
تحریر: سید عدنان زیدی
ایران کے اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ پر دو کروڑ سے زائد افراد کی سڑکوں پر موجودگی نے عالمی سیاست میں ایک بار پھر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایرانی ریاستی میڈیا کے مطابق یہ محض سالگرہ نہیں بلکہ عوامی عزم کی تجدید تھی۔۔۔۔ ایک ایسا منظرنامہ جس نے بیرونی دباؤ کے بیانیے کو چیلنج کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اجتماع محض قومی روایت تھا یا عالمی طاقتوں کے لیے واضح پیغام۔؟ رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس موقع پر قومی طاقت کو عوامی استقامت سے جوڑا اور کہا کہ میزائلوں سے زیادہ قوم کا عزم فیصلہ کن ہوتا ہے۔ ان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ جب قوم میدان میں ہو تو بیرونی دباؤ اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ یہی نکتہ تہران کے حالیہ بیانیے کا مرکزی ستون دکھائی دیتا ہے: داخلی اتحاد، خارجی دباؤ کے مقابل ایک ڈھال۔
دوسری طرف سفارتی محاذ پر بیانات بھی کم اہم نہیں۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے عندیہ دیا کہ واشنگٹن کی جانب سے کوئی واضح تجویز سامنے نہیں آئی اور مسقط میں پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ یہ بیان اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ دباؤ اور مذاکرات کی دوہری حکمت عملی بیک وقت جاری ہے۔ تہران کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ جوہری ہتھیار اس کے ایجنڈے میں نہیں، مگر توانائی اور طبّی ضروریات کے لیے افزودگی اس کا حق ہے۔ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے "طاقت کے ذریعے امن” کے تصور پر تنقید کرتے ہوئے اسے عالمی نظم کے لیے خطرناک قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر سفارتکاری برابری کی بنیاد پر نہ ہو تو کشیدگی بڑھتی ہے۔
اس پس منظر میں غزہ سے حماس کے ترجمان ابو عبیدہ کی جانب سے ایران کے ساتھ یکجہتی کے بیان نے خطے کی صف بندی کو مزید واضح کیا۔۔۔ یعنی کسی ممکنہ تصادم کے اثرات ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ اگر امریکہ اور ایران باہمی احترام کے ساتھ کسی فریم ورک پر متفق ہوتے ہیں تو کشیدگی میں کمی آسکتی ہے۔ دباؤ کی پالیسی کا تسلسل پابندیاں اور بیانیہ وار جاری رہا تو عدم اعتماد مزید گہرا ہوگا۔ عسکری غلطی کا خطرہ کسی بھی غلط اندازے سے محدود تصادم وسیع تر علاقائی کشیدگی میں بدل سکتا ہے۔ یہ بحث صرف ایران تک محدود نہیں۔ خود مختاری بمقابلہ دباؤ کا سوال کئی ریاستوں کے لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ 22 بہمن کے اجتماعات نے کم از کم اتنا ضرور واضح کیا کہ ایرانی قیادت اپنی داخلی حمایت کو سفارتی وزن کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
اسلام آباد کا سانحہ:
اسی دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی جامع مسجد میں خودکش حملہ ایک سنگین سانحہ بن کر سامنے آیا۔ نمازِ جمعہ کے دوران نمازیوں کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانیت کے خلاف جرم ہے بلکہ ریاستی سیکیورٹی کے نظام پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ ایسے حساس شہر میں اور غیر ملکی معزز مہمان کی موجودگی کے دوران، اس نوعیت کا واقعہ پیش آنا پالیسی اور انٹیلی جنس کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ مکتبِ تشیع کی جانب سے ملک گیر احتجاج اور جی سکس ٹو اسلام آباد میں اجتماعی نمازِ جمعہ و ریلی اس امر کا اظہار ہے کہ عوام صرف حملہ آور کی شناخت پر اکتفا نہیں کرنا چاہتے۔ مطالبہ یہ ہے کہ سہولت کاروں کی پوری زنجیر بے نقاب کی جائے، تکفیری بیانیے کے پھیلاؤ کو روکا جائے اور نفرت انگیز سرگرمیوں کی اجازت دینے والوں کا محاسبہ ہو۔ ریاستی اداروں کے لیے یہ لمحہ خود احتسابی اور جامع حکمت عملی ترتیب دینے کا ہے، تاکہ عبادت گاہیں محفوظ ہوں اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔


































