رسول اکرمؐ کے مدینہ ہجرت کرنے سے 68سال پہلے بی بی خدیجہ ؑنے ایک شریف وبافضیلت خاندان میں ولادت پائی۔ بہترین طریقہ سے پرورش ہوئی۔ عقل و دور اندیشی اور عفت و پاک دامنی کے لحاظ سے اپنے خاندان اور رشتہ داروں میں بے نظیر سمجھی جاتی تھیں۔ بہت مال دار تھیں۔ بہت سے ان کے لئے تجارت کرتے تھے۔ حضرت خدیجہ ؑکا تجارتی قافلہ قریش کے تمام تجارتی قافلوں کی برابری کرتا تھا۔
خدیجہ ؑکو معلوم ہوا کہ حضرت محمدؐسچے، امین و خوش خوہیں۔
حضرت خدیجہ ؑنے کسی کو حضرت محمدؐکے پاس بھیجا اور یہ پیشکش کی کہ تجارت کے لئے میرا مال لے کر شام چلے جائیں۔ رسولؐ نے حضرت خدیجہ ؑکی پیشکش قبول کرلی اور حضرت خدیجہؑ کے غلام ”میسرہ“ کے ساتھ شام چلے گئے۔ وہاں تجارتی سامان فروخت کیا اور خریداری کرکے مکہ لوٹ آئے۔
رسول اکرمؐ کے اس اولین تجارتی سفر میں بہت فائدہ ہوا۔ بعد والے سفر میں حضرت خدیجہ ؑنے آپ ؐ کو زیادہ مال دیا۔ جب بھی میسرہ سفر سے واپس آتا تو محمدؐ کے فضائل وکرامت اور آپؐ کے سر پر بادل کے سایہ فگن ہونے کو خدیجہؑ سے بیان کرتا تھا۔ اس سے بی بی خدیجہؑ پیغمبر اسلامؐ کی شیفتہ ہوگئی تھیں۔ آخر کار خدیجہؑ نے آپؐ کے ساتھ شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ کسی کے ذریعہ رسولؐ کے پاس یہ پیغام بھیجا۔
”ابن عم!آپؐ سے قرابتداری اور آپ ؐ کے فضائل، امانتداری، حسن خلق اور راست گوئی کی بنا پر آپؐ سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔“
رسولؐ نے یہ بات اپنے چچاؤں سے نقل کی۔ ان میں سے چند اشخاص حضرت ابو طالب ؑ کی قیادت میں خدیجہؑ کے چچا عمر ابن اسد۔بقولے خویلدبن اسدکے گھر گئے۔ حضرت ابوطالب ؑ نے اس طرح گفتگو کا آغاز کیا:
”تمام تعریفیں اس خدا سے مخصوص ہیں جس نے ہمیں ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کی نسل میں قراردیا اور ہمیں کعبہ کی ہمسائیگی اور اپنے حرم کے امن میں سکونت عطا کی، لوگوں کے درمیان ہمیں عزت و شرف بخشا اور اس سرزمین کو ہمارے لئے بابرکت بنایا۔
ہماری آمد کا مقصد یہ ہے کہ میرا بھتیجا ایک تہی دست جوان ہے۔ لیکن عزت و شرف کے لحاظ سے تمام قریش پر برتری رکھتا ہے، وہ خدیجہؑ کا خواستگار ہے، حضرت خدیجہؑ بھی اس کی طرف راغب ہے۔ جتنا مہر ہوگا، میں اپنے مال سے ادا کروں گا، خدا کے نزدیک اس کی بڑی عظمت ہے اور اس کا مستقبل نہایت ہی تابناک ہے۔“
خواستگاری اور نکاح کی رسوم ادا ہوگئیں اور بیس اونٹ مہر کے طور پر دیئے گئے۔ اور حضرت خدیجہ ؑ محمدؐ کے نکاح میں آگئیں۔ نکاح کے وقت حضرت محمدؐ کی عمر25اور خدیجہ ؑکی عمر40سال تھی۔آپ رسولؐ کی پہلی بیوی ہیں۔ حضرت خدیجہؑ کے جیتے جی رسولؐ نے دوسرا نکاح نہیں کیا۔ مبعوث بہ رسالت ہونے سے قبل حضرت خدیجہ ؑ کے بطن سے فاطمہ زہرا (س)، قاسم اور عبداللہ پیدا ہوئے۔
