
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ماحولیات ملک امین اسلم نے گلگت بلتستان میں گلاف حفاظتی پراجیکٹ فوری شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گرم موسمی حالات کے باعث گلگت بلتستان کے چند علاقوں میں گلاف کا خطرہ ہے، پگھلتے گلیشیئرز نے مقامی آبادی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ بگروٹ، یاسین، ہنزہ، نگر، شگر، گانچھے، گلگت کے علاقے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ معاون خصوصی برائے ماحولیات نے گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ ملک امین اسلم نے پگھلتے گلیشیئرز کو مقامی آبادی کے لیے سنگین خطرہ قرار دے دیا۔ ملک امین اسلم نے گلگت بلتستان میں گلاف حفاظتی پراجیکٹ فوری شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ اقوام متحدہ کے تعاون سے شروع ہوگا، منصوبے پر 6 ارب روپے کی لاگت آئیگی۔
معاون خصوصی برائے ماحولیات کا کہنا تھا کہ 3 ارب روپے کی لاگت سے 50 گلیشیئر مانیٹرنگ اسٹیشن قائم کریں گے، سیلابی پانی کی مانیٹرنگ کے لیے 400 خصوصی اسٹیشنز بھی قائم ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 1.5 ارب روپے براہ راست مقامی کمیونٹی کو فراہم کیے جائیں گے، پراجیکٹ کے تحت 10 لاکھ کے قریب مقامی افراد کو براہ راست فائدہ ہوگا۔ ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے گلیشیئرز کے پگھلاؤ کا عمل تیز ہو رہا ہے، 2015 میں خطرناک گلیشیئرز کی تعداد صرف 33 تھی، اس وقت خطرناک گلیشیئرز کی تعداد 133 ہو چکی ہے۔ معاون خصوصی برائے ماحولیات نے کہا کہ گلیشئرز کے پگھلاؤ سے ممکنہ نقصان پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں، مقامی آبادی کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنا حکومتی ترجیح ہے۔


































