
درخواست کی سب سے عام قسم جو ہم بچوں میں دیکھتے ہیں وہ ہے کھلونے، کھانا، اسٹیشنری اور سامان مانگنا جو دوسرے بچوں کے پاس ہے اور اس کے پاس نہیں ہے۔
ایسے حالات ہیں آپ یا تو یہ سامان فراہم کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے؛
اس کےلئے آپ کو تربیت کا ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے نہ بچے کو نقصان پہنچے اور نہ آپ کو کوئی پریشانی ہو۔
بہترین راستہ یہ ہے کہ اپنے بچے کو کچھ مہارتیں سکھائیں اور کچھ ٹکنیکیں خود والدین اختیار کریں۔
ہمیں اپنے بچے میں ضبط نفس پیدا کرنا ہوگا، یا دوسرے معنوں میں”صبر”۔
اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جو چیز دیکھے فورا اس تک نہیں پہنچ سکتا، اس لئے والدین کو چاہیے کہ بچے کی پانچ میں سے دو فرمائشیں پوری کریں اور ایک کو بالکل کینسل کردیں اور دو کو تاخیر کے ساتھ پورا کریں ۔
اگر بچہ وہ چیز جو دیر سے ملنی ہے، بہت اصرار کرے تو اسے بچت کرنے کا طریقہ سکھائیں اور اسے بتائیں کہ وہ اپنی روزانہ کی پاکٹ منی یا عیدی جمع کرکے ایسا کرسکتا ہے۔
مثلا
بابا مجھے سائیکل چائیے۔
ابھی نہیں ہوسکتا
(اصرار، اصرار۔۔۔)
آپ کی پاکٹ منی کتنی جمع ہوئی ہے؟
صرف 500 روپے
اگر میں آپ کو ہر روز 100 روپے دوں تو 20 دن بعد کتنے جمع ہو جائیں گے؟
2500
سائیکل کی قیمت جمع ہونے میں کتنا ٹائم لگے گا؟
(مثلا)تین مہینے
پھر میں آپ کو ہر روز 100 روپے دوں گا آپ جمع کرو اور پھر ہم خریدیں گے۔
ہمیں بچے کی تمام خواہشات فراہم نہیں کرنی۔ اگر اس طریقے پر عمل نہیں کریں، تو بچہ کل کو والدین سے اور معاشرے میں ہر ایک سے بےجا توقعات رکھے گا ۔
یہ طریقہ آپ کے بچے کو سمجھانے کا صحیح حل ہے تاکہ بچہ بنے اور انتظام کے معنی، اسے عمل میں سمجھ آئے۔


