رسول اکرمؐ پر سب سے پہلے حضرت خدیجہؑ ایمان لائیں اور ہر طرح سے حضرت محمد ؐ کی حمایت کی۔ اگر مکہ کے بااثر مشرکین آپ ؐ کو ستاتے اور آپؐ کی باتوں کو جھٹلاتے تھے تو گھر میں آپ ؐکی مہربان وباوفا بیوی آپؐ کی غمگساری کرتی تھیں اور آپؐ کو استقامت و ثابت قدمی کی تشویق کرتی تھیں۔
آپ ؐمدتوں غار حراء کی تنہائی میں زندگی بسر کی اور ایک عظیم کارنامہ انجام دینے اور ایک تاریخی و بے نظیر پیغام پہنچانے کے لئے خود کو تیار کیا۔ غار کی تنہائی میں صرف خدا ہی ہمدم تھا اور گھر میں خدا کے علاوہ بھی آپ ؐکا ایک ہمراز تھا کہ جس سے قلبی اسرار بیان کرتے تھے۔
آخر کار وہ نازک لمحہ بھی آگیا جب وحی لے کر فرشتہ نازل ہوا اور کہا:
پڑھو! اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔پڑھو کہ تمہارا پروردگار باعظمت ہے۔ (سورہ علق/1-3)
گھر واپس آئے تو آپ ؐکا دل شدت کے ساتھ دھڑک رہا تھا۔ گھر کی تنہائی میں لیٹ گئے اور فرمایا:
”مجھے کچھ اڑھادو، مجھے کچھ اڑھادو۔“ کمبل اڑھادی گئی۔ تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد پہلی حالت پر لوٹ آئے۔ حضرت خدیجہ ؑنے عرض کی: ”خدا آپؐ کو ہر گز رسوا نہیں کرے گا۔ آپؐ صلہ رحم کرتے ہیں، بے نواؤں کی حمایت کرتے ہیں، مہمانوں کی عزت کرتے ہیں اور ہمیشہ حق کی پشت پناہی کرتے ہیں۔“
پھر آپؐ حضرت خدیجہ ؑکے ہمراہ ان کے چچازاد بھائی، ورقہ بن نوفل کے پاس گئے، وہ مسیحی تھے۔ عبرانی کتابوں کے عالم تھے۔ اس وقت اندھے ہو چکے تھے۔ خدیجہ ؑنے ان سے کہا:
بھائی اپنے بھتیجے کی بات سنئے۔
ورقہ نے کہا: بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟
رسول اکرم ؐنے جو کچھ دیکھا تھا، بیان کردیا۔ ورقہ نے کہا: یہ وہی ناموس اکبر ہے جو حضرت موسیٰ ؑ پر نازل ہوا تھا، کاش میں تمہاری حمایت کر سکتا۔ کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب یہ لوگ تمہیں مکہ سے نکالیں گے۔
کیونکہ جو چیز تم لائے ہو وہ کوئی نہیں لایا ہے۔ اگر میں زندہ رہا تو تمہاری مدد کرنے سے دریغ نہیں کروں گا۔
مختصر یہ کہ ورقہ، وحی کے فترت کے زمانہ میں چل بسے۔ رسولؐ حضرت خدیجہ ؑکے ساتھ ایک زمانہ تک خفیہ طور پر نماز پڑھتے رہے۔ عفیف کندی کہتے ہیں:
”میں زمانہ جاہلیت میں لباس اور عطر خریدنے کے لئے مکہ گیا، عباس بن عبدالمطلب سے بھی ملاقات کی۔ ظہر کا وقت تھا، میں نے دیکھا کہ کعبہ کے پاس ایک جوان آیا اور آسمان پر ایک نظر ڈالی، پھر کعبہ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس کے بعد ایک عورت آئی اور اس کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔ جوان رکوع میں گیا تو نوجوان اور عورت بھی رکوع میں جھک گئی۔ پھر بلند ہو کر سجدہ میں چلے گئے۔ میں نے عباس سے کہا: یہ تو میں عجیب چیز دیکھ رہا ہوں!
