امریکا نے عراق میں کرکوک قیارہ،موصل کا مجمع النقور اور نینوی ٰ کی چھاونیاں مقامی فورسز کے حوالے کردی ہیں، عراقی حکام کے مطابق یہ چھاونیاں اتحادی فوج کو دی گئی ڈیڈ لائن کے مطابق عراقی فورسز کے حوالے کی جارہی ہیں،آنے والے دنوں میں مزید تنصیبات عراقی فورسز کے حوالے کی جائیں گی،بظاہر تو یہ ایک خوش آئند بات لگتی ہے کہ امریکی فورسز چھاونیاں خالی کررہی ہے لیکن امریکی خصلت کودیکھتے ہوئے یہ بات نہایت عجیب لگتی ہے کہ وہ اتنی آسانی سے اپنے زیر تسلط ملک سے نکل جائے گا اس کیلئے ہمیں افغانستان کی مثال سامنے رکھنا ہوگی،اگر یہ سب کچھ شیدول کے مطابق نہیں ہورہا ہے تو یقیناامریکا کے اس اقدا م کے پیچھے کسی بڑی سازش کو مدنظر رکھنا ہوگا اور یہ سازش وہی ہے جس کا پردہ امریکی اخبار نے اٹھایا ہے،نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے عراق میں مزاحمتی تنظیموں کے خلاف آپریشن کی منظوری دیدی ہے،عسکری قیادت کو حکم دیا گیا ہے کہ ایران نواز ملیشیاوں کے مجموعے کو تباہ کرنے کیلئے آپریشن کی تیاری کی جائے۔اخبار کے مطابق امریکا نے یہ فیصلہ ایران کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کیا،امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ ایران کرونا وائرس کی وجہ سے سخت مشکل میں ہے اور اسکی عسکری قوت بھی وبا سے لڑنے میں مصروف ہے لہذا یہ بہترین موقع ہے کہ اس کی حامی ملیشیا کیخلاف کارروائی کرکے انہیں تباہ کردیا جائے،لہذا کسی بڑے آپریشن سے پہلے امریکا اپنے ایسے اڈے اور تنصیبات خالی کررہا ہے جو جوابی کارروائی کا ہدف بن سکتی ہیں،اس خدشہ کے پیش نظربغداد کا سفارتخانہ بھی عارضی طور پر عین الاسد چھاونی میں منتقل کرنے کا امکان ہے،عین الاسد چھاونی میں سفارت خانے کی منتقلی کا فیصلہ اس تناظر میں کیا جا رہا ہے کہ یہ چھاونی سب سے بڑی اور محفوظ چھاونی ہے، امریکی طیارے اور ڈرون چوبیس گھنٹے اس علاقے پر پرواز کرتے رہتے ہیں، جبکہ اسے پیٹریاٹ میزائل سے حال ہی میں لیس کیا گیا ہے،عراقی میڈیا کے مطابق امریکا نے بغداد کے قریب حالیہ فوجی مشقوں میں اس آپریشن کی تیاری کی ہے،ان تیاریوں سے واضح ہوتا ہے کہ امریکا عراق میں نئی فوجی مہم جوئی کرنے جا رہا ہے اور اس مہم جوئی کا مقصد دو اہداف کا حصول ہے، کٹھ پتلی حکومت لاکر اپنے مخالف سیاست دانوں اور رہنماوں کو سیاسی میدان سے بیدخل کرنا اور دوسرے اسلامی مزاحمتی قوتوں خاص طور پر حشد الشعبی کو کمزور یا ختم کرنا، لیکن امریکا کیلئے یہ اتنا آسان نھیی ھوگا جتنا وہ سمجھ رہا ہے، وہ نہ تو اتنی آسانی سے مزاحمتی گروہوں کو ختم یا کمزورکرسکے گا اور نہ ہی اپنے مخالف سیاستدانوں کو بیدخل کرسکے گا کیونکہ دونوں عناصر عوام میں اپنی گہر ی جڑیں رکھتے ہیں۔


































