
سارے دینی مسالک کے علماء کرام کی مشترکہ علمی مجلس ”ملی مجلس شرعی“ کے صدر مولانا زاہد الراشدی اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد امین نے مرکزی وزارت تعلیم کے تحت اسلام آباد میں نئے یکساں قومی نصاب میں ذریعہ تعلیم پر ہونیوالے مجوزہ اجلاس کیلئے تیار کی گئی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے کہ ذریعہ تعلیم سوائے اسلامیات کے نرسری سے لے کر پانچویں جماعت تک انگریزی ہوگا۔ ملی مجلس شرعی کے قائدین نے کہا کہ یہ اردو اور مقامی زبانوں کی حق تلفی ہے، یہ انگریز کی پیدا کردہ غلامانہ ذہنیت ہے کہ انگریزی کے بغیر علم نہیں آ سکتا اور انگریزی کے بغیر قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم اپنی زبان ہی میں ترقی کر سکتی ہے اور اردو جو آئینی طور پر بھی پاکستان کی قومی زبان ہے اور عملاً بھی پاکستان میں رابطے کی زبان ہے، اسے ذریعہ تعلیم بنانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پرائمری میں اردو یا مقامی زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے۔


































