Fri Oct 09, 2026

حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی پوسٹس نہیں کریں گی ریاض میں ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 36 زخمی

روزانہ کی خبریں

کرونا سے بھی زیادہ خطرناک

تحریر:ذاکر حسین میر

کوویڈ 19 سےکم وبیش ہرانسان متاثرہے۔ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا 28لاکھ افراد اس وائرس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جن میں سے دولاکھ کے قریب لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ دنیاکے محفوظ ترین لو گ بھی اپنے آپ کوغیر محفوظ سمجھتے ہیں اور خوف و ہراس کی ایک عجیب کیفیت میں مبتلاہیں۔ اس وائرس کے حوالے سے سب زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ یہ تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیابھرمیں لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں اور اس وبائی مرض کو شکست دینے کے لئے اپنی اقتصادی ،علمی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو ترک کربیٹھے ہیں۔
ہمارے اردگر گرد ایسی ہی بہت ساری موذی اور مہلک بیماریاں ہیں جن کا یا تو ہمیں علم نہیں یا ہم انہیں سنجیدہ نہیں لیتے۔ منشیات کو ہی لیجئے کیا یہ تیزی کے ساتھ پھیلنے والی بیماری نہیں ؟ کیا اس سے نسلیں تباہ نہیں ہوئیں ؟ کتنے گھر اس موذی بیماری کی وجہ سے ویران ہوئے ہیں ؟ کتنے معصوم بچے اس بیماری کی وجہ سے آوارہ ہوئے ہیں ؟ ہمارے اردگرد کتنے ایسے لوگ ہیں جو اسی موذی مرض میں مبتلا ہوئے اوردیکھا دیکھی میں اپنی جائیداد ، نوکری اور مقام ومنصب کو گنوا کر گلی کوچوں میں بھیک مانگ رہے ہیں؟ یہ ایک واضح اور عام سی مثال ہے جو گھر سے نکلتے ہی ہمارے لئے قابل مشاہدہ ہے۔ وگرنہ بہت ساری دوسری ایسی بیماریاں ہیں جو تیزی سے پھیلتی بھی ہیں اورصرف چند لوگوں کو ہی نہیں بلکہ نسلوں کو تباہ وبرباد کرتیں ہیں۔
انسان جسم اورروح کامرکب ہے ؛ جہاں جسم کے لئے مضراور نقصان پہنچانے والے وائرس موجود ہیں وہاں روح بھی بہت ساری بیماریوں سے متاثر ہوتی ہے۔روحانی اور جسمانی بیماریوں کا آپس میں گہراتعلق ہے؛ ان میں سے جو بھی کسی بیماری میں مبتلا ہوتو دوسرا اس سے ضرور متاثر ہوتاہے۔ بہت ساری جسمانی بیماریاں ایسی ہیں جو روح پر بھی اپنا اثر چھوڑتی ہیں، اسی طرح بہت ساری روحانی بیماریاں جسم کی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث بنتی ہیں۔ دینی تعلیمات میں روحانی بیماریوں (گناہ) اور جسمانی بیماریوں کے درمیان موجود شباہتوں کا ذکر ملتاہے جنہیں ہم یہاں پر خلاصہ کے طورپر بیان کریں گے: جسمانی بیماریوںمیں بعض کا علاج آسان ہوتاہے اور بعض کا مشکل، اسی طرح گناہ بھی بعض اوقات کبیرہ ہوتے ہیں اور بعض اوقات صغیرہ۔ بیماری جس قدر ہلکی ہو اسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، اسی طرح گناہ کو بھی چھوٹا سمجھ کر اگنور نہیں کرناچاہیے۔بعض بیماریاں والدین کی طرف سے بچوں میں منتقل ہوتیں ہیں اسی طرح بعض گناہ بھی والدین سے ہی بچوں میں منتقل ہوتےہیں۔ بیماریوں کے علاج میں پرہیز کاکلیدی کردار ہے ، اسی طرح گناہ سے بچنے میں بھی پرہیز کا بنیادی کردارہے۔جس طرح مریض مزیدار کھانوں کے ذائقہ سے محروم رہ جاتاہے اسی طرح گناہ سے آلودہ ہونےکے بعدبھی عبادت کا مزہ نہیں رہتا۔جس طرح بعض بیماریوں کے لئے ویکسین ہے اسی طرح بعض اچھے اعمال گناہوں کے لئے ویکسین ہوتے ہیں۔ جس طرح مریض کی سرزنش اور ملامت نہیں ہوتی اسی طرح گناہگار کی بھی سرزنش سے اجتناب کیاجانا چاہیے۔