
کوئی بینک یا مالی ادارہ ممنوعہ شخص کو کریڈٹ کارڈز جاری نہیں کر سکے گا،، منسوخ اسلحہ رکھنے پرسزا ہو گی،دہشت گردی میں ملوث افراد کو 5 کروڑ تک جرمانہ ہوگا
دہشت گردی میں ملوث شخص کی سفری دستاویزات اور اکاوَنٹس منجمد، قانون پر عملدرآمد نہ کرانے والے کو 5 سے 10 سال قید کی سزا ہوگی،قومی اسمبلی میں بل منظور
اسلام آباد)نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے انسداد دہشت گردی بل 2020کی منظوری دے دی، ، حکومتی اتحاد کے علاوہ اپوزیشن کی تینوں بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) نے بھی انسداد دہشت گردی بل کی حمایت جبکہ جماعت اسلامی نے بل کی مخالفت کی،بل کے تحت کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کو قرضہ یا مالی معاونت فراہم کرنے پر پابندی ہوگی، کوئی بینک یا مالی ادارہ ممنوعہ شخص کو کریڈٹ کارڈز جاری نہیں کر سکے گا، پہلے سے جاری اسلحہ لائسنس منسوخ تصور ہوں گے اور منسوخ شدہ اسلحہ جات ضبط کر لیے جائیں گے، منسوخ شدہ اسلحہ رکھنے والے کو نیا لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا، منسوخ شدہ اسلحہ رکھنے والے کو سزا دی جاسکے گی، ترمیمی بل کے مطابق دہشت گردی میں ملوث افراد کو 5 کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگا، قانون پر عملدرآمد نہ کرنے والے کو 5 سے 10 سال قید کی سزا ہوگی، دہشت گردی میں ملوث شخص کی سفری دستاویزات اور اکاوَنٹس منجمد کی جاسکیں گی۔ ممنوعہ اشخاص یا تنظیموں کے لیے کام کرنے والوں کیخلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے اور ایسے افراد کی رقم، جائیداد بغیر کسی نوٹس منجمد اور ضبط کر لی جائے گی،جے یو آئی کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں، دہشت گردی کی ٹھیک وضاحت کی جائے، ہمارا اعتراض قانون سازی کے طریقہ کار پر تھا ، سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ حکومت و اپوزیشن اتفاق رائے میں بی این پی شامل نہیں، شیشہ توڑنے والا دہشت گرد بن جاتا ہے اور آئین توڑنے والا نہیں، پہلے آئین توڑنے والے کو دہشت گرد قرار دیں پھر ہم آپ کے ساتھ ہیں


































