
امام ہادی النقی کی روایت کے متعلق ایک تخیلی کہانی
میثم اپنے گھر کے صحن میں گیند کے ساتھ کھیل رہا تھا جو ماں نے پرانے کپڑوں سے بنائی تھی۔ اس نے ایسا شوٹ مارا کہ گیند پڑوسی کے گھر چلی گئی اور اسے پھر ان کے گھر جانے کا موقع مل گیا۔ جلدی سے گلی میں گیا اور ظالم حاکم کے سپاہی جو پڑوسی کے گھر کے دروازے پہ ہمیشہ پہرا دیتے تھے التماس کرنے لگا۔
ایک سپاہی نے میثم کو دیکھتے ہی کہا تم دوبارہ آگئے جاؤ جلدی سے گیند اٹھا کے باہر نکلو ہمارے لیے دوبارہ کوئی مسئلہ نہ کھڑا کر دینا تمہارے رونے کی آواز سننے کا حوصلہ نہیں۔
میثم بہت شوق سے اس گھر میں داخل ہوا۔ گیند پھینکنا تو ایک بہانہ تھا تاکہ وہ امام ہادی کے گھر جا کر انہیں دیکھ سکے۔ صحن کے کونے میں کھڑا ہوتا امام کو مسکرا کر دیکھتا اور اپنی گیند اٹھا کر چلا آتا۔
جب وہ اپنے گھر پلٹا تو اس کے بھائی سعید نے کہا تم کتنے خوش قسمت ہو کہ اتنے چھوٹے ہو لیکن بعض دفعہ امام کو جا کے دیکھ لیتے ہو۔ امام بالکل ہمارے پڑوس میں رہتے ہیں لیکن ہمیں انہیں دیکھنے کی اجازت نہیں۔
میثم بعض دفعہ اپنے بھائی کے ساتھ نخلستان جاتا اور کھیلتا۔ سعید اسے کہتا تم مثلا میری مدد کے لیے آئے ہو، کھیل بس۔ آؤ مدد کرو۔
میثم ایک دن کھجوروں کے درخت کے درمیان کھیل رہا تھا کہ اس کو ایک پیارا سا پھول نظر آیا. اتنی گرمی میں یہ پھول؟ اسے تھوڑا عجیب لگا جیسے ہی اس نے پھول دیکھا اسے امام کی یاد آئی اسے توڑا اور سعید کے پاس گیا کہو بھائی جان کیا ابھی ابھی گھر پلٹ سکتے ہیں؟
سعید نے کہا ہم ابھی ہی آئے ہیں اور مجھے کام ہے۔
یہاں دیکھیں میں نے کتنا پیارا خوشبودار پھول ڈھونڈا ہے۔ چاہتا ہوں کہ یہ امام کو ہدیہ دوں۔ وہ ظالم سپاہی تو امام کو گھر سے نکلنے نہیں دیتے چلیں چلیں یہ پھول امام کو دیتے ہیں۔
سعید نے جب امام کا نام سنا تو کہا ٹھیک ہے صرف امام کی خاطر۔
میثم جب گھر پہنچا تو جلدی سے چھت پر گیا اور زور زور سے ہنستے ہوئے کھیلنے لگا تاکہ سپاہیوں کو پتہ چلے کہ میں کھیل رہا ہوں پھر اچانک گیند ہمسائے کے گھر پھینک دی جلدی سے سپاہیوں کے پاس گیا اور التماس اور رو کر ان کو راضی کیا اور گھر میں داخل ہوا۔ امام اور ایک اور شخص صحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میثم آگے گیا سلام کیا اور وہ پھول امام کو پیش کیا۔
امام نے مسکرا کر جواب دیا پھول کو سونگا، اپنی آنکھوں پہ لگایا اور صلوات پڑھا۔ پھر اپنے دوست سے فرمایا جو بھی کسی پھول کو سونگے اور اپنی آنکھوں پہ رکھے اور صلواۃ پڑھے، خدا اس کو بہت ثواب دیتا ہے اور برائی اس سے دور کرتا ہے۔
میثم خوشی سے گھر پلٹا کہ جو امام سے سنا باقیوں کو بھی بتائے۔
اصل روایت:
ابو ہاشم جعفری بیان کرتا ہے۔ ایک دن میں امام ہادی کی خدمت میں شرفیاب تھا۔ ایک بچہ امام کے پاس آیا انہیں پھول پیش کیا۔ امام نے اس پھول کو لیا، سونگا، اپنی آنکھوں سے لگایا اور چوما اور پھر مجھے ہدیہ دیا اور فرمایا جو بھی پھول کو سونگے اپنی آنکھوں سے لگائے اور اسے چومے اور محمد و آل محمد پر صلوات پڑھے بے حساب حسنات اس کے نامہ اعمال میں لکھے جاتے ہیں اور بہت سے گناہ معاف ہوتے ہیں.
(کتاب: کافی جلد 6، صفحہ 525)


