عباس نے کہا: عجیب چیز ہے، اس جوان کو پہچانتے ہو۔
میں نے کہا: نہیں۔
انہوں نے کہا: یہ میرا بھتیجا محمدبن عبداللہ بن عبدالمطلبؑ ہے اور یہ نوجوان جو بعد میں آیا ہے، اسے جانتے ہو؟
میں نے کہا: نہیں!۔
کہا: یہ میرا دوسرا بھتیجا علی بن ابی طالب ؑہے۔ اور اس عورت کو جانتے ہو؟
میں نے کہا: نہیں۔
کہا: یہ میرے بھتیجے کی بیوی حضرت خدیجہ ؑ ہے۔ محمدؐ کہتے ہیں کہ مجھے آسمان وزمین کے خدا نے اس دین پر رہنے کا حکم دیا ہے۔ روئے زمین پر صرف ان ہی تینوں آدمیوں نے یہ دین قبول کیا ہے۔
عفیف کہتے ہیں: میرا دل چاہا کہ میں ان کا چوتھا ہو جاؤں۔
رسول اکرمؐ، حضرت خدیجہ ؑکا بہت احترام کرتے تھے۔ وحی نازل ہونے سے پہلے بھی آپؐ نے کبھی حضرت خدیجہ ؑکی مخالفت نہیں کی تھی اور ان کے انتقال کے بعد انہیں بہت یاد کرتے تھے۔
دستورات اسلامی کی اشاعت کے سلسلہ میں حضرت خدیجہ ؑرسول ؐکا دایاں بازو تھیں۔ ہجرت سے تین سال قبل65سال کی عمر میں مکہ میں انتقال کیا۔ احتضار کے وقت رسولؐ ان کے پاس گئے اور فرمایا:
کیا موت ناپسند ہے؟موت تمہارے لئے بہتر ہے۔ دفن کے وقت رسولؐ قبر میں اترے اور اپنے دست مبارک سے حضرت خدیجہؑ کی لاش قبر میں اتاری۔ ان کے مرنے کے بعد رسولؐ پر بہت سے مصائب پڑے لیکن صبر و رضا کے ساتھ ان جان لیوا مصائب کو برداشت کیا۔
حضرت خدیجہ ؑباکمال اور متمول عورت تھیں۔ ان کی عقلمندی کے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ انہوں نے رسول خداؐ کی پیروی کی اور اسلام کے پایوں کے استحکام کے لئے اپنا سارا مال خرچ کردیا۔ وہ اولین مسلمان اور سب سے پہلی نمازی تھیں۔
مردوں میں سب سے پہلے حضرت علی بن ابی طالب ؑ نے اپنے اسلام کا اظہار کیا اور رسول اکرمؐ کے ساتھ نماز ادا کی۔ اس زمانے میں علی ؑ جوان تھے اور لحظہ بھر کے لئے رسولؐ اور خدیجہؑ سے جدا نہیں ہوتے تھے۔ آخر کار موت نے ان کے درمیان جدائی ڈال دی اور حضرت خدیجہ ؑ کو ان سے جدا کردیا۔
- Home
- خواتین کا نوائے اسلام
- حضرت خدیجہ ؑ زوجہ رسول اکرمؐ
حضرت خدیجہ ؑ زوجہ رسول اکرمؐ
-
Ilyas - مئی 1, 2020
- خواتین کا نوائے اسلام
- 9
- 1 minute read


































