
ایک قوم ایک نصاب کے نعرہ کے تحت جو نصابی کتب مرتب ہوئی ہیں، ان میں اہلبیت کا تذکرہ بالکل نہ ہونے کے برابر ہے، علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر
نصاب تعلیم کی کتب میں ایسا کوئی مواد نہیں ہے جس سے اقلیتی طلبہ کو کوئی مشکل درپیش ہو،علما بورڈ نے سلامی مواد نکالنے کی سفارشات کو مسترد کر دیا،
لاہور(نیوز ڈیسک) نصابی کتب میں اہلبیت اطہار علیہم السلام کا تذکرہ کم کردیا گیا، جس وجہ سے شیعہ حلقوں میں ارباب اقتدار کیخلاف اشتعال پھیل رہا ہے،
متحدہ علما بورڈ پنجاب کے رکن اور ، تحریک حسینیہ کے سربراہ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبرنے کہا ہے کہ ایک قوم ایک نصاب کے نعرہ کے تحت جو نصابی کتب مرتب ہوئی ہیں، ان میں اہلبیت کا تذکرہ بالکل نہ ہونے کے برابر ہے، علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے مطالبہ کیا ہے کہ پہلی جماعت سے دسویں تک تمام اسلامیات، اردو اور مطالعہ پاکستان کی کتب میں حضرت خاتم النبیین اور ان اہلبیت اطہار علیہم السلام کا خاص طور پر اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی سیرت اور تذکروں کو شائع کیا جائے ،ادھرمتحدہ علما بورڈ نے نصابی کتب سے اسلامی مواد نکالنے کی سفارشات کو مسترد کر دیا، متحدہ علما بورڈ کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی کی جانب سے ایم ڈی پی سی ٹی بی کو جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نصاب سے شریعت اسلامیہ اوراسلامی تاریخ نکالنے سے متعلق فیصلہ صوبائی کابینہ میں پیش نہیں کیا گیا جبکہ اسلامی مواد سے متعلق یک رکنی اقلیتی کمیشن کی سفارشات میں مسلم علما،مفکرین اور اساتذہ سے بھی کوئی مشاورت کی گئی اور نہ ہی اقلیتی کمیشن کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہےکہ کس مواد سے ہمارے ملک میں رہنے والی اقلیتوں کو اعتراض ہے۔نصابی کتب سے متعلق متحدہ علما بورڈ واضح پالیسی رکھتا ہے کہ کسی بھی قسم کانفرت انگیز اور توہین پر مبنی مواد شائع نہ ہو۔تاہم نصاب تعلیم کی کتب میں ایسا کوئی مواد نہیں ہے جس سے اقلیتی طلبہ کو کوئی مشکل درپیش ہو۔لہٰذا متحدہ علما بورڈ نصاب میں کسی طرح کی تبدیلی کی تائید و حمایت نہیں کرتااور نصاب سے شریعت اسلامی و تاریخ اسلامی سے متعلق مواد نکالنے کی تجویز کو مسترد کرتا ہے۔اس حوالےسے کہا گیاہےکہ متحدہ علماءبورڈ کے فل بورڈ کا تفصیلی فیصلہ بھی جلد جاری کر دیا جائیگا


