بعض بیماریاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مہلک ثابت ہوتیں ہیں اسی طرح بعض گناہ بھی ایک مدت کے بعد روح کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں۔جس طرح بیماریوں سے بچنے کےلئے چیک اپ ضروری ہے اسی طرح گناہوں سے محفوظ رہنے کے لئے محاسبہ ضروری ہے۔جس طرح بعض بیماریاں کسی علامت کو ظاہر کئے بغیر جڑیں پکڑتیں ہیں اسی طرح بعض گناہ بھی اندر ہی اندر میں اپنی جڑیں مضبوط کرلیتے ہیں۔جس طرح جسمانی بیماریوں کے علاج کے لئے طبیب حاذق کی طرف رجوع ضروری ہے اسی روحانی بیماریوں کے علاج کے لئے بھی ماہرین کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔
مذکورہ موازنہ سے یہ نتیجہ حاصل ہوتاہے کہ بیماری چاہے جسمانی ہو یا روحانی دونوں کےاثرات تباہ کن ہیں، دونوں کے لئے علاج کی ضرورت ہیں، دونوں پھیلتی ہیں، ایک عرصہ گزرنے کے بعد دونوں لاعلاج قرار پاتیں ہیں، دونوں کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے،دونوں میں پرہیز کی اشد ضرورت ہے اور دونوں بعض اوقات لوگوں کی پرسنل لائف توکبھی اجتماعی زندگی کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
کرونا کا یہ احسان ہے کہ ہم اس بات کو سمجھ گئے کہ بیماریوں کی روک تھام کے لئے کس قدر سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس موذی وائرس کی حد تک تو ہم نے یہ ثابت کر دیا کہ اس سے نمٹنےکےلئے ہم سب ایک ہیں۔وائرس سے متاثرہ ملکوں میں حکومت، فوج ، میڈیکل سے وابستہ لوگ، قانون نافذ کرنے والےادارے، کاروباری حضرات، مزدورطبقہ ، ملازمین ، میڈیا اوراس سے وابستہ لوگ غرض زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہاتھوں میں ہاتھ دے کر کرونا کے خلاف الرٹ ہیں ۔ ہر کسی کی زبان کا ورد یہی ہے کہ ہم کرونا کو شکست دیں گے۔ اس جذبہ کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے اور اس حدتک کسی کو اختلاف بھی نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم دیگر ہزاروں مہلک اور پھیلنے والی روحانی یا جسمانی بیماریوں کے حوالے سےبھی سنجیدہ ہیں؟ کیا چوری، ڈکیتی ،ظلم ، زیادتی ،قتل ، خود کشی اور آوارگی وغیرہ کسی بیماری ہی کے نتائج نہیں ہیں؟ منشیات کی بیماری میں مبتلا لوگ بیک وقت چند ایک بیماریوں سے لڑ رہے ہوتے ہیں ؛جگر ، کینسر، ایڈز اور پھیپھڑوں کے امراض نشہ کی وجہ سے ہی پھیلتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ہم کیوں یہ اور اس جیسی ہزاروں دیگر بیماریوں سے غافل ہیں ؟ آپ کیا سمجھتے ہیں یہ روز ہمیں قتل وغارت، عصمت دری ، معصوم بچیوں کے ساتھ زیاتی، معمولی رقم کے لئے قتل وغیرہ کی خبریں سننے کو ملتی ہیں اتفاقی ہیں؟ کیا جھوٹ، غیبت ، رشوت خوری، سود خوری ، شہوت پرستی ، دنیا طلبی ، سفارش، میرٹ کی پامالی ، ظلم ، کرپشن ، جہالت، حسد، کینہ ، ڈپریشن ، نادانی اور خود پسندی وغیرہ جیسی بیماریوں کا معاشرے میں ہر روز رونما ہونے والے دردناک جرائم میں کلیدی کردار نہیں ہے؟ ہم ان خطرناک موذی بیماریوں کے خلاف لاک ڈاون کیوں نہیں کرتے؟ ہم پل بھر میں گھروں کو اجاڑدینے والی اور نسل در نسل پھیلنے والی ان بیماریوں کے خلاف اکٹھے کیوں نہیں ہوتے؟اس لئے کہ ہم عادی ہوچکے ہیں کہ صرف اسی چیز کا ساتھ دیں گے جسےمیڈیا اچھالتا ہے۔ہمیں اپنے نفع ونقصان کی بنیاد پر قدم اٹھانا سیکھایا ہی نہیں گیا۔ہم اسی بات کو دہرائیں گے جو ہمیں سیکھائی جاتی ہے چاہے اس کا ہمارے نفع ونقصان سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو!