Fri Oct 09, 2026

طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ

روزانہ کی خبریں

فہم قرآن ضروری ہے مگر کیسے؟

تحریر: محمد حسن جمالی
آج کے اس پر آشوب دور میں انسان تعلیمات قرآن کا زیادہ محتاج ہے، کیونکہ دور جدید کے علم اور ٹیکنالوجی کی بدولت جہاں انسان کی زندگی میں برق رفتار ترقی ممکن ہوئی ہے وہاں ٹیکنالوجی کے وسائل سے انسان کی گمراہی کے عوامل میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جدید وسائل خاص طور پر انٹرنیٹ سے استفادہ کرنے والے لوگ دو طرح کے ہیں، بعض اس سے مثبت استفادہ کرتے ہیں، وہ اسے تعلیم اور تربیت کا اہم ذریعہ سمجھتے ہوئے اس کی مدد سے علم اور معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ لوگ اسے منفی سرگرمیوں کے لئے استعمال کرتے ہیں، وہ انٹرنیٹ پر فحش ویڈیوز دیکھ کر وقتی لذت حاصل کرتے ہیں، گانے سنتے ہیں اور دوسرے گناہ والی سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہوئے اپنا ابدی ٹھکانہ جہنم بنا دیتے ہیں –
بدون تردید اس وقت انٹرنیٹ کے ذریعے انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ پرانے زمانے میں انسان کی تحصیل کا واحد ذریعہ مدرسہ، اسکولز اور کتاب و اساتذہ ہوا کرتے تھے، جو لوگ سکول یا مدرسے میں داخلہ لے کر استاد کے پاس حاضر ہو سکتے تھے فقط وہی علم کا خوگر بھی ہو سکتے تھے اور تربیت یافتہ بھی، لیکن آج کی ترقی اور انٹرنیٹ کی سہولیات نے ان تمام حدود و قیود کو اٹھا کر تعلیم و تربیت کی راہ کو ہر اس انسان کے لئے کھول رکھی ہے، جس کی جیب میں ایک عدد نیٹ چلنے والا موبائل ہو، وہ اگر چاہے تو تعلیم یافتہ بھی بن سکتا ہے اور تربیت یافتہ بھی، کیونکہ آج کل ہزاروں کی تعداد میں اسلامی اور مذہبی ویب سائٹس بنی ہوئی ہیں، جن میں ضروری عقائد، اخلاق اور احکام کی جامع معلومات موجود ہیں۔ اسی طرح بہت سی ویب سائٹس پر قرآن مجید کی تفاسیر کے مطالعے کی سہولت دستیاب ہے، انسان چاہے تو بآسانی ان سائٹس سے خوب استفادہ کرسکتا ہے۔ البتہ اس کام کے لئے ضروری ہے کہ جوان اپنے اندر اس احساس کو اجاگر کریں کہ ہم مسلمان ہیں، متدین ہیں، ہمیں اپنے مذہب کی تعلیمات سے آشنا ہونا ضروری ہے، دین کی معرفت حاصل کرنا ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔
توجہ رہے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد روزمرہ مبتلا بہ احکامات اور اعتقادات کی تعلیم حاصل کرنے سے اب کوئی یہ بہانہ تراش کر جان نہیں چھڑا سکتا کہ دین میں کوئی جبر نہیں، کیونکہ دائرہ اسلام میں آنے کے بعد ان چیزوں کی تعلیمات حاصل کرنا انسان کے لئے ضروری ہوتا ہے جن سے فرار ممکن نہیں۔ تمام مراجع عظام کا یہ متفق علیہ فتوی ہے کہ ہر بالغ مکلف انسان کے لئے مبتلا بہ احکام کی تعلیم سیکھنا واجب ہے۔ انٹرنیٹ پر جہاں دینی اور اسلامی مفید معلومات موجود ہیں، وہیں مسلمانوں کو گمراہ اور دین سے منحرف کرنے والے مواد بھی فراوان پائے جاتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں نے مسلم جوانوں کو خراب کرنے کے لئے انواع و اقسام کی رنگ برنگی فحش ویڈیوز سے لے کر گمراہ کن تحریری مواد براہ راست انٹرنیٹ پر دیکھنے اور پڑھنے کی سہولیات فراہم کر رکھی ہے اور یہ طے ہے کہ کمزور اعتقاد والے جوان و نوجوان ان شیطانی جالوں میں پھنسے بغیر نہیں رہ جاتے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مختصر مدت کے بعد وہ جادہ حق سے باہر نکلتے ہیں اور دین سے منحرف ہوکر زندہ انسانوں کے درمیان ایک چلتی پھرتی لاش بن کر”خسر الدنیا والآخر“ کا مصداق بن جاتے ہیں۔ ہمارے تعلیم یافتہ جوانوں کو اس نکتے سے بھی غافل نہیں رہنا چاہیئے کہ مسلم جوانوں کو صراط مستقیم سے ہٹانے کے لئے اسلام کے دشمنوں کا سب سے کارآمد اور کامیاب حربہ لقاء شبہات ہے، وہ جوانوں کے شفاف ذہنوں میں طرح طرح کے شبھات ایجاد کرکے ان کے اعتقادات کو متزلزل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور ہمیں ماننا پڑے گا کہ وہ اس راہ سے جوانوں کو راہ حق سے دور کرنے میں تقریباً کامیاب ہوگئے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے جوانان انٹرنیٹ پر موجود اعتقادی شبہات سے جلد متاثر ہونے کے بجائے ان کا حل تلاش کریں۔ ہمارے مذہب شناس کلامی متخصص، محققین نے ان شبھات کے علمی جوابات اپنی کتابوں اور ویب سائٹس پر دیئے ہوئے ہیں، بس تھوڑا وقت نکال کر سرچ کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام ضرور کیجیے۔ اللہ تعالی نے بشریت کی ہدایت کے لئے جو کتاب نازل کی ہے اس کا نام قرآن ہے، اب ظاہری سی بات ہے کہ قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے کے لئے اسے سمجھنا ضروری ہے، جب تک ہم قرآن کو نہیں سمجھیں گے اس سے ہدایت لینا ممکن نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم قرآن کو کیسے سمجھیں؟ کیا قرآن کو سمجھنے کے لئے کسی دینی ادارے میں رہ کر دینی تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں؟ کیا یونیورسٹی اور کالج میں زیرتعلیم طلباء بھی فہم قرآن پیدا کرسکتے ہیں؟ کیا پرائمری حد تعلیم حاصل کرکے کاروبار سے منسلک ہونے والے افراد بھی قرآن کو سمجھ سکتے ہیں؟ اگر جواب ہاں ہے تو راہ کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کو ترجمے کی حد تک سمجھنا ہر تعلیم یافتہ انسان کے لئے ممکن ہے اگرچہ اس بحر بیکراں میں غوطہ ور ہوکر اس سے لؤلؤ و مرجان نکالنا ہر کسی کے بس کا کام نہیں۔ قرآنی آیات کے معانی سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ انسان اس کے ترجمے پر توجہ کرے۔ اسی ہدف کے پیش نظر بہت سارے علماء کرام نے مختلف زبانوں میں قرآن کا ترجمہ کیا گیا ہے، اردو زبان میں اس کے متعدد تراجم منظر عام پر آ چکے ہیں جن میں سے سب سے عام فہم قرآن مجید کا سادہ ترجمہ شیخ محسن نجفی صاحب کا ہے، جس سے زیادہ روان اور سلیس ترجمہ اب تک نظر نہیں آتا اور شیخ صاحب کا ترجمہ قرآن اور تفسیر الکوثر انٹرنیٹ پر موجود ہے، جوانان ضرور اس سے بھرپور استفادہ کریں۔
انسان اگر قرآن مجید کی اہمیت اور خصوصیات کو جان لیں تو وہ خود بخود اس سرچشمہ دین سے فیضیاب ہونے کی پوری کوشش کریں گے، پس فہم قرآن ضروری ہے اور سادہ ترین راہ انٹرنیٹ ہے۔ کلام الٰہی کی خصوصیات اور اہمیت کے بارے میں مولی متقیان حضرت علی (ع) کے کچھ اقوال نقل کرتے ہیں جو نہج البلاغہ کے اندر موجود ہیں اور میں ذیلی ویب سائٹ سے نقل کررہا ہوں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular