
ایوان بالا نے انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل 2020ء کثرت رائے سے منظور کر لیا جب کہ پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے دیگر ارکان نے آصف زرداری کی نیب پیشی اور سیاسی رہنماؤں کو ہراساں کرنے کے خلاف علامتی واک آؤٹ کیا۔ سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا۔ شیری رحمان نے آصف زرداری کی پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور وکلا سے بدسلوکی اور کارکنان پر مبینہ تشدد کا معاملہ اٹھایا۔ انھوں نے کہا آصف زرداری کو کورونا کے باوجود بلایا گیا اور اسلام آباد کو مفلوج کر دیا گیا۔ کارکنوں کے کپڑے پھاڑے گئے۔ یہ کونسا احتساب ہے؟ وزراء کو نیب کچھ نہیں کہتی وہ آزادانہ گھوم رہے ہیں۔ چئیرمین سینیٹ نیب چئیرمین کو مدعو کر کے پوچھیں یہ کیا ہو رہا ہے؟ پیپلز پارٹی نے احتجاجا علامتی واک آؤٹ کیا تو اپوزیشن میں ایک بار پھر تقسیم سامنے آئی ۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان اپوزیشن کے واک آؤٹ میں شامل نہ ہوئے۔
سینیٹ میں قائد ایوان شہزاد وسیم نے شیری رحمان کے نیب پر اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا احتساب کا عمل جاری رہے گا۔ اگر کسی کو نیب کے قانون پر اعتراض ہے قانون سازی کرلے۔ پولیو کیسز کے حوالے سے تحریک پیش کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے پولیو کیسز میں اضافے کا ذمہ داربیدخل فوکل پرسن بابر بن عطا کو قرار دیا۔
سینیٹر رحمان ملک کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء میں مزید ترمیم کے بل پر قائمہ کمیٹی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد وزیرمملکت علی محمد خان نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء میں مزید ترمیم کا بل منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا۔ ایوان بالا نے انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل 2020ء کثرت رائے سے منظور کر لیا۔بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن ارکان نے اس پر اعتراض کیا کہ بل عجلت میں منظور کیا گیا ہے ۔ اپوزیشن نے اسلام آباد دارلخلافہ بل 2020ء نشہ آور اشیا کی روک تھام ترمیمی بل موخر کرنے کا مطالبہ کیا۔


































