
بعض نوجوانوں کی بازیابی اور دوسروں کوبھی رہا کرنے کی یقین دہانی پر مزار قائد کے باہر2 اپریل سے جاری دھرنا ختم، بازیاب افراد کے نام بتانے سے گریز
امید ہے ریاستی ادارے اپنے وعدوں پر عمل کریں گے ،یہ دھرنا پہلا ہے نہ ہی آخری ،وعدہ پورا نہیں کیا تو احتجاج دوبارہ شروع کردیا جائے گا، علامہ احمد اقبال
کراچی(نیوز ڈیسک) لاپتہ افراد کی بازیابی شروع ہونے پر کراچی میں مزار قائد کے سامنے 28دن سے جاری دھرنا ختم کردیا گیا،مقتدر اداروں نے باقی افراد کوبھی رہا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے،جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے رہنما علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا ہے کہ اگروعدے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا جائے گا، مزار قائد کے باہر2 اپریل سے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے رہنماو ¿ں نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں کیا، 28 دن جاری رہنے والے دھرنے میں شیعہ جماعتوں ، اداروں ، علما، خطبا، نوحہ خواں ، منقبت خواں حضرات، اہل سنت برادری اور سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھرپور اظہار یکجہتی کیا لیکن کسی حکومتی شخصیت نے احتجاجی کیمپ کا رخ نہیں کیا،علامہ احمد اقبال رضوی نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ گذشتہ چالیس سال سے ملت جعفریہ پر ظلم و ستم جاری ہے لیکن ملت جعفریہ نے ہمیشہ امن کا دامن تھامے رکھا مسنگ پرسنز کی بازیابی کیلئے کئی سالوں سے تحریک چلارہے ہیں ، مزار قائد پر دھرنے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جو مذاکرات کا عمل رکا ہے، اسے دوبارہ شروع کیا جائے اور بازیابی کا عمل بھی دوبارہ شروع ہو، انہوں نے کہا کہ احتجاج کے نتیجے میں برسوں سے لاپتہ نوجوانوں کی بازیابی کا عمل دوبارہ شروع ہوگیا ہے، کچھ افراد دھرنا ختم کرنے کی پریس کانفرنس سے قبل ہی بازیاب ہوگئے تھے اور باقی افراد کوبھی رہا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، ہیں امید کرتا ہوں ریاستی اداروں سے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کریں گے ،خانوادوں اور شیعہ جماعتوں کی مشاورت کے بعد احتجاجی دھرنے کو اٹھا دیا گیاہے،انہوں نے سکیورٹی مسائل کی وجہ سے نوجوانوں کے نام بتانے سے گریز کیا ،انہوں نے کہا کہ اگر کوئی نام جاننا چاہتا ہے تو خود لاپتہ افراد کے خانوادوں سے رابطہ کرسکتا ہے، یہ دھرنا پہلا دھرنا نہیں ہے اور نہ ہی آخری ہے، ہم مسلسل اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے، جب تک ہمارا آخری عزادار واپس نہی آجاتا ہماری یہ آئینی اور قانونی تحریک جاری رہے گی۔


































