
Oplus_16908288
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
ٹرمپ کو آرمی نے بہت سمجھایا کہ ایران پر حملہ خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے اس لیے اس سے اجتناب کیا جائے۔ ٹرمپ اسی کی دہائی سے ایک وہم کا شکار تھا کہ ایرانی قیادت ختم کرکے خارگ جزیرے پر قبضہ کر لیا جائے گا اور ساتھ ہی ایران کی کہانی ختم ہو جائے گی۔ امریکہ نے عراق اور افغانستان میں مار اس لیے کھائی کہ پورے ملک پر قابض ہوگئے جو بہت ہی مہنگا سودا تھا۔ بہت سے غلط اور باہم متضاد بیانیوں پر یہ جنگ شروع کی گئی۔ شروع میں کہا گیا کہ ہم رجیم چینج کریں گے اب فرما رہے ہیں کہ یہ ہمارا مقصد ہی نہیں تھا یعنی انگور کھٹے ہیں۔ پھر کہا ہم ایران کی میزائل صلاحیت کو ختم کریں گے، ڈرون صلاحیت کو برباد کریں گے، اب تک بیس بار اعلان کر چکے ہیں کہ یہ سب کچھ ہو چکا ہے پھر آنکھ کھلتی ہے اور صبح کی خبروں میں تل ابیب اور حیفا جل رہے ہوتے ہیں۔ ابھی تک اسی میں کنفوز ہیں کہ وہ ایران کو کیا سمجھتے ہیں:
ٹرمپ :میں ایران کا سب سے اچھا دوست بنوں گا
ٹرمپ:ہم ایران کو دوبارہ عظمت دیں گے
ٹرمپ:ہم (ایران کو) پتھر کے زمانے میں واپس بھیج دیں گے
پتھر کے زمانے کی بات خوب کی، اس نے پوری ایرانی قوم اور تہذیب کی توہین کردی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساوتھ افریقہ کے سفارتخانہ نے اس کا خوب جواب دیا: ایک ایسے وقت میں جب تم ابھی غاروں میں آگ تلاش کر رہے تھے، ہم سائرس کے زمانے میں انسانی حقوق تحریر کر رہے تھے۔ ہم نے سکندر کے طوفان اور منگول حملوں کو برداشت کیا اور باقی رہے کیونکہ ایران صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک تہذیب ہے۔
جیسے ہی امریکی صدر اعلان کرتے ہیں کہ ایران کی حملوں کی صلاحیت ختم ہوگئی ہے تو بڑا حملہ ہو جاتا ہے۔ کل ہی اعلان کیا کہ یہ صلاحیت تو تقریباً ختم ہی ہوگئی ہے اس کے بعد فوکس نیوز نے خبر دی کہ ایران کے حملوں کے بعد تل ابیب میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اسرائیل پر ایران کی جانب سے جنگ کی سب سے شدید بمباری آج کی جا رہی ہے۔ میزائل یکے بعد دیگرے برس رہے ہیں اور دفاعی نظام مکمل طور پر دباؤ میں آ چکا ہے۔ صہیونی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور آئرن ڈوم بھی ختم ہوگیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی شکست خوردہ ہو چکے ہیں، اب ان کے حملے مکمل طور پر سول انفراسٹکچر پر ہو رہے ہیں، خطے کے بڑے پل کو تباہ کیا گیا ہے، اسی طرح خطے کے میڈیکل کے قدیم سنٹر پر بمباری کی گئی ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایران کے صدر جناب مسعود پیزشکیان نے عالمی ادارہ صحت، ریڈ کراس اور عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکہ اور ازراہل کے ہسپتالوں اور دوا ساز اداروں پر حملوں کے "جرم” کا جواب مانگیں۔ وہ پوچھتے ہیں: "ایران میں ایک طبی تحقیقی مرکز کے طور پر ہسپتالوں، دوا ساز کمپنیوں اور پاسچر انسٹی ٹیوٹ پر حملہ کیا پیغام دیتا ہے؟
