Fri Oct 09, 2026

طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ

روزانہ کی خبریں

کرونا۔۔۔۔ مختصر اور مفید

تحریر: نذر حافی

وائرس ایک زہریلی گندگی ہے۔ کرونا وائرس دراصل گندگی کی اتنی باریک اور پتلی تہہ ہے، جسے عام خوردبین سے بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔ اسے دیکھنے کیلئے خاص آلات درکار ہیں، وائرس کا لفظ لاطینی اور یونانی علمی منابع سے درآمد کیا گیا ہے، جس کا مفہوم زہر ہے۔ جو لوگ کرونا وائرس سے متاثر ہوتے ہیں، ان میں سے 80 فیصد سے زیادہ بغیر کسی درمان کے تندرست ہو جاتے ہیں۔ لیکن کچھ افراد میں یہ بیماری نزلہ زکام سے بڑھ کر پھیپھڑوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ کرونا جسے متاثر کرتا ہے، اس میں سر درد، نزلہ زکام اور بخار کے علاوہ سانس لینے میں تکلیف، چھاتی میں درد اور گھٹن نیز چہرے اور ہونٹوں کے رنگ کے نیلے ہو جانے کی علامات پائی جاتی ہیں۔ کورونا وائرس یعنی کورونا نامی زہر کو ابھی تک سمجھا نہیں جا سکا، لہذا اس کا تریاق بھی نہیں بنایا جا سکا۔ اسی لئے اگر یہ زہر کسی کو مریض کر دے تو اس کے مرض کا علاج نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اس کے مرض کے علاج کے بجائے، اس کی علامات کا علاج کیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر کسی کو زکام، بخار یا سر درد ہے تو اسے زکام بخار یا سر درد کی دوائی ہی دی جاتی ہے۔
اگر یہ وائرس کسی کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا دے تو زیادہ سے زیادہ اس کے پھیپھڑوں کو پہنچنے والے نقصان کا ہی علاج کیا جاتا ہے۔ کرونا وائرس سے زیادہ احتیاط اس لئے بھی کی جاتی ہے، چونکہ یہ عام نزلہ و زکام اور انفلوئزا کی نسبت اڑھائی گنا زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے اور زیادہ لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہاں پر انتہائی اہم اور جاننے کی بات یہ ہے کہ کرونا جراثیم یا بیکٹریا نہیں ہے۔ جراثیم اور بیکٹریا وہ ہوتا ہے، جو جاندار ہوتا ہے اور جسے اینٹی بایوٹک یعنی جراثیم کش ادویات سے مار دیا جاتا ہے، جبکہ کرونا وائرس کوئی جاندار نہیں ہے اور یہ ایک زہر ہے۔ اسے مارا نہیں جا سکتا، صرف دھویا جا سکتا ہے۔ اینٹی بائیوٹکس کھانے سے ہم کورونا وائرس سے محفوظ نہیں رہ سکتے بلکہ سائیڈ ایفکٹس ہونے کے باعث مزید کسی بیماری کے شکار بھی ہوسکتے ہیں۔ جان لیجئے! اگر ہم نے اپنے گھر کو مکمل قرنطینہ کیا ہوا ہے تو اس کے باوجود ہم محفوظ نہیں ہیں، چونکہ یہ وائرس ہم سب کے تعاقب میں نکلا ہوا ہے۔ کرونا وائرس مختلف صورتوں میں ہمارے گھر کی چار دیوری کو پھلانگ سکتا ہے۔ باقی صورتوں کے بارے میں ا?پ خود سوچیں، البتہ ان میں سے تین کو بطور مثال ہم بیان کر رہے ہیں۔
کرونا وائرس کے پھیلنے کے تین اہم سبب:
1۔ کرنسی نوٹ
اگر آپ گھر میں بند ہو کر بھی کچھ خرید و فروخت کرتے ہیں تو رقم کے لین دین سے کرونا کا تبادلہ ممکن ہے۔
2۔ چھوٹے بچے
چھوٹے بچے چونکہ دروازے پر بھی سب سے ملتے ہیں، ہر چیز کو ہاتھ لگاتے ہیں اور سب انہیں چومتے ہیں تو اس طرح یہ بھی اس وائرس کے پھیلاو کا عامل بن سکتے ہیں۔
3۔ پالتو جانور
بلی، مرغی، بکری اور کبوتر سمیت تمام پالتو جانوروں کو اگر قرنطینہ نہ کیا جائے تو یہ بھی کرونا کی درآمد اور برآمد کا باعث بن سکتے ہیں۔
آخر میں یہاں پر ویکسینیشن کے تصور کو بھی بیان کرنا ضروری ہے، برطانوی سائنس دان ایڈورڈ جینر نے 1803ء میں vaccine کی اصطلاح اس وقت متعارف کرائی، جب اس نے چیچک سے بچاؤ کی خاطر اپنا طریقہ علاج دریافت کیا اور اسے ویکسینیشن کہا گیا۔ اس طریقہ علاج کے مطابق جس بیماری سے بچاو کرنا ہوتا ہے، اس کے کمزور ترین جراثیم یا وائرس انسانی جسم میں داخل کر دیئے جاتے ہیں، انسانی جسم اپنے مدافعتی نظام کے ساتھ فوراً ان کمزور حملہ آوروں کو مار دیتا ہے اور ان کی نسبت چوکنا اور قوی ہو جاتا ہے۔ یعنی یوں سمجھئے کہ جب انسانی جسم کو ایک مرتبہ ان کا ذائقہ لگ جاتا ہے تو اس کے بعد جب کبھی اس کے بعد وہی وائرس یا جراثیم دوبارہ اس پر حملہ کرتے ہیں تو پھر وہ جتنے بھی قوی ہوں، انسانی جسم ان پر قابو پا لیتا ہے۔ ایک وائرس یا جراثیم کے ذریعے ہی جسم کو وباوں کے مقابلے کیلئے تیار کرنے کے عمل کو ویکسینیشن کہتے ہیں۔
اس وقت جو لوگ پرہیز اور احتیاط کے ساتھ کرونا سے نبرد آزما ہیں، ان کے بدن کی قدرتی طور پرویکسینیشن بھی ہو رہی ہے۔ جس سے آئندہ سالوں میں بھی کرونا وائرس کے حملے کی صورت میں ان کے محفوظ رہنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
خلاصہ:۔ کرونا کا کوئی علاج نہیں ہے، صرف دعا اور احتیاط و پرہیز سے ہی اس سے بچا جا سکتا ہے۔ اسّی فیصد لوگوں کی اس وقت کرونا سے ویکسینیشن ہو رہی ہے اور وہ صحتیاب ہو رہے ہیں۔
خوشخبری:۔ اگر ہم دینِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق صفائی ستھرائی، دعاوں و مناجات اور طبی ماہرین کے حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ مقوی غذائیں بھی استعمال کرتے ہیں تو ان شاء اللہ اس بیماری کے مہلک اثرات سے محفوظ رہیں گے۔ جو لوگ اس وقت کرونا کو شکست دینے کیلئے اپنے طور پر مکمل قرنطینہ کئے ہوئے اور دعا و پرہیز کے ساتھ اس مہلک بیماری سے نبرد آزما ہیں، ان کیلئے یہ خوشخبری ہے کہ قدرتی طور پر ان کے جسم کی ویکسینیشن جاری ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular