
ایک دن رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ بچوں نے انہیں گھیر لیا کہ ان کے ساتھ کھیلیں۔ حضور پاک نے تھوڑا کھیلا اور اپنے صحابی بلال حبشی کو گھر بھیجا کہ بچوں کے لئے کچھ لائیں۔ بلال گئے اور کچھ دیر بعد اخروٹ لائے۔ رسول پاک(ص) نے اخروٹوں کو بچوں میں تقسیم کیا اور پھر مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔
ایک دن رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، معمول سے ہٹ کر جلدی ختم کردی۔ لوگوں نے سوال کیا آج آپ نے کیوں نماز جلدی ختم کی؟
آپ(ص) نے جواب دیا: "کیونکہ میں نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی۔”
بعض دفعہ لوگ اپنے نومولود بچے کو رسول پاک(ص) کی گود میں دیتے تاکہ آپ(ص) ان کے لئے دعا کریں یا ان کے لئے اچھا نام منتخب کریں۔ بعض دفعہ بچے ان کے لباس نجس کردیتے، لیکن رسول پاک(ص) بچوں کو بہت دوست رکھتے تھے اور اس چیز سے بالکل ناراض نہیں ہوتے اور ان کے والدین سے بھی کہتے کہ پرسکون رہئیے۔
جب رسول پاک اپنے اصحاب کے ساتھ کسی سفر سے پلٹتے تو (
میں ہی) بچے ان کے اطراف میں جمع ہوجاتے اور انہیں گھیر لیتے. رسول پاک(ص) اور اصحاب، بہت مہربانی کے ساتھ پیش آتے اور چھوٹے بچوں کو گود میں اٹھاتے اور انہیں پیار کرتے۔


