امریکی بیانیے کی جنگ بھی ہار چکے ہیں۔ خفیہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا ذرائع پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کا کہا ہے کہ امریکی بیانیہ شکست کھا رہا ہے، اسے ڈالروں سے ضمیر خرید کر لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کیا جائے۔ انہیں نہیں معلوم کہ خود سچ کی ایک طاقت ہوتی ہے اور جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ اسی مکالمہ کو دیکھ لیں: امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا: اگر ایران نے ہتھیاروں کے بجائے اپنے عوام پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہوتے تو وہ ایک کہیں بہتر ملک ہوتا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر جناب قالیباف نے کہا: اگر ہم ہتھیاروں پر خرچ نہ کرتے تو آپ لوگ 48 گھنٹوں کے اندر ہمارے تمام تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیتے اور ایران میں کئی نئے غزہ بنا دیتے۔ جناب قالیباف نے ایسی چوٹ لگائی کہ مارکوروبیو کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ عام آدمی کے سامنے جب ایرانی موقف آیا تو امریکی مؤقف بے حیثیت ہوگیا۔
اسٹریٹجک طور پر بھی ایران جیت چکا ہے۔ امریکی صحافی ویل شرایور لکھتے ہیں کہ امریکہ کو ہمیشہ کے لیے خلیج فارس سے نکال دیا گیا۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ خطے سے نکلنے کے لیے ہمیں ایران کے ساتھ معاہدے کی ضرورت نہیں! چاہے امریکہ ابھی خطے سے نکلے یا بعد میں، ایران نے ایک فیصلہ کن اور ناقابلِ واپسی اسٹریٹجک فتح حاصل کر لی ہے۔ امریکہ کبھی بھی خلیج فارس کے علاقے میں اپنے اڈے دوبارہ حاصل نہیں کر پائے گا اور نہ ہی کبھی آبنائے ہرمز پر دوبارہ تسلط حاصل کر سکے گا۔ ایران کی ایک بڑی فتح آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ امریکی پچھلی کئی دہائیوں سے کوشش کر رہے تھے کہ اس اہم ترین علاقے پر قبضہ کر سکیں۔ ان کی ایک حماقت نے اسلامی جمہوریہی ایران کو یہ موقع دیا کہ وہ اس اہم ترین خطے کو ایرانی عملداری میں لے آئے۔ اب اس کی حفاظت اور یہاں ہونے والی جہاز رانی مکمل طور پر ایرانی سکیورٹی فورسز کے قبضے میں ہے۔ امریکی صدر اعلانیہ آبنائے ہرمز میں فوجیں اتارنے سے بھاگ چکے ہیں۔ انہیں معلوم ہے وہ جیسے ہی یہ حماقت کریں گے امریکی فوجیوں کی لاشیں واپس امریکہ نہیں پہنچ سکیں گی بلکہ ان سے خلیج فارس کی شارکس کے پیٹ بھریں گے۔ دوسری جنگ عظیم میں ہارے ترکی سے تمام اتحادی مل کر بھی سمندری راستہ نہیں کھلا سکے تھے اور بڑی بربادی کے بعد واپس مڑے تھے یہاں تو ایک طاقتور فورس حفاظت پر موجود ہے۔
پرانے زمانے سے ماہرین جنگ کہتے ہیں جو فوج دوران جنگ گھوڑے تبدیل کرے اسے شکست سے کوئی نہیں بچا سکتا، امریکی یہی کر رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی ناکامی کے بعد، امریکی آرمی کے بڑے عہدوں میں بڑا ردوبدل کیا گیا ہے، چیف آف اسٹاف کو وزیر جنگ کے حکم پر برطرف کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی امریکی فوج کے دو دیگر جنرلز، میجر جنرل ولیم گرین جونیئر اور میجر جنرل ڈیوڈ ہوڈن کو امریکی وزیر جنگ نے برطرف کردیا۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ سینئر فوجی افسران نے آرمی چیف کو برطرف کرنے کی خبر پر غصے اور مایوسی کا اظہار کیا ہے اور اسے فوج پر تازہ ترین ضرب قرار دیا ہے۔ نیوز پیپر نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ وزیر جنگ کا آرمی چیف کو برطرف کرنے کا فیصلہ ان کے اور فوجی کمانڈروں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی علامت ہے۔ آخر میں ٹرمپ کے لیے مشورہ ہے کہ آپ شکست کے لیے فتح کا لفظ استعمال کرلیں اور خطے سے نکل جائیں اسی میں امریکہ اور خطے کی بہتری ہے ورنہ یہ کہتے ہوئے جائیں گے کہ بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے۔


































