
بیروت : حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے تنظیم کے کمانڈر فواد شکر پر صیہونی حملے کے بعد بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا فواد شکر کی شہادت سے ہمارا عزم اور ارادہ مزید طاقتور ہوا ہے۔ اسرائیل کے خلاف لڑائی نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ شہید فواد شکر کی نمازجنازہ کے موقع پر خطاب میں سید حسن نصراللہ نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر مقاومتی تنظیموں کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ شہادت مقاومتی رہنماؤں کی تقدیر ہے. شہادت ہماری فتح کا زمینہ فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت نے مجدل شمس میں خود ساختہ واقعے کے ذریعے مقاومت کو بدنام کرنے کی مکروہ سازش کی۔ دروزی رہنماؤں کی ہوشیاری اور احساس ذمہ داری کی وجہ سے صیہونی حکومت کی یہ سازش سرے سے ہی ناکام ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ نہتے شہریوں اور رہائشی آبادیوں کو نشانہ بنانا صیہونی حکومت کی پرانی عادت ہے۔ حزب اللہ فلسطینی عوام کی حمایت کا تاوان ادا کررہی ہے۔ یہ نئی چیز نہیں ہے۔ ہمیں شہادت قبول ہے۔ ہم اپنے ایمان اور عقیدے کے تحت میدان جنگ میں داخل ہوگئے ہیں اور رہنماؤں کی شہادت ہمیں اپنے موقف سے نہیں ہٹاسکتی ہے۔ ہم فلسطین اور غزہ کی حمایت جاری رکھیں گے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ صیہونی خوش فہمی میں ہے کہ تہران میں اسماعیل ہنیہ پر حملے سے ایران خاموش ہوگا۔ ہنیہ پر حملہ ایران کی خود مختاری پر حملہ ہے۔ صیہونیوں نے تمام حدود کو پار کرلیا ہے جس پر ان کو پچھتانا اور رونا پڑے گا۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہم تمام محاذوں پر نئے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ دشمن کو اب مقاومت کے جوابی حملوں کا انتظار کرنا ہوگا۔ رہنماوں اور کمانڈروں کی شہادت سے مقاومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ ماضی کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ اس سے مقاومت مزید مضبوط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مقاومتی محاذ کے حامیوں کو اطمینان دلاتے ہیں کہ ہم اپنے کمانڈر کا بہترین متبادل رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس کمانڈروں کی لمبی فہرست ہے۔ صیہونیوں کو ہمارا پیغام یہی ہے کہ زیادہ خوش نہ ہوں بلکہ رونا شروع کریں۔ دشمن کو معلوم نہیں کہ کس سمت سے ہم جوابی حملہ کریں گے۔ ہم ایک حقیقی اور سوچی سمجھی جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔


































