
تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہاہےکہ طوفان الاقصیٰ وقت کی ضرورت تھا جس نے صیہونی حکومت کو زوال کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی پینتیسویں برسی کے عظیم الشان عوامی اجتماع سے خطاب میں امام خمینیؒ کے افکار و نظریات میں مسئلہ فلسطین کی اہمیت کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ فلسطین کے بارے میں امام خمینیؒ کی پچاس سال پہلے کی پیشگوئی رفتہ رفتہ عملی جامہ پہن رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ معجزے جیسے طوفان الاقصیٰ آپریشن نے خطے اور عالم اسلام پر تسلط کی دشمن کی بڑی سازش کو ناکام بناتے ہوئے صیہونی حکومت کو زوال کے راستے پر ڈال دیا ہے اور غزہ کے عوام کی ایمانی اور قابل تحسین مزاحمت کے سائے میں، صیہونی حکومت دنیا والوں کی نظروں کے سامنے پگھلتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن الاقصیٰ طوفان کے دوران فلسطینیوں نے دشمن کو ایسے کونے میں دھکیل دیا ہے جہاں سے اس کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں بچا۔ انہوں نے کہا کہ سبھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ صیہونی حکومت کو ایک چھوٹے سے فلسطینی گروہ کے مقابلے میں سنگین شسکت ہوئی ہے اور وہ اس معرکے میں اپنے اعلان کردہ اہداف کو حاصل کرنے میں مکمل طور سے ناکام رہی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ مسئلہ فلسطین طوفان الاقصیٰ آپریشن کی بدولت دنیا میں اول درجے کا مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت نے گرم مزاحمتی محاذ کی حقیقت کو سمجھنے میں غلطی کی اور اپنے غلط اندازوں کے نتیجے میں خود کو ایک دائرے میں لا کھڑا کیا جہاں سے نکلنا اب اُس کےلئے مشکل ہوگیا ہے۔ انھوں نے اسی طرح شہید صدر رئیسی کی خصوصیات اور خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اور شہیدان خدمت کے جلوس جنازہ میں قوم کی زبردست اور معنی خیز شرکت کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کے انتہائی اہم الیکشن میں عوام کی بھرپور شرکت، شہیدان خدمت کو الوداع کہنے کے قوم کے بے مثال کارنامے کا تتمہ ہوگی۔ ولی امر مسلمین نے اپنے خطاب میں امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے افکار و نظریات میں مسئلہ فلسطین کی اہمیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اسلامی تحریک کے آغاز کے پہلے دن سے ہی مسئلہ فلسطین کو اہمیت دی اور دقت نظر اور مستقبل پر گہری نگاہ کی بنیاد پر فلسطینی قوم کے سامنے ایک راستے کی تجویز رکھی اور امام خمینی کا یہ انتہائی اہم نظریہ رفتہ رفتہ عملی جامہ پہن رہا ہے۔انھوں نے اسلامی تحریک کے آغاز میں ہی ایران کی ظالم و جابر طاغوتی حکومت کی سرنگونی اور اسی طرح سوویت حکومت کی حکمرانی اور دبدبے کے دور میں کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کی پیشگوئی کو امام خمینی کی بصیرت کے دو دیگر نمونے قرار دیا۔ ولی امر مسلمین نے خطے کی اہم ضرورت کی تکمیل اور مجرم حکومت پر کاری ضرب کو طوفان الاقصیٰ آپریشن کی دو اہم خصوصیات بتایا اور کہا کہ امریکا، عالمی صیہونزم کے ایجنٹوں اور بعض علاقائی حکومتوں نے خطے کے حالات اور روابط کو بدلنے کے لیے ایک بڑی اور دقیق سازش تیار کر رکھی تھی تاکہ صیہونی حکومت اور خطے کی حکومتوں کے درمیان اپنے مدنظر روابط قائم کروا کر مغربی ایشیا اور پورے عالم اسلام کی سیاست اور معیشت پر منحوس حکومت کے تسلط کی راہ ہموار کر دیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ منحوس چال عملی جامہ پہننے کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی کہ الاقصیٰ کا معجزاتی طوفان شروع ہو گیا اور اس نے امریکا، صیہونزم اور ان کے پٹھوؤں کے تمام پرخچے اڑا دیے، اس طرح سے کہ پچھلے آٹھ مہینے کے واقعات کے بعد اس سازش کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔


































