استاد شہید مرتضیٰ مطہری (رح)
خاندانی زندگی سو فیصد طبیعی اور فطری ہے۔ انسان فطرتاً گھریلو پیدا ہوا ہے۔ بالفرض ، شہری زندگی کے بارے میں فطری ہونے نہ ہونے کی بات ہوبھی، اس وقت بھی انسان کی فطرت میں گھریلو زندگی کا انکار نہیں کر سکتے۔ اسی طرح بہت سے جانور جو فطرتاً اجتماعی زندگی تو نہیں رکھتے اس کے باوجود ایک قسم کی عائلی زندگی۔ جوڑابن کررہنے کی زندگی بسر کرتے ہیں جیسے کبوتر اور بعض حشرات جو فطرتاً جفت رہتے ہیں ۔خاندانی زندگی کا معاملہ اجتماعی زندگی کے معاملے سے مختلف ہے۔ فطرت میں کچھ ایسا نازک عمل ہوا ہے کہ انسان اور بعض جانور گھریلو زندگی اور خاندانی مرکزیت حاصل کرتے ہیں انہیں صاحب اولاد ہونے کی خواہش ہوتی ہے۔تاریخی فرینے کسی ایسے عہد کی نشان دہی نہیں کرتے جب انسان گھریلو زندگی نہ رکھتا ہو۔ یعنی میاں بیوی الگ الگ زندگی بسر کرتے ہوں ۔ یا جنسی تعلقات مشترک اور عمومی رہے ہوں۔ماضی میں انسانی زندگی۔ ماں کی بادشاہی یا باپ کی بادشاہی کی صورت ہی میں پائی جاتی ہے۔چار عہدوں کا مفروضہملکیت کے مسئلے میں یہ مسلم ہے کہ شروع میں مالکیت مشترک تھی اور نجی و خصوصی ملکیت بعد میں وجود پذیر ہوئی۔ لیکن ’’جنسیت‘‘ کے بارے میں یہ بات نہیں ہے۔ ملکیت ابتداء زندگانی میں اس وجہ سے مشترک تھی کہ انسان ایک قبیلہ تھا اور خاندانی صورت رکھتا تھا۔ یعنی قبیلے کے افراد ایک ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ خاندانی احساسات سے بہرہ ور تھے۔ لہٰذا ملکیت بھی مشترک تھی۔شروع کے ادوار میں فرض کریں کہ قوانین و رسم و رواج نہ تھے جس کی بنیاد پر عورت و مرد دونوں ایک دوسرے کو ذمہ دار اور جوابدہ قرار دیتے ۔ اس دور میں خود ان کی فطرت اور طبیعی احساسات ان کو فرائض و حقوق کا پابند کرتے تھے۔ ہرگز ان کی جنسی زندگی بلا شرط و بے پابندی کے نہیں تھی۔ یونہی وہ جانور جو’’ جفت‘‘ زندگی گزارتے ہیں ان کے پاس کوئی اجتماعی یا قراردادی قانون نہیں رکھتے اس کے باوجود فطری قانون کے مطابق حقوق و فرائض کی نگہداشت کرتے ہیں او ران کی زندگی بے شرط و قید و پابندی نہیں ہے۔بیگم مہر انگیز منوچہریاں نے اپنی کتاب ’’انتقاد برقوانین اساسی و مدنی ایران‘‘ کے مقدمے میں لکھا ہے:’’معاشرتی جائزہ رکھنے والے زاویہ نظر سے زن و مرد کی زندگی زمین کے مختلف خطوں میں چار میں سے ایک راستے سے گزرتی ہے:1۔ فطری مرحلہ۔ 2۔مرد کے غلبے کا دور۔ 3۔عورت کے احتجاج کا زمانہ۔4۔زن و مرد کے مساوی حقوق کی منزل۔پہلے مرحلے میں زن و مرد، بغیر کسی قید و شرط کے باہمی جنسی میل ملاپ رکھتے تھے۔معاشرہ شناسی کو یہ دعویٰ منظور نہیں۔ جامعہ شناسی و معاشرہ آگاہی زیادہ سے زیادہ یہ بات مان سکتی ہے کہ کہیں اور اتفاقاً کچھ وحشی قبائل میں چند بھائیوں نے چند بہنوں سے مشترکہ طور شادیاں کی ہوں اور وہ سب بھائی ان سب بہنوں سے جنسی عمل کرتے ہوں بچے بھی سب کے مشترک ہوں یا لڑکے لڑکیاں شادی سے پہلے محدود و مخصوص نہ ہوں لیکن شادی انہیں محدود مخصوص کردیتی ہو۔ اور اگر اتفاق در اتفاق بعض وحشی قبائل میں جنسی عمل اس سے بھی زیادہ عام تھا۔شادی تو ظہور انسان سے پہلے تاریخ میں موجود ہے ، ایسے سماج جن میں شادی نہ ہو بہت کم ہیں ۔ یہ ضرورت ہے کہ اگر کوئی تحقیق کرے تو کچھ سماج ڈھونڈ سکتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ خاندانی (گھریلو) احساس انسان کا ایک فطری احساس ہے، تمدن یا عادت کا پیدا کردہ نہیں ہے ۔ جیسے بہت حیوانات فطری اور سرشت کے طور پر خاندانی رجحانات رکھتے ہیں۔
| ReplyReply allForward |


































