گزشتہ سے پیوستہ
ایک ایسے شہر میں کہ جہاں تقریباً سب لوگ اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے ہوئے پتھر اور لکڑی کے بتوں کے سامنے سر جھکاتے اور ماتھا ٹیکتے تھے، خدیجہ(س) اور ان کے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل اس کام کو باطل سمجھ رہے تھے۔صرف خدیجہ (س)ہی وہ خاتون تھیں کہ جنھیں خدا نے ظہور اسلام سے قبل اپنے آخری پیغمبر کیساتھ شادی کی اہلیت و قابلیت عطا فرمائی تھی۔ جب محمد صلی اللّہ علیہ و آلہ و سلم خدیجہ(س) کی دعوت پر ان کے گھر تشریف لے کر گئے اور ان کیسامنے پہنچے تو ہرچیز گواہی دے رہی تھی کہ یہ کوئی معمولی شادی نہیں ہوگی بلکہ آسمانی اور ملکوتی رشتہ قائم ہونے جا رہا ہے مکہ کی پاک دامن خاتون نے اپنی بات ایک جملے میں خلاصہ کردی پیغمبر سے کہا میں آپ کی سچائی، امانت داری، نیک فطرت، بہترین اخلاق کہ جس کی ہر جگہ شہرت ہے اور آپ کی عظمت و برتری کہ جو تمام لوگوں میں بے مثال ہے کی بنا پر آپسے شادی کی خواہش مند ہوں۔ پیغمبر چونکہ ہمیشہ بزرگوں کا احترام کرتے تھے اس لئے خدیجہ(س) کے جواب میں کہا۔ میں اس امر سے اپنے بزرگوں کو آگاہ اور ان سے مشورہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ جناب خدیجہ(س) نے اس بات کو پسند اور قبول کیا اور طے پایا کہ دو نوں کے بزرگ مل بیٹھیں گے اور ان کی موجودگی میں یہ کام انجام پائے گا۔ پیغمبر نے اپنے چچاو ¿ں سے مشورہ کرنے کے بعد حضرت خدیجہ(س) سے شادی کیلئے ہاں کہہ دی۔ شادی کی تاریخ طے ہوگئی اور پھر شادی کے دن پیغمبر اسلام اپنے چچاو ¿ں کے ساتھ حضرت خدیجہ(س) کے گھر تشریف لے گئے۔ مہمانوں کی آو ¿ بھگت کی گئی۔ اس کے بعد پیغمبر کے چچا حضرت ابوطالبؑ نے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا اور خداوند متعال کی حمد و ثنا کرنے کے بعد اپنے بھتیجے کا تعارف کراتے ہوئے کہا میرے بھتیجے محمد عبداللّہ کا قریش کے کسی بھی مرد سے موازنہ کیا جائے بلاشبہ وہ اس پر برتری اور شرف رکھتا ہے۔ اگر چہ مالی لحاظ سے وہ تنگ دست ہے لیکن دولت آنے جانے والی چیز ہے اور یہ ہمیشہ ساتھ نہیں رہتی جبکہ تقویٰ اور شرافت ایسی چیز ہے جو پائیدار اور باقی رہنے والی ہے اور کوئی بھی دولت اس کا مقابلہ اور برابری نہیں کر سکتی۔ حضرت ابو طالبؑ نے محمد صلی اللّہ علیہ و آلہ و سلم کا تعارف کرانے کے بعد اپنی بات ختم کی۔ ان کے بعد حضرت خدیجہ(س) کے چچا زاد ورقہ بن نوفل نے بات کرنا شروع کی۔ وہ چونکہ محمد صلی اللّہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتی خصوصیات اور حیرت انگیز مستقبل سے کسی حد تک واقف تھے اور انہوں نے حضرت خدیجہ (س)کا خواب سننے کے بعد پیشین گوئی کی تھی کہ ان کی شادی دنیا کے باشرف ترین مرد سے ہوگی۔ ورقہ بن نوفل نے کہا مکہ میں کوئی بھی آپ کے فضائل اور شرافت کا منکر نہیں ہے۔ ہم بھی صمیم قلب سے آپ کے ساتھ رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں۔ حضرت خدیجہ(س) کامہر 400 درہم طے ہوا اور نکاح حضرت ابو طالبؑ نے پڑھایا۔ پیغمبر اکرم صلی اللّہ علیہ و آلہ و سلم اورحضرت خدیجہ (س)کی شادی کی تقریب خدیجہ (س) کے گھر میں منعقد ہوئی۔ اس وقت بی بی خدیجہ (س)کی عمر چالیس سال تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف پچیس سال کے تھے۔ حضرت خدیجہ(س) نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔
شادی کے بعد انہوں نے اپنی ساری دولت پیغمبر کے اختیار میں دے دی کہ وہ جہاں اور جیسے چاہیں خرچ کریں۔پیغمبر اکرم نے شادی کے بعد اسی راستے کوجاری رکھا جو حضرت خدیجہ (س)نے شادی سے قبل اختیار کیا تھا یعنی یتیموں،غریبوں اور ناداروں کی مدد کرنے کاراستہ۔ یہ بے مثال جوڑا دنیا کی تمام عورتوں اور مردوں کے لئے مکمل نمونہ عمل ہے۔
حضرت خدیجہ(س) اورحضرت ابوطالبؑ رسول کے دو ایسے مدافع تھے جنکی زندگی میں کفار قریش کی طرف سے آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچی لیکن رسول کے یہ دونوں جانثار ایک ہی سال میں بہت مختصر وقفہ سے یکے بعد دیگرے دنیاسے رخصت ہوگئے اور روایات کے مطابق رسول پر دونوں مصیبتیں ھجرت سے تین سال قبل اورشعب ابی طالب ؑ سے باہر آنے کے کچھ روز بعد واقع ہوئیں۔رسول اکرم نے اس سال کو عام الحزن(غم کاسال) قرار دیا۔
دس رمضان سنہ 10 بعثت کو رسول اکرم کی شریک حیات حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے مکّہ میں وفات پائی۔حضرت خدیجہ (س) کی ذات گرامی رسول اکرم کے لئے اتنی زیادہ اہم تھی کہ اس عظیم خاتون کی رحلت کو رسول اکرم نے بڑی مصیبت قراردیا۔حضرت خدیجہ (س) کی رحلت پر رسول اکرم نے فرمایا کہ: خدا کی قسم خدیجہ (س) سے بہتر خدا نے مجھے کوئی چیز عطا نہیں کی، وہ اس وقت مجھ پر ایمان لائیں جب لوگ کفر میں مبتلا تھے اس وقت میری آواز پر لبیک کہا جب لوگ مجھے جھٹلاتے تھے اور اس وقت اپنے مال و ثروت میں برابر کا شریک قراردیا جب لوگوں نے مجھ سے رشتہ توڑ لیاتھا۔
| ReplyReply allForward |


































