پیارے بچوں! آپ کو معلوم ہے کہ اگلے چند دنوں میں ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی صورت میں آرہی ہے۔
ہمیں اس نعمت کو سمیٹنے کا بھرپور اہتمام کرنا ہوگا۔اس مبارک مہینے میں قرآن کریم نازل ہو اجو لوگوں کو ہدایت دینے والا ہے۔اس مہینے میں نیکیوں کی قیمت بڑھ جاتی ہے،گناہ بخشوانا آسان ہو جاتا ہے،جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور شیاطین بند کر لئے جاتے ہیں۔
ہر مسلمان کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رمضان کا مہینہ گراں قدر تحفہ اور عظیم نعمت ہے،زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ماہ رمضان تک پہنچایا ہے،اس لئے ہمیں سب سے پہلے اس پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے اور محض زبانی شکر کافی نہیں ہے بلکہ اپنے اعمال و کردار سے بھی اس کا اظہار کرنا چاہیے۔
اور آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ناشکری زوال نعمت کے ساتھ ساتھ عذاب الہٰی کو بلاتی ہے۔
آپ نے سنا ہوگامثل مشہور ہے،صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو وہ بھولا نہیں۔پچھلے گیارہ مہینوں میں ہم نے جو کچھ کیا،رب کی اس شفقت کو دیکھ کر اگر ہم اسکی طرف رجوع کرلیں تو رب کا دروازہ ہمیں کھلا ملے گا۔آئیے توبہ تائب ہوکر شریعت کو اپنا شعار بنا لیں۔
خود کو ذکرخدا کا عادی بنائیں اور زیادہ سے زیادہ دعاؤں کا اہتمام کریں۔
ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ابنِ آدم (انسان)کا ہر عمل اسکے اپنے لئے ہوتا ہے،سوائے روزہ کے۔روزہ محض اللہ کیلئے ہوتا ہے اور اس کا بدلہ وہی دے گا اور روزہ وہ عمل ہے،جس میں ریا کاری نہیں آتی۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ روزہ کا بدلہ سوائے جنت کے کوئی چیز ادا نہیں کرسکتی۔عام دنوں میں بھی لغویات(گناہ /اللہ کی نافرمانی) سے بچنا چاہیے مگرماہ رمضان میں تو ہر ممکن طور پر لغویات سے گریز کرنا چاہیے۔
یوں تو اس مبارک مہینے میں ہر قسم کے نیک اعمال کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔مگرچند امور ایسے ہیں،جن کا اہتمام خود رسول اللہؐ فرمایا کرتے تھے۔اس مبارک مہینے میں اللہ کے رسولؐ کثرت سے قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
رسول اللہؐ یوں تو ہمیشہ صدقہ وخیرات کیا کرتے تھے،خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلاتے تھے۔مگرماہ رمضان کے مہینے میں آپؐ کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں رکتی تھی،ہاتھ آتے ہی فوراََ صدقہ کردیتے۔
رسول اللہؐ کا حال یہ تھا کہ جب ماہ رمضان آجاتاتو کمر بستہ ہوجاتے خود بھی جاگتے اور اہل وعیال کو بھی جگاتے۔رمضان المبارک کے آخری عشرے میں آپؐ اعتکاف کیا کرتے تھے۔رسول اللہؐ نے فرمایا: جس شخص نے ایمان واحتساب کے ساتھ رمضان کا قیام کیا،اس کے تمام گزرے گناہ معاف کردئیے گئے۔
آپ میں سے کئی بچے تو اس وقت یہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ ان پر تو ماہ رمضان کے روزے ابھی فرض نہیں ہوئے تو پھر اتنی گرمی کے روزے کیوں رکھیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس مہینے میں جس قدر بھی عبادت اور ریاضت کی جائے اس کا پورا پورا اجر ملے گا۔
زیادہ اجر کیلئے ظاہر ہے کہ آپ کو زیادہ کوشش کرنا ہوگی۔اہم بات یہ ہے کہ رمضان المبارک کا یہ بابرکت مہینہ عبادات کیلئے ہی ہے محض کھانے پینے سونے اور آرام کرنے کیلئے نہیں ہے،جو لوگ اس مہینے کو دعوتوں اور آرام کا مہینہ سمجھ کرگزارتے ہیں،انہیں اس مہینے میں دعوتیں اور آرام تو مل جائے گا مگر شاید آخرت میں اس کا کوئی اجر نہ پاسکیں۔
رمضان المبارک ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اسلامی تعلیمات پر پہلے خودعمل پیراہوجاؤ پھر اسے دنیا میں عام کرو۔رمضان کے مبارک موقع پر اپنے ہمسائیوں،رشتہ داروں اور ضروت مندافرادکو ہر گزنہیں بھولنا چاہیے۔رسول کریمؐنے واضح طور پر فرمایا ہے کہ بد نصیب ہے وہ شخص جو رماہ رمضان کو پائے اور جنت نہ کماسکے۔
دوستو!آپ لوگ اگر ان باتوں پر عمل کریں گے تو یقیناآپ کا رمضان المبارک کا مہینہ تو اچھا گزرے گا ہی اس کے ساتھ ساتھ موسم گرما بھی سکون سے گزر جائے گا۔
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- رمضان المبارک کی آمد آمدہے۔۔۔
رمضان المبارک کی آمد آمدہے۔۔۔
-
Ilyas - اپریل 17, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 9
- 0 minute read


































