
طیارے کی تباہی میں ہلاکتوں کی تعداد کی تائید نہیں کی جاسکتی لیکن گزشتہ پانج سال کے دوران افغانستان میں امریکا کا یہ سب سے بڑا فوجی نقصان ہے،برطانوی تجزیہ نگار
طیارے کو مار گرانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، طیارے میں سوار متعدد اعلی افسران سمیت تمام امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں،افغان طالبان
کابل (نیوزڈیسک)برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں مقیم فوجی امور کے ایک ماہر نے افغانستان میں امریکی فوج کے طیارے کی تباہی کو افغانستان میں گزشتہ پانچ سال کے دوران امریکا کا سب سے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ڈیفنس ون نامی ویب سائٹ کے تجزیہ نگار جوزف ڈمپسی نے اس واقعے پر اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی طیارے کی سرنگونی، حالیہ برسوں کے دوران افغانستان میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی نقصان سمجھا جاتا ہے۔برطانوی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ طیارے کی سرنگونی میں ہلاکتوں کی تعداد کی تائید نہیں کی جاسکتی لیکن گزشتہ پانج سال کے دوران افغانستان میں امریکا کا یہ سب سے بڑا فوجی نقصان ہے۔امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ وہ افغان طالبان کے زیر کنٹرول علاقے میں ایک طیارے کی سرنگونی کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر حادثے سے متعلق جاری ہونے والی فوٹیج سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ طیارہ ای الیون قسم کا تھا جیسے امریکی فوج افغانستان میں جاسوسی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔اس سے پہلے آمدہ خبروں میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کی قومی ایئر لائن آریانا کا مسافر طیارہ غزنی میں گر کر تباہ ہوگیا ہے تاہم افغانستان کے شہری ہوابازی کے ادارے نے اس کی تردید کردی تھی۔افغان طالبان کے ترجمان نے مذکورہ طیارے کو مار گرانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوی کیا کہ طیارے میں سوار متعدد اعلی افسران سمیت تمام امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔


































