
صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے 2 جوان شہید ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اسپیل جا گاؤں کے قریب خفیہ اطلاع پر کیے جانے والے آپریشن کے دوران 2 سیکیورٹی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں نے حوالدار تاج بار علی اور سپاہی عبدالرشید پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ ایک چیک پوسٹ کی طرف جا رہے تھے۔ 38 سالہ حوالدار تاج بار کا تعلق سوات سے تھا جبکہ 22 سالہ سپاہی عبدالرشید پاراچنار کا رہائشی تھا۔ اس حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ادھر پولیس کے مطابق میرعلی سب ڈویژن کے علاقے شیرا تالا میں 2 افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئیں۔ پولیس کی جانب سے ان افراد کی شناخت حمید اور نصراللہ کے نام سے کی، حمید کا تعلق دوس علی جبکہ نصراللہ کا تعلق قوتاب خیل سے تھا۔ خاندانی ذرائع کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے ان دونوں کو ایک ہفتے قبل اغوا کیا تھا، بعد ازاں مقامی لوگوں کو ان کی لاشیں ملیں جنہوں نے پولیس کو آگاہ کیا، جس کے بعد لاشوں کو میرعلی میں تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال لایا گیا جہاں ان کی شناخت ہوئی۔ خیال رہے کہ عسکریت پسندوں نے گزشتہ کچھ مہینوں سے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔


































