یہ جان لیں کہ زمانہ غیبت امتحان و آزمائش اورخالص ہونے کا زمانہ ہے۔سعادتمند اور ایمان پر ثابت قدم رہنے والے غیبت کے زمانے میں بھی انسان ساز مکتب سے وابستہ رہ کر خودسازی کرتے ہیں۔ مختلف حوادث،مشکلات اور سختیاں انہیں ہلا نہیں سکتیں اور ان کے ایمان کو متزلزل نہیں کر سکتیں اور وہ تند و تیز ہواؤں کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے ہیں کہ جس سے وہ کمزور ایمان اور ارادے کے حامل افراد سے ممتازہوتے ہیں۔
جس قدر بھی دین و دینداری سے وابستہ رہنا دشوار ہوتا جائے اورمختلف قسم کی ظاہری محرومیت وجود میں آتی جائیں اسی قدر ان کا ایمان اور عہد و پیمان مزید قوی ہوتاجائے گا اور ان پر ایسی حدیثوں کی صداقت و سچائی واضح ہوتی جائے گی کہ جن میں زمانہ غیبت کے واقعات،کچھ گناہوں کے عام ہونے،غنا و موسیقی،لڑکے اور لڑکیوں کی صورت حال،مرد و زن کے اختلاط اور دوسرے امور کی خبر دی گئی ہے۔بعض روایات کے مطابق ان شرائط میں دین کی حفاظت و نگہداری اس طرح سخت و دشوار ہو جائے گی کہ جس طرح ہاتھ کی ہتھیلی پر آگ کی حفاظت کرنا۔نیز دیگر حدیث میں بیان ہوا ہے کہ:غیبت کے اس زمانے میں ایمان پر ثابت رہنے والوں کو رسول اعظم اسلامؐ کے ہمراہ تلوار سے جہاد کرنے والوں کا ثواب ملے گا اور وہ اس قدر بلند مرتبہ ہیں کہ پیغمبر اکرم ؐ نے انہیں اپنا بھائی پکارا ہے اور احادیث کی رو سے آنحضرت ؐکو ان سے ملنے کا اشتیاق ہے۔زمانہ غیبت کے مومنین حزب اللہ ہیں اور وہ ظہور اور اسلام کی عالمی حکومت کے حقیقی منتظر ہیں۔ احادیث کی رو سے وہ اس شخص کی طرح ہیں کہ جو راہ خدا میں خون میں ڈوبا ہو۔
یہ سب آپ شیعوں،منتظرخواتین و حضرات، احکام کی پابندی کرنے والوں اور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے وفاداروں کے فضائل ہیں۔آنحضرت ؑکے منتظرین کو عاقل و ہوشیار ہونا چاہئے اور ان فضائل کی پاسداری کرنی چاہئے کہ کہیں وہ سوء تلقین اور فریب دینے والے الفاظ سے دھوکا کھا کر احکام الٰہی کے سامنے تسلیم ہونے سے دستبردار نہ ہو جائیں اور حکومت الٰہی و قرآن اور امام زمانہ علیہ السلام کے تحت سے خارج نہ ہو جائیں۔
انسانی حقوق اور مرد و خواتین کے وہی حقوق ہیں کہ جو خدا نے معین فرمائے ہیں اور ان کے علاوہ باقی سب گمراہی و ضلالت اور فساد و تباہی کا خزانہ ہیں کہ جو حیوانی زندگی کی طرف جانے کا راستہ ہیں۔
احکام الٰہی میں سے کسی حکم کو قبول نہ کرنے والا کوئی بھی مردوعورت،بوڑھا و جوان یا تو وہ مغرب کی ان سماج مخالف فضول امور سے متاثر ہے کہ جو زمانے کے لئے مناسب نہیں ہیں اور جس سے ان کا ایمان مخدوش و کھوکھلا ہو جائے گا۔اسی لئے احادیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ «زمانہ غیبت، میں مومن صبح کے وقت با ایمان ہوگا اور رات کے وقت دین سے خارج ہو چکا ہو گا.»
میں خاص طور سے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ احکام اسلام کو مغربی ثقافت اور لادینی کے مطابق بنانے اور ان کی تاویل کرنیوالوں سے ہوشیار رہیں اور اشتباہ کے شکار نہ ہوں؛وہ ایک اور دور جاہلیت کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔روایت کی رو سے غیبت کا زمانہ طولانی ہو گا۔
انسان اپنی حیات میں مختلف مکاتب و مذاہب میں تحولات اور تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتا ہے اور وہ یہ دیکھتا ہے کہ ان میں سے کسی میں بھی بشر کی سعادت کی شرائط موجود نہیں ہیں اور وہ عدل و انصاف کو نافذ کرنے سے عاجز و ناتواں ہیں اگرچہ دنیا ظلم و جور،فساد،بدامنی اور تباہی سے بھری ہوئی ہے لیکن انسانی سماج نظام الٰہی و اسلامی اور دنیا کی واحد عادل عالمی حکومت کے لئے تیار ہورہا ہے اور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور سے دنیا کمال اور ارتقاء کی اوج پر ہو گی۔
زمانہ غیبت دین کے امور میں عمل،جد و جہد،ذمہ داریوں کو قبول کرنے اور انہیں ادا کرنے،مقاوت،استقامت اور صبر کا زمانہ ہے۔ شعائر کی تعظیم، کلمۃ اللہ کی سربلندی، اسلام کی تبلیغ،سیاسی، اقتصادی، ثقافتی امور میں استقلال،کفّار کی وابستگی سے نجات،علمی و صنعتی میدان میں ترقی،تعلیم و تربیت کی نشر و اشاعت،امر بالمعروف و نہی از منکر، نیکی و تقویٰ میں تعاون، غریبوں کی مدد، ضرورت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا، محتاجوں کی دستگیری کرنا،اسلامی ممالک کی جغرافیائی،فکری اور عقیدتی حدود کا دفاع کرنا، اہل شکوک اور اہل شبہ کے شکوک و شبہات کا جواب دینا،برائیوں اوراحکام الٰہی کی ہتک حرمت کا مقابلہ کرنا ہم سب مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور ہم اس سلسلہ میں جوابدہ ہیں.
امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے منتظرین کو چاہئے کہ وہ اسلامی سماج کو لاحق خطرات کو پہچانیں کہ جنہوں نے بڑی حد تک معاشرے کے بہت بڑے حصہ کو کمزور،زبوں حالی اور کفار کی اطاعت میں مبتلا کر دیا ہے اور منتظرین کو چاہئے کہ وہ ہمارے سماج اور ہماری عزیز نوجوان نسل کو اس میں مبتلا ہونے سے بچائیں۔زمانہ غیبت ذمہ داریوں کا زمانہ ہے،اعمال و اقدام کا زمانہ ہے،امیدکا زمانہ ہے اورباطل پر حق کی کامیابی کا زمانہ ہے،منتظر بنیں اور عمل کریں کیونکہ خداوند کریم فرماتا ہے: اور کہو کہ اپنا کام کریں اور جلد خداوند اور پیغمبر اور مؤمنین تمہارے کام کو دیکھیں گے۔
- Home
- خواتین کا نوائے اسلام
- منتظرین کی اہم ذمہ داری
منتظرین کی اہم ذمہ داری
-
Ilyas - اپریل 2, 2020
- خواتین کا نوائے اسلام
- 2
- 0 minute read


































