
گلگت بلتستان میں بجلی نادہندگان کیلئے ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کر دیا گیا جس کے مطابق 2000ء سے 2017ء تک بجلی بل کی مد میں جن کے ذمہ بقایا جات ہیں وہ 31 اگست تک اسمارٹ میٹر لگا کر 50 فیصد کی چھوٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ سیکریٹری واٹر اینڈ پاور سجاد حیدر نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تمام نادہندہ صارفین جنھوں نے 2000ء سے 2017ء تک بل ادا نہیں کیا وہ 31 اگست سے پہلے اپنے گھروں میں اسمارٹ میٹر لگوا کر اپنے ذمہ واجب الاداء بقایہ جات میں 50 فیصد رعایت حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں بجلی نادہندگان کو دی جانے والی ایمنسٹی اسکیم سے اب تک صرف 9 لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ اگست کے آخر تک نادہندگان برقیات کو مہلت دی گئی ہے کہ وہ اپنے واجبات 50 فیصد دیکر نادہندگان کی فہرست سے نکل سکتے ہیں۔
سیکریٹری واٹر اینڈ پاور کا کہنا تھا کہ یکم ستمبر سے سو فیصد ریکوری ہوگی اور ادائیگی نہ کرنے والے صارفین کی بجلی کاٹ دی جائے گی اور انکے خلاف سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا۔ حال ہی میں صوبائی حکومت نے ڈومیسٹک صارفین کو ایک ایمنسٹی اسکیم متعارف کروائی تھی اس اسکیم کے تحت سال 2000ء سے 2017ء تک صارفین جنہوں نے ایک روپے بھی بل جمع نہیں کرایا تھا ان کو ایک رعایت دی گئی ہے، ان کی تعداد 3548 ہے جن کے ذمہ 314 ملین روپے واجب الادا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ریونیو کے حوالے سے صورتحال بہت خراب ہے لوگ تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ اس وقت سرکاری اداروں نے بجلی بلات کی مد میں 32 کروڑ روپے ادا کرنے ہیں جبکہ عوام نے 21 کروڑ ادائیگی کرنی ہے۔ ان سے بھی ریکوری کرنے کے لئے حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔


































