
ترجمہ:
اور جان لو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں اور بے شک اللہ ہی کے ہاں اجر عظیم ہے۔
اموال اور اولاد بھی آزمائش ہیں کہ کیا ان کو انسان زندگی کا مقصد مقصود قرار دیتا ہے یا ان چیزوں کو رضائے رب کے لیے ذریعہ بناتا ہے۔ اس کی رضامندی کی صورت میں انسان اجر عظیم کا مستحق بنتا ہے۔ مال و دولت کی مثال پانی اور کشتی کی ہے کہ پانی اگر کشتی کے نیچے رہے تو یہ کشتی پار ہونے کے لیے ذریعہ ہے اور اگر یہ پانی کشتی کے اندر آ جائے تو اسے غرق کر دیتا ہے۔ اسی طرح اگر مال و اولاد ایک مقدس مقصد کے لیے ذریعہ بنیں تو بہترین وسیلہ ہیں اور اگر انسان انہیں مقصد قرار دے تو انسان ہلاکت میں پڑ جاتا ہے۔
یہ اجر عظیم ان لوگوں کو مل سکتا ہے جو اس مال و اولاد کی آزمائش میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے:
ترجمہ:
اے آدم کے بیٹے! جب تو دیکھے کہ اللہ سبحانہ تجھے پے در پے نعمتیں دے رہا ہے اور تو اس کی نافرمانی کر رہا ہے تو اس سے ڈرتے رہنا۔


































