
´دعائیں اور مناجات بنیادی عقائد ہیں اس پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، صحابہؓ اور امہات المومنین ؓکی توہین حرام ہے لیکن ہر کسی کو صحابہ کی فہرست میں شامل نہ کیا جائے
جلو س میں زیارت عاشورا کے فوری بعد ریاستی اداروں کی پھرتیاں بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہیں،مقدمات واپس لئے جائیں،رہنماﺅ ں کی نیوز کانفرنس
کراچی(نیوز ڈیسک) ملت جعفریہ کی تمام نمائندہ تنظیموں ، ماتمی انجمنوں اور اداروں کے ذمہ داران نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کسی کے کہنے یا کسی کی مرضی سے اپنے عقائد چھوڑ نہیں سکتے اور نہ ہی کسی کو اجازت دیں گے کہ وہ اپنے تکفیری عقائد ملت جعفریہ پر تھونپنے کی کوشش کرے،کراچی میں نیوز کانفرنس کے دوران شیعہ رہنماﺅں نے کہا کہ عقائد کے عنوان سے جو بھی دعائیں مناجات اور مذہبی تعلیمات رسول اللہ (ص) اور بعد میں اہلبیت رسول (ص)اور آ ئمہ معصومین علیہم السلام سے ہم تک پہنچی ہیں وہ ہمارے بنیادی عقائد ہیں اس پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، روز عاشورا کے مرکزی جلوس کے بعدکالعدم دہشت گرد گروہ کے سرغنہ نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ شیعہ سنی فسادات کروانے کی کوشش کی اور شیعہ مسلمانوں کےخلاف دھمکی آمیز میسجز بھی چلائے گئے ،ا ±نہوں نے کہا کہ صحابہ کرامؓ اور امہات المومنین ؓکی توہین ہمارے مجتہدین کے فتووں کے مطابق حرام ہے البتہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہر کسی کو صحابہ کی لسٹ میں شامل کرے ،انہوں نے کہا کہ جلو س میں زیارت عاشورا کے فوری بعد ریاستی اداروں کی پھرتیاں بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہیں، ہم حکومت سندھ اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عاشورا کے دن عزاداران امام حسین علیہ السلام کے خلاف درج جھوٹا مقد واپس لیا جائے، علاقہ دمبالومیں بھی مقدمہ کو بھی واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں،اگر حکومت اور ریاستی اداروں نے مطالبات تسلیم نہ کئے تو پھر احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اورریاستی اداروں پر عائد ہو گی،انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ چاہتے ہیں کہ منافرت اور فرقہ واریت کے زہر قاتل سے پاکستان کو اس نازک وقت میں غیر مستحکم کریں لیکن ملت جعفریہ پاکستان ہوشیار ہے اور عالمی سازشوں اور اس کے مقامی تانے بانے اچھی طرح سے جانتی ہے اور ان مذموم عزائم کو کبھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دیں گے ، ہم نے ہمیشہ پاکستان کے دفاع اور سلامتی کے لئے کسی قربانی سے پہلے بھی دریغ نہیں کیا تھا اور آئندہ بھی کسی مشکل وقت میں دریغ نہیں کریں گے ،پریس کانفرنس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صدر علامہ باقر عباس زیدی، علامہ صادق جعفری اور علامہ مبشر حسن، آئی ایس او پاکستان کے رکن نظارت مولانا عقیل موسی، امامیہ آرگنائزیشن کے رہنما سید شمس الحسن ، مجلس ذاکرین امامیہ کے صدر علامہ نثار قلندری موجود تھے۔


