یہی وجہ ہے کہ ہم ان تمام بیماریوں سے غافل ہیں جو ہمارے ارد گرد ہیں؛یہ بیماریاں پھیلتی بھی ہیں ، مہلک بھی ہیں ، ان سے لوگ مرتے بھی ہیں ، ان سے گھربھی اجڑتےہیں ، ہزاروں بچے یتیم بھی ہوجاتے ہیں ، عورتیں بیوہ بھی ہوجاتیں ہیں اوربعض اوقات پورا پوار خاندان آوارہ ہو جاتاہے لیکن ہمیں ٹس سے مس نہیں ہوتا؛ نہ حکومت کوئی سنجیدہ قدم اٹھاتی ہے ، نہ تاجر ہڑتال کرتے ہیں ، نہ مزدور سڑکوں پر آتے ہیں او رنہ ہی سیاسی و مذہبی پارٹیوں میں کوئی حرکت نظر آتی ہیں۔البتہ جب ان بیماریوں کے بھیانک آثار قتل، ڈکیتی ، زیادتی، عصمت دری اور معصوم کلیوں کا اغوا اور پھر قتل کی شکل میں سامنے آتے ہیں تو ایک لمحہ کے لئے ہمارے جذبات کا طوفان کھڑا ہوجاتا ہے اور دوبارہ خاموش ہوجاتاہے۔
وہ نسلیں جنہیں ظلم وزیادتی ، عصمت دری، قتل وغارت اورخود کشی کی خبریں تو روزسننے کو تو ملتی ہوں لیکن ان کے خلاف کوئی احتجاج ، کوئی سزا یا بڑے پیمانے پر کوئی رد عمل دیکھنے کو نہیں ملتا ہوتوکیایہ آگے چل کر کمال جرات کے ساتھ انہی جرائم کا مرتکب نہیں ہوں گی؟کیا وہ بچہ جس کے حلق میں ہمیشہ حرام لقمہ ہی اترتا رہاہو سود، رشوت اور حرام کھانے میں کوئی ججھک محسوس کرے گا؟ کیا روحانی اور اخلاقی بیماریاں ان نسلوں کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیں گی جنہوں نے اپنے بڑوں کو جھوٹ بولتے ، کرپشن کرتے ، دوسروں کی عزت پر ہاتھ ڈالتے ، یتیموں کا مال کھاتے اورطاقت کے بل بوتے ہر جرم کا مرتکب ہوتے دیکھا؟جی ہاں یقینا ایسا ہی ہوگا بلکہ یہ ان کے لئے باعث فخر ہوگا۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام میں بعض سنگین جرائم کی سزا سر عام پھانسی ہے تاکہ مجرم کو سزا ملتے ہوئے سب دیکھ لیں اور پھر کبھی کسی میں یہ جرات پیدا نہ ہو کہ وہ ان جرائم کامرتکب ہو۔لیکن ہمارے ہاں مجرموں کو سرعام پھانسی دینا تو بہت دور کی بات ہے یہاں تو مجرم باعزت رہا ہوتاہے۔ اقرار جرم کی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں معصوم بچے کو زیادتی کے بعد قتل کر ڈالنے والا سفاک مجرم تمام لوگوں کے سامنے بڑے اطمینان سے کہتاہے کہ مجھے پولیس نے تھپڑ تک نہیں مارا ،مجھے وی آئی پی پروٹوکول ملا اورمیں جیل میں نہیں بلکہ کسی مہمان خانے میں ہوں۔ پھر اس طرح کےمعاشروں میں خوف کس چیز کا نام ہے ؟ یہاں زیادتی اور قتل کو جرم نہیں بلکہ کارنامہ سمجھاجاتاہے۔یہاں وائرس کو روکا نہیں بلکہ پھیلایاجاتاہے۔یوں مختلف جسمانی اور روحانی بیماریاں تیزی سے پھیل جاتیں ہیں اور نہ صرف پھیل جاتیں ہیں بلکہ انگلی نسلوں میں منتقل بھی ہوتیں ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح ہم کرونا کےخلاف ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے ہیں ، اسی طرح دیگر ہزاروں اخلاقی اور روحانی بیماریوں کے خلاف بھی متحد ہو جائیں ، انہیں سنجیدہ لے لیں، ماہرین کی طرف رجوع کریں اور ان کے بتائے ہوئے نسخوں پر عمل کریں۔ کرونا کے خلاف دنیا بھر میں چلنے والی مہم کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔اگر لوگ کسی مسئلہ کو سنجیدہ لےلیں اور ماہرین کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کریں تو کتنی بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ اگراسی سنجیدگی کے ساتھ دیگر بیماریوں کابھی مقابلہ کیاجائے تو بعید نہیں کہ ہم اپنے معاشرے کو ان تمام بیماریوں سے نجات دلا سکیں جو کرونا سےبھی زیادہ مہلک، خطرناک اورموذی ہیں۔مگر افسوس اس بات پر ہے کہ ہمارے ہاں ان بیماریوں سے بچنے کے لئے اور نئی نسل کو ان سے بچانے کے لئے خاطر خواہ کوششیں نہیں ہو رہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular