
کابل : افغانستان میں طالبان حکومت نے یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے کئی مضامین ختم کر دیے ہیں اور سینکڑوں کتابوں پر پابندی لگا دی ہے۔ افغان وزارت تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اٹھارہ مضامین بند کر دیے گئے ہیں۔ چھ سو اناسی کتابیں نہیں پڑھائی جائیں گی جبکہ دو سو ایک مضامین کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا۔ وزارت تعلیم نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ علما و ماہرین کے مشورے کے بعد کیا گیا ہے جس کا مقصد جامعات کے نصاب کو اسلامی شریعت اور حکومت کی پالیسیوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حذف کیے گئے مضامین میں سیاسیات اور قانون سے متعلق موضوعات خاص طور پر شامل ہیں۔ بنیادی حقوق، سیاسی اسلام کی تحریکیں، انسانی حقوق، جمہوریت، افغان آئین، خواتین کا سماجی کردار، تعلقات عامہ میں خواتین کا کردار، سیاسی نظام، سماجی علوم اور جنسی ہراسانی جیسے مضامین نصاب سے خارج کر دیے گئے ہیں۔ تعلیمی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان پالیسیوں سے افغانستان علمی و فکری تنہائی کا شکار ہو گا اور افغان ڈگریوں کی عالمی سطح پر ساکھ متاثر ہوگی۔


































