھ فوجی طور پر بات چیت اور تعاون کرنے کے بجائے، امریکہ مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے کردوں کو مضبوط کرکے سیاسی اور سکیورٹی مراعات حاصل کرنے کا خواہشمند ہے۔ عراقی کردستان پر فضائی دفاعی نظام کا قیام ایسی حالت میں ہے کہ گذشتہ دو سالوں میں اربیل میں واقع گیس تنصیبات اور امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ واشنگٹن حکام ان آپریشنز کے لیے مزاحمتی گروپوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ گذشتہ سال نومبر میں اربیل میں امریکی قونصل خانے پر راکٹ حملہ کیا گیا تھا، جس میں ایک امریکی ملازم ہلاک ہوا تھا۔ اس طرح کے حملوں کے تسلسل نے واشنگٹن حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دوسری جانب گذشتہ سال جولائی اور اکتوبر میں صوبہ سلیمانیہ میں خرمور گیس فیلڈ پر میزائل حملے کیے گئے تھے، جس سے گیس نکالنے اور برآمد میں رکاوٹ کے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔ اس وقت عراقی حکام کا خیال تھا کہ امریکہ کی طرف سے عراقی گیس کردستان کی علاقائی حکومت کے ذریعے اسرائیل کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
امریکا میزائل خطرات سے نمٹنے اور سفارتی مراکز کے دفاع اور خطے کی گیس تنصیبات کی حفاظت کے بہانے دفاعی نظام منتقل کر رہا ہے۔ دوسری جانب حالیہ برسوں میں کردستان کے علاقے کو سیاسی مسائل اور تیل کے وسائل کی برآمد کے حوالے سے مرکزی حکومت کے ساتھ مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے، اس لیے واشنگٹن کی کوشش ہے کہ بغداد کے خلاف کردوں کو مضبوط کیا جائے۔ ایک ایسا عمل جو اربیل اور بغداد کے درمیان کشیدگی کو تیز کرسکتا ہے اور عراق کے داخلی ماحول کو کشیدہ بنا سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں واشنگٹن کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے کردستان کے علاقائی رہنماؤں نے علیحدگی پسند گروپوں سے نمٹنے کے لیے فوج اور حشد الشعبی فورسز کو اربیل کے زیر کنٹرول علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی تھی۔ بہرحال جتنا فوجی توازن اربیل کے حق میں ہوگا، اتنا ہی مرکزی حکومت کے خلاف صف بندی زیادہ ہوگی۔
اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ عراق میں کسی بھی امریکی فوجی مہم جوئی کا نقطہ ایران اور مزاحمتی گروہوں کے خلاف ہے اور یہ نیا منصوبہ بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ امریکیوں نے ہمیشہ ایران پر عراق کو غیر مستحکم کرنے کا الزام لگایا ہے اور وہ خطے میں نئے فوجی ساز و سامان کی تعیناتی کے ذریعے تہران کی نقل و حرکت پر بغور نگرانی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گذشتہ مہینوں میں پاسداران انقلاب اسلامی نے کردستان کے علاقے میں کرد علیحدگی پسند گروپوں سے نمٹنے کے لیے ان گروپوں کے ٹھکانوں پر متعدد میزائل حملے کیے، جو ایران کی سرحدوں کو غیر محفوظ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور واشنگٹن نے اس معاملے پر ردعمل کا اظہار کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ عراق کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔
امریکہ ایران کے میزائل اور ڈرون کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اربیل کو دفاعی نظام سے لیس کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایران میزائلوں اور ڈرونز کے میدان میں صلاحیت کے اس درجے پر پہنچ چکا ہے کہ امریکی دفاعی نظام بھی اس کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا اور خود وائٹ ہاؤس کے حکام بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی عسکری حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو اسے ہر ممکنہ طاقت سے جواب دیا جائے گا اور اس پر کوئی غور و فکر یا مصلحت نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ وہ عراقی مزاحمتی گروہ جو کہ امریکہ کے مفادات کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھے جاتے ہیں، وہ بھی میزائلوں اور ڈرونز کے میدان میں بہت سی کامیابیاں حاصل کرچکے ہیں اور وقتاً فوقتاً امریکی افواج کے ٹھکانوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔
واشنگٹن، جس نے عراق میں اپنے بہت سے اڈے بند کر دیئے ہیں اور بنیادی طور پر وہ عین الاسد اور اربیل تک محدود ہیں، اربیل اور اور وہاں موجود امریکہ مخالف گروہوں کے خطرات سے نمٹنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگرچہ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ واشنگٹن اس خطے کی سرزمین پر جدید پیٹریاٹ سسٹم کو تعینات کرے گا، لیکن اس کی ضرور توقع ہے کہ اس خطے میں جدید سینسرز اور ریڈارز کے ساتھ مختصر فاصلے کے نظام کو تعینات کیا جائے گا۔ بنیادی طور پر یہ منصوبہ عراق کے اندر ایران اور مزاحمتی گروہوں کے حملوں کے خلاف بنایا گیا ہے اور شارٹ رینج سسٹم بھی واشنگٹن کے اہداف کو پورا کرسکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے حکام عراق کے استحکام اور سلامتی میں مدد کے مقصد سے اس طرح کے اقدامات کا جواز پیش کرتے ہیں، لیکن یہ مسئلہ سکیورٹی چیلنجوں میں اضافہ کرے گا اور عراق کو دوبارہ عدم استحکام اور افراتفری کے راستے پر دھکیل دے گا۔


































