متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے طویل عرصے سے جاری خفیہ رابطوں کے بعد بالآخر اپنے تعلقات کو دنیا کے سامنے طشت اطزبام کردیا، فلسطینیوں کی پیٹھ میں یہ خنجر 12اگست کو ایسے وقت مارا گیا جب اسرائیلی وزیراعظم اپنے اقتدار کی ڈوبتی ناو پار لگانے کی کوشش کررہا تھا اور امریکی صدر ٹرمپ دوبارہ کامیابی کے لیےکوءچیز پیش کرنا چاہتا تھا جسے وہ اپنی صدارتی دور کی کامیابی قرار دے سکے کیونکہ ٹرمپ نے ملکی سطح پر اپنے ملک کوجس قدر انتشار میں مبتلا کیا اس کی مثال نہیں ملتی ،عالمی سطح پر بھی ٹرمپ کی ایک کے بعد دوسری چال انہی پر پلٹتی رہی ،مسلسل ناکامیوں نے امریکا کو تنہائی کے اندھیرے میں دھکیل دیا، اس کی ایک مثال سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف قرارداد کی ناکامی سے مل گئی جب اس کے اپنے اتحادی بھی ساتھ کھڑے نہ رہے اور ڈومینیکن ری پبلک جیسا چھوٹا سا ملک ساتھ دکھائی دیا، عرب امارات اور اسرائیل کے معاہدے کو اگر ٹرمپ کی عالمی پالیسیوں کی مسلسل ناکامیوں کو ایک روک لگانے کی کوشش قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا، معاہدہ کا اعلان واشنگٹن سے ہونا ہی ثابت کردیتا ہے کہ اس کے کیا مقاصد اور اہداف ہیں، معاہدے کے تحت دونوں ممالک سفارتخانوں کے قیام، سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سکیورٹی، ٹیکنالوجی، توانائی، ثقافت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق اہم معاہدے کریں گے،فریب میں مبتلا عرب امارات نےیہ ظاہرکرنے کی کوشش کی کہ جیسے اس معاہدے کے تحت اسرائیل اب مغربی کنارے کو ضم نہیں کرے گا لیکن چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیلی وزیراعظم نے یہ کہہ کر الحاقی منصوبہ معطل ہوا ہے منسوخ نہیں ،اماراتی حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ رسید کردیا اور بتادیا کہ وہ کتنا اس معاہدے کی پاسداری کرے گا، اس بیان سے یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ جیسے مصر اور اردن کے اسرائیل سے امن معاہدوں سے فلسطینیوں کو کچھ نہیں ملا اسی طرح یہ معاہدہ بھی فلسطینیوں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کے ازالے میں مددگار ثابت نہیں ہوگا، عرب امارات کا یہ اقدام اسرائیل سے متعلق عرب دنیا کے موقف میں بہت بڑی پسماندگی ہے کیونکہ امارات نے اسرائیل کو 1967سے پہلے والی سرحدوں تک واپس کیے بغیر تسلیم کر لیا ہے ،جبکہ عرب لیگ کے پلیٹ فارم پر یہ طے ہوچکا تھا کہ اسرائیل کو اسرائیل کو 1967سے پہلے والی سرحدوں تک واپس جانا ہوگا، متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ مراسم قائم کرکے امت مسلمہ کے ساتھ جو خیانت کی ہے، اس پر حقیقی مسلمان اسے کبھی معاف نہیں کریں گے۔


































